Main Icon

باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1159

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ سَعْدِ بنِ اَبي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم مِنْ مَكَّةَ نُرِيْدُ الْمَدِينَةَ فَلَمَّا كُنَّا قَرِيْبًا مِن عَزْوَرَا نَزَلَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا اللَّهَ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيْلاً ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا¬ فَعَلَهُ ثَلَاثًا¬ وَقَالَ:اِنِّيْ سَاَلْتُ رَبِّيْ وَشَفَعْتُ لِاُمَّتِيْ فَاَعْطَانِيْ ثُلُثَ اُمَّتِيْ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا ثُمَّ رَفَعْتُ رَاْسِيْ فَسَاَلْتُ رَبِّي لِاُمَّتِيْ فَاَعْطَانِيْ ثُلَثَ اُمَّتِيْ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّيْ شُكْرًا ثُمَّ رَفَعْتُ رَاْسِيْ فَسَاَلْتُ رَبِّي لِاُمَّتِيْ فَاَعْطَانِيَ الثُّلُثَ الْآخَرَفَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّيْ.

عن سعد بن ابي وقاص رضي الله عنه قال:خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من مكة نريد المدينة فلما كنا قريبا من عزورا نزل ثم رفع يديه فدعا الله ساعة ثم خر ساجدا فمكث طويلا ثم قام فرفع يديه ساعة ثم خر ساجدا¬ فعله ثلاثا¬ وقال:اني سالت ربي وشفعت لامتي فاعطاني ثلث امتي فخررت ساجدا لربي شكرا ثم رفعت راسي فسالت ربي لامتي فاعطاني ثلث امتي فخررت ساجدا لربي شكرا ثم رفعت راسي فسالت ربي لامتي فاعطاني الثلث الآخرفخررت ساجدا لربي.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ مکہ سے مدینہ جانے کے لیے نکلے ،جب ہم مقامِ عزورا کے قریب پہنچے تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسواری سے نیچے تشریف لائے اپنے ہاتھ مبارک اٹھا کر کچھ دیراﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا کی پھر سجدے میں چلے گئے،کافی دیر سجدہ کیا،پھر کھڑے ہو ئے اور اپنے مبارک ہاتھوں کو کچھ دیر کے لئے اٹھایاپھر سجدے میں چلے گئے ،تین مرتبہ اسی طرح کیاپھر ارشاد فر مایا:میں نے اپنے رب سے اپنی امت کی شفاعت کے لئے سوال کیا تواﷲ عَزَّ وَجَلَّنے میری امت کا تیسرا حصہ مجھے عطا فرمادیا،میں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔پھر میں نے سر اٹھایااور اپنی امت کے لئے سوال کیا تواﷲ عَزَّ وَجَلَّنے امت کے تیسرے حصے کے متعلق میری شفاعت قبول فرمائی تو میں نے سجدۂ شکر ادا کیا پھر میں نے سر اٹھایا اور اپنی امت کے متعلق سوال کیا تواﷲ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے میری امت کا بقیہ تیسرا حصہ بھی عطا فرما دیاپس میں نے اپنے رب کی بارگاہ میں سجدہ ادا کیا۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں سجدۂ شکر کا بیان ہےاور اس بات کا بیان ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ربّ تعالیٰ سے اپنی امت کی شفاعت کی دعا فرمائی ،اﷲ عَزَّ وَجَلَّنے دعا قبول فرمائی تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دعا قبول ہونے کے شکرانے میں سجدۂ شکر ادا فرمایا۔مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: عزوزا مقامِ حجفہ میں ایک خشک پہاڑی کا نام ہے،چونکہ یہاں پتھریلی اورسخت زمین ہے،پانی بہت کم ہے اس لیے اسےعزوزا کہتے ہیں اورعزوزااونٹنی ہے جس کا دودھ سختی سے دوہا جاتاہے،سخت دھار ہو۔عزوزا میں حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا اترنا ٹھہرنے کے ارادے سے نہ تھابلکہ بذریعۂ وحی حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو بتایا گیا کہ جنگل برکت والا ہےیہاں دعاکریں،لہٰذا دعا کے لیے اترے۔خیال رہے کہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکایہاں پہلا سجدہ دعا کے لیے تھا کیونکہ سجدے میں دعاجلدی قبول ہوجاتی ہے۔باقی سجدے دعا کے لیےبھی تھے اورشکریہ کے بھی،آخری سجدہ صرف شکریہ کا تھا اس لیے یہ حدیث اس باب میں لائی گئی یا یہ سب سجدے شکر کے تھے،دعائیں تو بیٹھ کر ہاتھ اٹھاکر مانگی گئیں،دوسرا احتمال قوی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ دعا میں ہاتھ اٹھانا اور آہستہ مانگنا سنت ہے۔یہاں حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اپنی امت کے گناہوں کی مغفرت،ان کی عیب پوشی اور بلندیٔ مراتِب وغیرہ تمام چیزوں کی دعائیں کی،رب نے ترتیب وارتمام اُمَّت کی بخشش وغیرہ کا وعدہ فرمالیا۔پہلی بارمیںسَابِقِیْنَ بِالْخَیْرَات،دوسری بار میںمُقْتَصِدِیْن،تیسری میں ہم جیسے ظالمین،عاصین گناہگار بخشے گئے،اب مومن کے لیے جہنم میں ہمیشگی نہ ہوگی۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ کوئی بھی حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی شفاعت کے بغیر رب کی رحمت نہیں پاسکتا۔جو ملے گا حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی اس دعا کا صدقہ ملے گا۔نیک اَبرارکو پہلی دعا کا صدقہ،مخلوط اعمال والوں کو دوسری دعا کا توسُّل،بدکار و فُجار کوتیسری دعا سے حصہ ملے گا۔دوسرے یہ کہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمﷲ کے ایسے محبوب ہیں کہ ضد کر کے، ناز کرکے اپنی امت بخشالیتےہیں۔ہم گنہگاروں کو حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی اس محبوبیت پر ناز ہے۔ شعر
چہ غم دیوارِ اُمَّت راکہ داردچوں تو پُشتی باں چہ باک از موج بحرآن راکہ داردنوح کشتی باں
(ترجمہ:دیوارِ اُمَّت کو کیا غم وفکر ہے جبکہ یارسولَ
اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ اس کےسہارا ہیں ۔سمندر کی موجوں سے اُسے کیا خطرہ ہے جس کی کشتی کے محافظ ونگہبان حضرت نوحعَلَیْہِ السَّلَامہوں۔)
ہم بُرے ہیں مگر بفضلہٖ تعالیٰ اسی اچھے کے ہیں،
صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّم۔خیال رہے کہ پہلی بار والے بغیرحساب وکتاب جنتی ہیں،دوسری باروالے کچھ جھڑک وعتاب کے بعد،تیسری باروالے یا کچھ عذاب پاکر یامعافی پاکر۔خوشی کی خبر پہنچنے پر سجدۂ شکر:حضرت سَیِّدُنا ابوبکرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو جب کوئی خوشی کی خبر پہنچتی یا آپ خوش ہوتے توسجدۂ شکر ادا کرتے۔سجدۂ شکر کا طریقہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سجدۂ شکراورسجدۂ تلاوت کا ایک ہی طریقہ ہے۔صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُ الطَّرِیْقَہ،حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیاس کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’سجدہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کھڑا ہو کراﷲ اَکْبَرْکہتا ہوا سجدہ میں جائے اور کم سے کم تین بارسُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰیکہے، پھراﷲ اَکْبَرْکہتاہوا کھڑا ہو جائے، پہلے پیچھے دونوں باراﷲ اَکْبَرْکہنا سنت ہے اور کھڑے ہو کر سجدہ میں جانا اور سجدہ کے بعد کھڑا ہونا یہ دونوں قیام مستحب۔‘‘مدنی گلدستہ’’سجدہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) اولاد پیدا ہوئی یا مال حاصل ہوا یا گمی ہوئی چیز مل گئی یا مریض نے شفا پائی یا مُسافر واپس آیا غرض کسی بھی نعمت کےملنےپر سجدۂ شکرادا کرنا مستحب ہے۔
(2) دعا میں ہاتھ اٹھانا اور آہستہ مانگنا سنت ہے۔
(3) حضور نبی پاک
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی دعا میں امت کے گناہوں کی مغفرت،ان کی عیب پوشی اور بلندیٔ مراتِب وغیرہ تمام چیزوں کی دعائیں کی۔
(4) مومن کے لیے جہنم میں ہمیشگی نہ ہوگی۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں نعمت کے حصول پر سجدۂ شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1159