Main Icon

باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 920

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِيضَ اَوِ الْمَيِّتَ فَقُوْلُوْاخَيْرًافَاِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُوْنَ عَلٰی مَا تَقُوْلُوْنَ قَالَتْ:فَلَمَّا مَاتَ اَبُوْ سَلَمَةَ اَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ:يَارَسُوْلَ اللهِ اِنَّ اَبَاسَلَمَةَ قَدْ مَاتَ قَالَ:قُوْلِي:اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَلَہُ وَاَعْقِبْنِيْ مِنْهُ عُقْبٰى حَسَنَةً فَقُلْتُ فَاَعْقَبَنِيَ اللهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ لِيْ مِنْهُ مُحَمَّدًاصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عن ام سلمة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:اذا حضرتم المريض او الميت فقولواخيرافان الملائكة يؤمنون علی ما تقولون قالت:فلما مات ابو سلمة اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت:يارسول الله ان اباسلمة قد مات قال:قولي:اللهم اغفر لي ولہ واعقبني منه عقبى حسنة فقلت فاعقبني الله من هو خير لي منه محمداصلى الله عليه وسلم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمَہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَابَیان کرتی ہیں کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جب تم بیمار یا مَیِّت کے پاس آؤ تو اچھی بات بولو(یعنی دُعا کرو)اس لئے کہ فرشتے تمہاری دُعاؤں پرآمین کہتے ہیں۔حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمَہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:جب(میرے شوہر)اَبُو سَلَمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاِنتقال کرگئے تو میں حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضِر ہوئی اورعَرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اَبُو سَلَمہ کا انتقال ہوگیا ہے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: یوں کہو:اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَلَهُ وَاَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبٰى حَسَنَةً(اےاللّٰہ! میری اور اَبُو سَلَمہ کی مغفرت فرما اورمجھے اس کا اچھا بدلہ عطا فرما)تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صُورت میں مجھےاَبُو سَلَمہ سےبہتر بدلہ عطا فرمایا۔

شرح حدیث

میت کے پاس دُنیا کی باتیں نہ کی جائیں:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: غالِبًا یہ شک راوِی کو ہے یعنی نبی کریمصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے مریض فرمایایا مَیِّت۔مریض سے مراد قریب الموت مریض ہے،خیر (یعنی اچھی بات بولنے)سے مُراد دُعائے شِفا اور دعائے مغفرت ہےاور اس سےمعلوم ہوا کہ ایسی حالت میں حاضِرین دُنیوی کلام نہ کریں،آخِر وقت تک دعائے شِفا کرسکتے ہیں،اَعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہنے وصیَّت کی تھی کہ میری جانکنی کے وقت اس حجرے(یعنی کمرے) میں ناپاک انسان،کُتّا،جاندار کا فوٹو یعنی نوٹ روپیہ پیسہ وغیرہ کچھ نہ ہو۔(اس حصۂحدیث’’فرشتے تمہاری باتوں پرآمین کہتے ہیں۔‘‘کے تحت فرماتے ہیں:) یعنی مَلَکُ الموت اور ان کے ساتھی ہر اس بات پر آمین کہہ دیتے ہیں جوتمہارے منہ سے نکلتی ہے۔مرنے والے کے پاس نیک لوگوں کا ہونا:عَلَّامَہ اَبُو عبدُ اللّٰہ مُحمّد بِن اَحمد قُرْطُبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینَقْل فرماتے ہیں:اس حدیث شریف میں بیمار یا مَیِّت کےلیے دُعا کرنے کی تعلیم ہے اوریہ بتایا گیا ہے کہ حاضِرین کی دُعا پر فرشتے آمین کہتے ہیں،اسی وجہ سے عُلَما نے اس بات کو مُسْتَحَب قرار دیا کہ مرنے والے شخص کے پاس صالِحین اور اَہلِِ خَیر موجود ہوں تاکہ وہ اسے(کَلِمہ شریف)یاد دِلائیں،اس کے لیے اور اس کے پَسْماندگان کے لیے دُعا کریں اور کَلِماتِ خَیر کہیں اور یوں ان کی دُعا اورفرشتوں کی آمین جمع ہوجائے اور مَیِّت اور اس کے پَسْماندگان فائدہ اُٹھائیں۔مدنی گلدستہ’’جنّت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے3مَدَنی پھول
(1) جب قریب الموت شخص کے پاس آئیں تو اُس وقت دُعائیں اور کَلِماتِ خَیر کہیں،بُرے کَلِمات اور دُنیوی گُفتگو نہ کریں کہ اُس وقت جو کچھ کہا جاتا ہے فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔
(2) جان کنی کے وقت کمرے میں کُتَّا اور جاندار کی تصویرنکال دیں کہ جہاں یہ ہوتے ہیں وہاں رحمت کے فَرِشتے نہیں آتےنیزتصویروں والے نوٹ یا سکے وغیرہ سامنے ہوں تو بہتر یہ ہے کہ انہیں بھی ہٹا دیں۔
(3) قریب الموت شخص کے پاس نیک پرہیزگار لوگوں کا ہونا مُسْتَحَب ہے تا کہ اسے ان کی دُعائیں حاصل ہوں اوران کی دُعاؤں میں فرشتوں کی آمین بھی شامل ہوجائے تواُس کا بیڑا پار ہوجائے ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دُعا ہے کہ وہ ہمیں قریبُ الموت شخص کے پاس اچھے کَلِمات کہنے اوراس کے لیے دُعائیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 920