- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- حدیث نمبر 1159
باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1159
جلد 7
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ سَعْدِ بنِ اَبي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم مِنْ مَكَّةَ نُرِيْدُ الْمَدِينَةَ فَلَمَّا كُنَّا قَرِيْبًا مِن عَزْوَرَا نَزَلَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا اللَّهَ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيْلاً ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا¬ فَعَلَهُ ثَلَاثًا¬ وَقَالَ:اِنِّيْ سَاَلْتُ رَبِّيْ وَشَفَعْتُ لِاُمَّتِيْ فَاَعْطَانِيْ ثُلُثَ اُمَّتِيْ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا ثُمَّ رَفَعْتُ رَاْسِيْ فَسَاَلْتُ رَبِّي لِاُمَّتِيْ فَاَعْطَانِيْ ثُلَثَ اُمَّتِيْ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّيْ شُكْرًا ثُمَّ رَفَعْتُ رَاْسِيْ فَسَاَلْتُ رَبِّي لِاُمَّتِيْ فَاَعْطَانِيَ الثُّلُثَ الْآخَرَفَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّيْ.
عن سعد بن ابي وقاص رضي الله عنه قال:خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من مكة نريد المدينة فلما كنا قريبا من عزورا نزل ثم رفع يديه فدعا الله ساعة ثم خر ساجدا فمكث طويلا ثم قام فرفع يديه ساعة ثم خر ساجدا¬ فعله ثلاثا¬ وقال:اني سالت ربي وشفعت لامتي فاعطاني ثلث امتي فخررت ساجدا لربي شكرا ثم رفعت راسي فسالت ربي لامتي فاعطاني ثلث امتي فخررت ساجدا لربي شكرا ثم رفعت راسي فسالت ربي لامتي فاعطاني الثلث الآخرفخررت ساجدا لربي.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ مکہ سے مدینہ جانے کے لیے نکلے ،جب ہم مقامِ عزورا کے قریب پہنچے تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسواری سے نیچے تشریف لائے اپنے ہاتھ مبارک اٹھا کر کچھ دیراﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا کی پھر سجدے میں چلے گئے،کافی دیر سجدہ کیا،پھر کھڑے ہو ئے اور اپنے مبارک ہاتھوں کو کچھ دیر کے لئے اٹھایاپھر سجدے میں چلے گئے ،تین مرتبہ اسی طرح کیاپھر ارشاد فر مایا:میں نے اپنے رب سے اپنی امت کی شفاعت کے لئے سوال کیا تواﷲ عَزَّ وَجَلَّنے میری امت کا تیسرا حصہ مجھے عطا فرمادیا،میں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔پھر میں نے سر اٹھایااور اپنی امت کے لئے سوال کیا تواﷲ عَزَّ وَجَلَّنے امت کے تیسرے حصے کے متعلق میری شفاعت قبول فرمائی تو میں نے سجدۂ شکر ادا کیا پھر میں نے سر اٹھایا اور اپنی امت کے متعلق سوال کیا تواﷲ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے میری امت کا بقیہ تیسرا حصہ بھی عطا فرما دیاپس میں نے اپنے رب کی بارگاہ میں سجدہ ادا کیا۔
شرح حدیث
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں سجدۂ شکر کا بیان ہےاور اس بات کا بیان ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ربّ تعالیٰ سے اپنی امت کی شفاعت کی دعا فرمائی ،اﷲ عَزَّ وَجَلَّنے دعا قبول فرمائی تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دعا قبول ہونے کے شکرانے میں سجدۂ شکر ادا فرمایا۔مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: عزوزا مقامِ حجفہ میں ایک خشک پہاڑی کا نام ہے،چونکہ یہاں پتھریلی اورسخت زمین ہے،پانی بہت کم ہے اس لیے اسےعزوزا کہتے ہیں اورعزوزااونٹنی ہے جس کا دودھ سختی سے دوہا جاتاہے،سخت دھار ہو۔عزوزا میں حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا اترنا ٹھہرنے کے ارادے سے نہ تھابلکہ بذریعۂ وحی حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو بتایا گیا کہ جنگل برکت والا ہےیہاں دعاکریں،لہٰذا دعا کے لیے اترے۔خیال رہے کہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکایہاں پہلا سجدہ دعا کے لیے تھا کیونکہ سجدے میں دعاجلدی قبول ہوجاتی ہے۔باقی سجدے دعا کے لیےبھی تھے اورشکریہ کے بھی،آخری سجدہ صرف شکریہ کا تھا اس لیے یہ حدیث اس باب میں لائی گئی یا یہ سب سجدے شکر کے تھے،دعائیں تو بیٹھ کر ہاتھ اٹھاکر مانگی گئیں،دوسرا احتمال قوی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ دعا میں ہاتھ اٹھانا اور آہستہ مانگنا سنت ہے۔یہاں حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اپنی امت کے گناہوں کی مغفرت،ان کی عیب پوشی اور بلندیٔ مراتِب وغیرہ تمام چیزوں کی دعائیں کی،رب نے ترتیب وارتمام اُمَّت کی بخشش وغیرہ کا وعدہ فرمالیا۔پہلی بارمیںسَابِقِیْنَ بِالْخَیْرَات،دوسری بار میںمُقْتَصِدِیْن،تیسری میں ہم جیسے ظالمین،عاصین گناہگار بخشے گئے،اب مومن کے لیے جہنم میں ہمیشگی نہ ہوگی۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ کوئی بھی حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی شفاعت کے بغیر رب کی رحمت نہیں پاسکتا۔جو ملے گا حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی اس دعا کا صدقہ ملے گا۔نیک اَبرارکو پہلی دعا کا صدقہ،مخلوط اعمال والوں کو دوسری دعا کا توسُّل،بدکار و فُجار کوتیسری دعا سے حصہ ملے گا۔دوسرے یہ کہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمﷲ کے ایسے محبوب ہیں کہ ضد کر کے، ناز کرکے اپنی امت بخشالیتےہیں۔ہم گنہگاروں کو حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی اس محبوبیت پر ناز ہے۔ شعر
چہ غم دیوارِ اُمَّت راکہ داردچوں تو پُشتی باں چہ باک از موج بحرآن راکہ داردنوح کشتی باں
(ترجمہ:دیوارِ اُمَّت کو کیا غم وفکر ہے جبکہ یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ اس کےسہارا ہیں ۔سمندر کی موجوں سے اُسے کیا خطرہ ہے جس کی کشتی کے محافظ ونگہبان حضرت نوحعَلَیْہِ السَّلَامہوں۔)
ہم بُرے ہیں مگر بفضلہٖ تعالیٰ اسی اچھے کے ہیں،صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّم۔خیال رہے کہ پہلی بار والے بغیرحساب وکتاب جنتی ہیں،دوسری باروالے کچھ جھڑک وعتاب کے بعد،تیسری باروالے یا کچھ عذاب پاکر یامعافی پاکر۔خوشی کی خبر پہنچنے پر سجدۂ شکر:حضرت سَیِّدُنا ابوبکرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو جب کوئی خوشی کی خبر پہنچتی یا آپ خوش ہوتے توسجدۂ شکر ادا کرتے۔سجدۂ شکر کا طریقہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سجدۂ شکراورسجدۂ تلاوت کا ایک ہی طریقہ ہے۔صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُ الطَّرِیْقَہ،حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیاس کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’سجدہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کھڑا ہو کراﷲ اَکْبَرْکہتا ہوا سجدہ میں جائے اور کم سے کم تین بارسُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰیکہے، پھراﷲ اَکْبَرْکہتاہوا کھڑا ہو جائے، پہلے پیچھے دونوں باراﷲ اَکْبَرْکہنا سنت ہے اور کھڑے ہو کر سجدہ میں جانا اور سجدہ کے بعد کھڑا ہونا یہ دونوں قیام مستحب۔‘‘مدنی گلدستہ’’سجدہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) اولاد پیدا ہوئی یا مال حاصل ہوا یا گمی ہوئی چیز مل گئی یا مریض نے شفا پائی یا مُسافر واپس آیا غرض کسی بھی نعمت کےملنےپر سجدۂ شکرادا کرنا مستحب ہے۔
(2) دعا میں ہاتھ اٹھانا اور آہستہ مانگنا سنت ہے۔
(3) حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی دعا میں امت کے گناہوں کی مغفرت،ان کی عیب پوشی اور بلندیٔ مراتِب وغیرہ تمام چیزوں کی دعائیں کی۔
(4) مومن کے لیے جہنم میں ہمیشگی نہ ہوگی۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں نعمت کے حصول پر سجدۂ شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1159