Main Icon

باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 922

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ مُوْسٰى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِذَا مَاتَ وَلَدُ الْعَبْدِ قَالَ اللهُ تَعَالٰی لِمَلَائِكَتِهٖ:قَبَضْتُمْ وَلَدَ عَبْدِي؟فَيَقُوْلُوْنَ:نَعَمْ.فَيَقُوْلُ:قَبَضْتُمْ ثَمَرَةَ فُؤَادِهٖ؟فَيَقْوْلُوْنَ:نَعَمْ فَيَقُوْلُ: فَمَاذَا قَالَ عَبْدِيْ؟فَيَقُوْلُوْنَ:حَمِدَكَ وَاسْتَرْجَعَ فَيَقُوْلُ اللهُ تَعَالَی:ابْنُوْا لِعَبْدِيْ بَيْتًافِيْ الْجَنَّةِ وَسَمُّوْهُ بَيْتَ الْحَمْدِ.

عن ابی موسى رضي الله عنه: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:اذا مات ولد العبد قال الله تعالی لملائكته:قبضتم ولد عبدي؟فيقولون:نعم.فيقول:قبضتم ثمرة فؤاده؟فيقولون:نعم فيقول: فماذا قال عبدي؟فيقولون:حمدك واسترجع فيقول الله تعالی:ابنوا لعبدي بيتافي الجنة وسموه بيت الحمد.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنااَبُو مُوسیٰ اَشْعَرِیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جب کسی آدَمی کے بچے کا اِنتقال ہوجاتاہے تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاپنے فرشتوں سے فرماتاہے: کیا تم نے میرے بندے کے بچے کی رُوح قَبض کرلی ؟فرشتے عَرض کرتے ہیں: ہاں! تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّفرماتاہے: کیا تم نے اس کے دِل کا ٹکڑا لے لیا؟فرشتے عَرْض کرتے ہیں:ہاں! تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّفرماتا ہے:تو پھر میرے بندے نے کیا کہا؟ فَرِشتے عَرْض کرتے ہیں:اس نے تیری حَمْد کی اوراِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنپڑھا۔ تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّفرماتاہے:” میرے اس بندے کے لئے جنّت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نامبَیْتُ الْحَمْدرکھو۔“

شرح حدیث

جنّتی مَحلات کی دو اَقسام:مرآۃ المناجیح میں ہے:یہ سُوال وجواب ان فَرِشتوں سے (ہوتا)ہےجو مَیِّت کی رُوح بارگاہِ اِلٰہی میں لے جاتے ہیں ۔اِس سُوال سے انہیں گواہ بنانا مقصود ہے ورنہ ربّ تعالیٰ توعَلِیم وخَبِیر ہے۔ خیال رہے کہ جنّت میں بعض محل ربّ کی طرف سے پہلے ہی بَن چکے ہیں اور بعض انسان کے اَعمال پر بنتے ہیں یہاں اس دوسرے محلّ کا ذِکْر ہے جیسے یہاں مکانوں کے نام کاموں سے ہوتے ہیں ویسے ہی وہاں محلّات کے نام اَعمال سے ہیں۔مدنی گلدستہ’’ غوث‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) جو شخص اپنی اَولاد کے اِنتقال پرصبْر کرتے ہوئے
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حَمْد کرے اوراِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآاِلَیْہِ رَاجِعُوْنپڑھے تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کے لیے جنّت میںبَیتُ الْحَمْدنامی محل تیار فرماتا ہے۔
(2) جنّت میں بعض محل ربّ کی طرف سے پہلے ہی بَن چکے ہیں اوربعض انسان کے اَعمال پر بنتے ہیں اور
بَیتُ الْحَمْدکاتعلق بھی اس دوسری قِسْم کےمحلات سے ہے۔
(3)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا فَرِشتوں سے کوئی بات پوچھنے کی یہ وجہ نہیں ہوتی کہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکومَعَاذَ اللّٰہاس بات کا عِلْم نہیں ہے بلکہ اس پوچھنے میں کئی حکمتیں ہوتی ہیں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دُعا ہے کہ وہ ہمیں اولاد اور عزیز وں دوستوں کے اِنتِقال پر حَمْدکرنے اوراِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآاِلَیْہِ رَاجِعُوْنپڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 922