Main Icon

باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 602

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عِيَاضِ بنِ حِمَارٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم:اِنَّ اللهَ اَوْحٰى اِلَيَّ اَنْ تَوَاضَعُوا حَتّٰى لَا يَفْخَرَ اَحَدٌ عَلٰی اَحَدٍ وَلَا يَبْغِي اَحَدٌ عَلَى اَحَدٍ.

عن عياض بن حمار رضی اللہ عنہ قال:قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:ان الله اوحى الي ان تواضعوا حتى لا يفخر احد علی احد ولا يبغي احد على احد.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَاعیاض بن حِماررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”بیشکاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے میری طرف وحی فرمائی کہ تَواضُع اختیار کرو،یہاں تک کہ کوئی شخص کسی دوسرے پر فخر نہ کرے اور نہ ہی کوئی کسی پر زیادتی کرے ۔“

شرح حدیث

عجز و اِنکساری کے دِینی و دُنیاوی فوائد:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’حضرت سَیِّدُنَاحسن بصریرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکافرمان ہے کہ تواضع یہ ہے کہ جب انسان گھر سے نکلے تو ملنے والے ہر مسلمان کو خود سے افضل جانے۔حضرت سَیِّدُنَاابو زیدرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ”جب تک انسان یہ گُمان رکھے کہ مخلوق میں اس سے کمتر بھی کوئی موجود ہے تو وہ متکبر ہے ۔“ علامہ قرطبیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکا قول ہے کہ انکساری اور عاجزی کا نام تواضُع ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ کوئی ایساہو جس کے سامنے وہ تواضع کرے اور وہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی ذات ہے اور وہ لوگ ہیں جن کے لئے تواضع اختیار کرنے کا حکم خوداللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنےدیاہےجیسے،امامُ الانبیاء ،محمد مُصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، حاکِم ،عالِم، امام اور والِد وغیرہ ۔یہی وہ قابلِ تعریف تواضع ہے جو دونوں جہاں میں بلندی وعظمت کا باعث بنتی ہے۔ رضائے الٰہی کے لئے مسلمانوں کےسامنےعاجزی کرنا مَحمود ومُستحب ہےاور جو اس طرح تواضع کرےگااللّٰہ عَزَّ وَجَلَّلوگوں کے دِلوں میں اِس کی قدر ومنزلت پیدا فرما دے گا، اس کا اچھا تذکرہ ہوگا اور آخرت میں اس کا مقام بلندہوگا ۔ خیال رہے کہ کسی دنیا دار اور ظالِم کے سامنے عاجزی کرناذِلَّت و ناکامی ہےجو ایسا کرے گا وہ ہر معاملے میں نقصان اٹھائے گا اور آخرت میں اس کی رُسوائی ہوگی۔منقول ہےکہ ”جس نے کسی مالدار کے لئے اس کی مالداری کی وجہ سے تواضع اختیار کی اس کے دِین کا تہائی حصہ ضائع ہو گیا۔“کفار پر فخر کرنا عبادت ہے :مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:” یعنی عجز و اِنکساری اختیارکرو تاکہ کوئی مسلمان کسی مسلمان پر تکبر نہ کرے نہ مال میں نہ نسب و خاندان میں نہ عزت یا جتھہ میں اور کوئی مسلمان کسی بندے پر ظلم نہ کرے نہ مؤمن پر نہ کافر پر ظلم سب پر حرام ہے مگر کِبر و فخر مسلمان پر حرام ہے کفار پر فخر کرنا عبادت ہے کہ یہ نعمتِ ایمان کا شکر ہے۔“مدنی گلدستہ’’چل مدینہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) تواضع یہ ہے کہ جب انسان گھر سے نکلے تو ملنے والے ہر مسلمان کو خود سے افضل سمجھے ۔
(2) جب تک انسان یہ گمان کرے کہ مخلوق میں اس سے کمتر انسان ہیں تو وہ متکبر ہے ۔
(3) تواضع کرنے والے کے لئے
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّلوگوں کے دلوں میں مقام و مرتبہ پیدا فرما دیتا ہے اور لوگوں میں اس کا اچھا تذکرہ ہوتا ہے اور آخرت میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس کوبلندمقام عطا فرمائےگا۔
(4) دنیا دار اور ظالِم کے لئے تواضع اختیار کرنے والا دنیا و آخرت میں ذِلت و خواری اٹھائےگا۔
(5) کوئی شخص اپنے اچھے اَخلاق اور اچھی خوبیوں کی وجہ سے کسی دوسرے پر فخر نہ کرے کہ اصل کے لحاظ سے تمام انسان برابر ہیں ۔
(6) جس نے
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے عجز و اِنکساری کو اختیار کیا گویا کہ اس نے اپنے اور ظلم و فساد اور عِناد کے درمیان رُکاوٹ کھڑی کردی۔
(7) کفار پر فخر کرنا عبادت ہے کہ یہ نعمتِ ایمان کا شکر ہے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں عجز واِنکساری اختیار کرنے اور غرور و تکبر سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 602