Main Icon

باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 604

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَن اَنَسٍ رَضِيَ الله عَنْهُ اَنَّهُ مَرَّ عَلٰی صِبْيَانٍ،فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ،وَقَالَ:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ.

عن انس رضي الله عنه انه مر علی صبيان،فسلم عليهم،وقال:كان النبي صلى الله عليه وسلم يفعله.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبچوں کے پاس سے گزر ے تو انہیں سلام کیا اورفرمایا: ’’حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی یوں ہی کیا کرتےتھے ۔‘‘

شرح حدیث

حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی اِنکساری:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ مذکورمیں حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اَخلاقِ حَسنہ اور تواضع و اِنکساری کا بیان ہےکہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب بچوں کے پاس سے گزرتے تو خود انہیں سلام کرتے۔شہنشاہِ کائنات،فخرِموجودات اور تمام مخلوق میں سب سے افضل ہونے کے باوجودخود آگے بڑھ کرسلام کرنا وہ بھی بچوں کو ،یہ بہت عظیم عاجزی واِنکساری اور بچوں پراِنتہائی شفقت کی علامت ہے۔ اِس حدیثِ پاک سے یہ بھی معلوم ہواکہ صحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناپنے پیارے آقا،مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےہرعمل کوبغوردیکھتے اور پھر اُس پر عمل پیرا ہونے کی بھر پور کوشش کرتے۔بچوں کو آدابِ شریعت سکھاؤ:عَلَّامَہ اَبُو الْعَبَّاس شَہَابُ الدِّیْن اَحْمَدْ قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانیِفرماتے ہیں:”حضورنبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبچوں کو آدابِ شریعت سِکھانے کے لئے اُنہیں سلام کیا کرتے تھے اور بچوں کو سلام کرنے میں تواضع،اِنکساری اور نرمی بھی ہے۔ اگر بچے کو سلام کیا تو اُس بچے پر سلام کا جواب دینا واجب نہیں کیونکہ نابالغ بچہمُکَلَّفْنہیں ہوتااور اگر ایک جماعت پر سلام کیا اور اُس میں بچے بھی ہیں اور سلام کا جواب بچوں نے دیا تو بقیہ جماعت پر سے سلام کا جواب ساقط نہ ہوگا اور بچے نے کسی بالغ کو سلام کیا تواُس پر سلام کا جواب دینا واجب ہے۔‘‘بچوں کے ساتھ خوش طبعی:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا بچوں کوسلام کرنا یہ آپ کے اچھے اخلاق میں سے ہے اور اس میں بچوں کے لئے سنتوں و آدابِ شریعت کی تعلیم ہے کہ وہ سیکھیں اورعمل کریں ۔عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذِی الْجَلَالفرماتے ہیں:”کبھی کبھی نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبچوں کے ساتھ خوش طبعی فرمایا کرتے تھےاور بچوں کے ساتھ مزاح و خوش طبعی کرنے سےاِنسان کا نفس تواضع کرنے پر تابع ہوتا اور تکبر کی نفی کرتا ہے ۔“شہنشاہِ رسالت کی شانِ تواضُع کا عالم:حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمجب فاتحانہ حیثیت سے مکہ میں داخل ہونے لگے تو آپ اپنی مبارک اونٹنی ’’قَصواء‘‘ پر سوار تھے۔سیاہ رنگ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے۔آپ کے ایک جانب حضرت ابوبکر صدیق اور دوسری جانب اُسید بن حُضَیررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاتھے اور آپ کے چاروں طرف جوش میں بھرا ہوا اور ہتھیاروں میں ڈوبا ہوا لشکر تھا۔ اِس شان و شوکت کو دیکھ کر ابوسفیان نے حضرت عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے کہا کہ اے عباس! تمہارا بھتیجا تو بادشاہ ہوگیا۔حضرت عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے جواب دیا کہ اے ابوسفیان!یہ بادشاہت نہیں ہے بلکہ نبوت ہے۔ اس شاہانہ جلوس کے جاہ و جلال کے باوجود شہنشاہِ رِسالتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شانِ تواضع کا یہ عالَم تھا کہ آپ ”سورهٔ فتح“ کی تلاوت فرماتے ہوئے اس طرح سرجھکائے ہوئے اونٹنی پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کا سر اونٹنی کے پالان سے لگ جاتا تھا۔ آپصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی یہ کیفیتِ تواضع، خداوندِ قدوس کا شکر ادا کرنے اور اس کی بارگاہِ عظمت میں اپنے عجزونیازمندی کا اظہار کرنے کے لئے تھی۔مدنی گلدستہلفظ’’اللّٰہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبچوں کو آدابِ شریعت سِکھانے کے لئے انہیں سلام کیا کرتے تھے۔
(2) حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا بچوں کو سلام کرنا آپ کے اچھے اخلاق سے ہے۔
(3) بچوں کے ساتھ مِزاح و خوش طبعی کرنے سےانسان کا نفس تواضع کرنے پر تابع ہو تا اور تکبر کی نفی کرتا ہے ۔
(4) بچوں کو دِینِ اسلام کی تربیت دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کو عمل کر کے دکھایا جائے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں شریعتِ مُطَہَّرَہ پر عمل کرنے اور حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 604