Main Icon

باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 603

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زادَ اللهُ عَبْدًا بعَفْوٍ اِلَّا عِزًّا،وَمَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلهِ اِلَّا رَفَعَهُ اللهُ.

عن ابي هريرةرضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:ما نقصت صدقة من مال، وما زاد الله عبدا بعفو الا عزا،وما تواضع احد لله الا رفعه الله.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور درگُزر کرنے سےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّعزت میں اضافہ ہی فرماتا ہے اور جو شخصاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے تواضع اختیار کرےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے بلندی عطا فرماتا ہے ۔“

شرح حدیث

دنیا و آخرت میں بلندی :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا۔‘‘ اس کی دو وجہیں ہیں:*ایک معنیٰ یہ کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس کے مال میں برکت عطا فرماتا ہے اور نقصان دینے والی چیزوں کو اُس سے دُور فرماتا ہے اور مال میں ہونے والی ظاہری کمی کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّپوشیدہ برکت کے ذریعے پوری فرمادیتا ہے۔*دوسرا معنیٰ یہ کہ صدقہ کرنے سے مال میں جو کمی واقع ہوئیاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس کے بدلے آخرت میں ثواب عطا فرما کر اس کمی کو پورا فرما دے گا ۔’’درگزر کرنے سےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّعزت میں اضافہ فرماتا ہے۔‘‘ اس کی بھی دو جہتیں ہیں:*ایک تو اس کا ظاہری معنیٰ ہے کہ جس شخص کی خطا کو معاف کیا جائے اس کے دل میں معاف کرنے والے کے لئے عزت و اِحترام بڑھ جاتا ہے*اور دوسری وجہ یہ ہے کہ معاف کرنے والے کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّآخرت میں اجر وثواب دے گا اور اُس کی عزت آخرت میں بڑھائے گا ۔’’جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے لئے تواضع اختیار کرےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے بلندی عطا فرماتا ہے۔‘‘اس میں بھی دو جہتیں ہیں:*ایک یہ کہ دنیا میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے بلند فرمائےگا اورتواضع کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں اس کی قدرو منزلت بلند فرمائے گا۔*دوسری وجہ یہ ہے کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے آخرت میں ثواب اور بلندی عطا فرمائے گا۔“خودداری کے ساتھ انکساری:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: (صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا )خیرات مال کم نہیں کرتی بلکہ مال بڑھاتی ہے، زکوٰۃ دینے والے کی زکوٰۃ ہر سال بڑھتی ہی رہتی ہے۔تجربہ ہے جو کسان کھیت میں بیج پھینک آتا ہے وہ بظاہر بوریاں خالی کرلیتا ہے لیکن حقیقت میں مع اضافہ کے بھر لیتا ہے،گھر کی رکھی بوریاں چوہے،سُسری وغیرہ آفات سے ہلاک ہوجاتی ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ جس مال میں سے صدقہ نکلتا رہے اس میں سے خرچ کرتے رہوان شآءا اللّٰہبڑھتا ہی رہے گا،کنوئیں کا پانی بھرےجاؤ تو بڑھے ہی جائے گا۔(اور درگزر کرنے سےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّعزت میں اضافہ فرماتا ہے) یعنی جو بدلہ پر قادر ہو پھر مجرم کو معافی دے دے تو اس سے مجر م کے دل میں اس کی اطاعت اور محبت پیدا ہوجاتی ہے اور اگر بدلہ لیا جائے تو اس کے دل میں بھی انتقام کی آگ بھڑک جاتی ہے۔فتحِ مکہ کے دن کی عام معافی سے سارے کفار مسلمان ہوکر حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے مطیعِ فرمان ہوگئے،معافی سے دلوں پر قبضے ہوجاتے ہیں مگر معافی اپنے حقوق میں چاہیے نہ کہ شرعی حقوق میں۔قومی، ملکی،دینی مجرموں کو کبھی معاف نہ کرو اپنے مجرم کو معاف کردو۔(جوشخصاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے تواضع اختیار کرتا ہےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے بلندی عطا فرماتا ہے) انکساری جو خود داری کے ساتھ ہو وہ بڑی بہتر ہے اس کا انجام بلندیٔ درجات ہے مگر بے غیرتی کی انکساری، انکساری نہیں بلکہ اِحساسِ پستی ہے،جہاد میں کفار کے مقابل فخر کرنا عبادت ہے ،مسلمان بھائی کے سامنے جھکنا ثواب(فرمانِ باری تعالیٰ ہے:) (اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ)(پ۲۶،الفتح:۲۹) (ترجمۂ کنزالایمان: کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل۔)مدنی گلدستہ’’ مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) صدقات وخیرات سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتاہے اور اس میں برکت دے دی جاتی ہے۔
(2) جو عَفْو ودرگُزر سے کام لے
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّدنیا و آخرت میں اس کی عزت بڑھاتا ہے ۔
(3) معاف کرنے سے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے لیکن معافی اپنے حقوق میں ہونی چاہیے نہ کہ شرعی حقوق میں۔
(4) دینی ،قومی مجرموں کو اُن کے جرم کی شرعی سزا ضرورملنی چاہیے تاکہ جرائم کا خاتمہ ہو۔
(5) رضائے الٰہی کے لئے اپنے مسلمان بھائی کے سامنے عاجزی اختیار کرنا بلندیٔ درجات کا باعث ہے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں صدقہ وخیرات کرنے ، اپنے مسلمان بھائیوں کو معاف کرنے اور عاجزی وانکساری اختیارکرنے کی توفیق عطافرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 603