Main Icon

امربالمعروف ونہی عن المنکر - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 184

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : مَنْ رَاَی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہِ فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہِ فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہِ وَذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ. ( )

عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال : سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول : من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذلک اضعف الایمان. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناابوسعید خدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتےہیں کہ میں نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا کہ ’’تم میں سے جو شخص کسی برائی کو دیکھےتو اسے اپنے ہاتھ سے بدل دےاور اگر اس کی طاقت نہیں رکھتاتوزبان سے روکے اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا تو دل ہی میں بُرا جانے اور یہ ایمان کا کمزورترین درجہ ہے۔ ‘‘

شرح حدیث

بُرائی کسے کہتے ہیں؟’’بُرائی سے مراد ہروہ بات ہے جس کی شریعت نے مذمت بیان کی ہو ، اسے حرام ٹھہرایا ہو اور اسے ناپسند کیا ہو۔ برائی سے کبھی قول کے ذریعے منع کیا جاتا ہے جیسے شراب نوشی سے منع کرنا۔ کبھی صرف فعل کے ذریعے جیسے شراب کو بہا دینا۔ جب بُرائی سے قول کے ذریعے منع کیاجائے تواسے نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر (یعنی برائی سے منع کرنا) کہتے ہیں اور جب فعل کے ذریعے منع کیا جائے تو اس کو تَغْیِیْرٌ لِلْمُنْکَر(یعنی برائی کو بدلنا) کہتے ہیں۔ ‘‘( )برائی کو روکنا کس پر لازم ہے؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’ تم میں سےجوبرائی دیکھےیعنی اسے

کسی برائی کے بارے میں علم ہوجائے تو اُس برائی کو روکے ، کیونکہ نہی عن المنکر کے واجب ہونے کےلئےآنکھوں سے دیکھنا شرط نہیں بلکہ برائی سے منع کرنے کا دارومدار علم پر ہے۔ اب چاہے آنکھوں سےوہ برائی ہوتےہوئے دیکھے یانہ دیکھے۔ نیز حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ارشاد “ تم میں سے جو برا کام دیکھے۔ “ سے مراد مکلف اور قدرت رکھنے والے مسلمان ہیں اور عمومی طور پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ خطاب ساری اُمت کے لیے ہے ، حاضرین کےلئے بالمشافہ اور غائبین کے لیے بالتبع۔ ‘‘( )
برائی کو ہاتھ سے روکنے کا طریقہ:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’جو کوئی ایسا کام ہوتے ہوئے دیکھے جس سے شریعت نے منع کیا ہے تو اسے چاہیے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روک دے۔ اس طورپر کہ اس شخص کو اس فعل سے منع کرے ، اس گناہ کے آلات کو توڑ دے ، شراب وغیرہ کو بہا کر ضائع کردے اور اگر وہ چھینی ہوئی چیز ہے تو اس کے مالک تک پہنچادے۔ ‘‘( )برائی کو زبان سےر وکنے کا طریقہ:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اگر اپنی جان کو ضررپہنچنے یا مال چھن جانے کے خدشے کی وجہ سے برائی کو ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ ہو تو زبان سےاُسے روکے جس کے رک جانے کی امیدہو۔ روکنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے زور سے آواز دے ، ڈانٹ ڈپٹ کرے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خوف دلائے ، اس کے عذاب سے ڈرائے ، الغرض نرمی اورسختی میں سےجو مفید ہو اس پر عمل کرے۔ ‘‘( )
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’برائی کو زبان سے اس طرح روکے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّنے اس گناہ پر جو وعیدیں نازل فرمائی ہیں انہیں بیان کرے اور برائی کرنے والے کو اعمالِ بد کے نتائج سے باخبر کرے ، گناہوں کے انجام سے ڈرائے اور نصیحت کرے۔ ‘‘( )
گناہ کو دل میں بُرا جاننے کا طریقہ:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’ دل میں بُرا جاننے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے ناپسند کرے اور اس بات کا پختہ عزم کرےکہ جب کبھی ہاتھ یازبان سے اس برائی کو ختم کرنے پر قدرت حاصل ہوگی تو ضروراس گناہ کو ختم کروں گا۔ کیونکہ گناہ سے نفرت کرنا واجب ہے اور گناہ پر رضا مندرہنا ایسا ہے جیسے گناہ کرنے والے کے ساتھ گناہ میں شریک ہونا ۔ نیز اس حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دل میں برائی کے لئے نفرت نہ ہونا دل سے ایمان نکل جانے کی دلیل ہے۔ (کیونکہ برائی کو فقط دل میں برا جاننا ایمان کی کمزوری کی علامت ہے ، تو دل میں نفرت نہ ہونا ایمان نکل جانے کی دلیل ہوئی۔ )حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’ہلاک ہوگیا وہ شخص جو اپنے دل میں نیکی اور بُرائی کی معرفت نہیں رکھتا۔ ‘‘( )نیکی کی دعوت ترک کرنے کی صورت:علامہ ابوبکر بن علی رازی جَصَّاص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’جب کوئی بُرائی کو ہاتھ اور زبان سے مِٹا نہ سکے تو اُس وقت اُس پر لازم ہے کہ اُس بُرائی کو دل میں بُراجانےاور اب اُس کے لیے خاموشی اختیار کرنا جائز ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے :عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ-لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْؕ-(پ۷ ، المائد : ۱۰۵)
ترجمۂ کنزالایمان : تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو۔
اس آیتِ مبارکہ کی تفسیرمیں حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’جب تک تمہاری بات کو قبول کیاجائےتم نیکی کا حکم دو اور بُرائی سے منع کرو اور جب تمہاری بات کو قبول نہ کیا جائے تو تم اپنی جان کی فکر کرو۔ ‘‘اسی طرح حضرتِ سَیِّدُناابوثَعْلَبہ خُشَنِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بیان کیا ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’نیکی کا حکم دیتے رہواور برائی سے منع کرتے رہوحتی کہ جب تم دیکھوکہ بخل کی اطاعت کی جارہی ہے ، خواہش کی پیروی کی جارہی ہے ، دنیا کو ترجیح دی جارہی

ہےاور ہرشخص اپنی رائے پر اتر رہا ہےتو پھر تم اپنی جان کی فکر کرواور لوگوں کی فکر کرناچھوڑ دو۔ ‘‘ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب لوگ امربالمعروف ونہی عن المنکر کو قبول نہ کریں اور اپنی خواہشات وآراء کی اتباع کریں تو پھر تمہارےلیے اُن کو چھوڑ نے کی گنجائش ہےاور تم اپنی فکر کرواور لوگوں کو اُن کے حال پر چھوڑ دواور اس صورت میں تمہارے لیے بالقول نہی عن المنکر کو تر ک کرنامباح ہے۔ ‘‘( )
صدرُالشریعہ بدرُالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجدعلی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی بہارِشریعت میں فرماتے ہیں : ’’امر بالمعروف کی کئی صورتیں ہیں : (1) اگر غالب گمان یہ ہے کہ یہ ان سے کہے گا تو وہ اس کی بات مان لیں گے اور بُری بات سے باز آئیں گے ، تو امر بالمعروف واجب ہے اس کا باز رہنا جائز نہیں اور (2)اگرگمان غالب یہ ہے کہ وہ طرح طرح کی تہمت باندھیں گے اور گالیاں دیں گے تو ترک کرنا افضل ہے اور(3) اگر یہ معلوم ہے کہ وہ اسے ماریں گے اور یہ صبر نہ کرسکے گا یا اس کی وجہ سے فتنہ وفساد پیدا ہوگا ، آپس میں لڑائی ٹھن جائے گی جب بھی چھوڑنا افضل ہے اور(4)اگرمعلوم ہے کہ وہ اگر اسے ماریں گے تو صبر کرلے گا تو ان لوگوں کو برے کام سے منع کرے اور یہ شخص مجاہد ہے اور(5) اگر معلوم ہے کہ وہ مانیں گے نہیں مگر نہ ماریں گے اور نہ گالیاں دیں گے تو اسے اختیار ہے اور افضل یہ ہے کہ امر کرے۔ ‘‘( )
اپنے منصب کے مطابق نیکی کی دعوت دو:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’ بُرائی کو بدلنے کے لیے ہر طبقے کو اس کی طاقت کے مطابق ذمہ داری سونپی گئی کیونکہ اسلام میں کسی بھی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی۔ اربابِ اقتدار ، اساتذہ ، والدین وغیرہ جو اپنے ماتحتوں کو کنٹرول کرسکتے ہیں وہ قانون پر سختی سے عمل کراکے اور مخالفت کی صورت میں سزا دے کر برائی کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔ مبلغین اسلام ، علماء و مشائخ ، ادیب و صحافی اور دیگر ذرائع اَبلاغ مثلًا ریڈیو اور ٹی وی وغیرہ سے سبھی لوگ اپنی تقریروں تحریروں بلکہ شُعَراء اپنی نظموں کے ذریعے بُرائی کا قلع قمع کریں

اور نیکی کوفروغ دیں۔ بلسانہ (زبان سے روکنے)کے تحت یہ تمام صورتیں آتی ہیں۔ اور عام مسلمان جسے اقتدار کی کوئی صورت بھی حاصل نہیں اور نہ ہی وہ تحریر و تقریر کے ذریعے برائی کا خاتمہ کرسکتا ہے وہ دل سے اس برائی کو برا سمجھے ، اگرچہ یہ ایمان کا کمزور ترین مرتبہ ہے۔ کیونکہ کوشش کرکے زبان سے روکنا چاہیے لیکن دل سے جب برا سمجھے گا تو یقیناً خود برائی کے قریب نہیں جائے گا اور اس طرح معاشرے کے بے شمار افراد خودبخود راہ راست پرآجائیں گے۔ حدیث شریف سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جو آدمی برائی کو دل سے بھی برا نہ جانے اسے اپنے آپ کو مؤمنین میں شمارکرنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ دل سے برا سمجھنے میں تو کسی کا ڈر نہیں ، پھر بھی برا نہیں سمجھتا تو معلوم ہوا وہ اس پر راضی ہے۔ ‘‘( )
بُرائی سے منع نہ کرنے پر دو وعیدیں:(1)حضرتِ سیِّدُنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر ، تمام نبیوں کے سَروَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اس ذات کی قسم!جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ، تم ضرورنیکی کی دعوت دیتے رہنا اوربرائی سے منع کرتے رہنا (اگرتم نے ایسانہ کیا تو)قریب ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پر اپنا عذاب نازل فرمائے ، پھرتم اس سے دعامانگتے رہو گے لیکن قبول نہ ہوگی۔ ‘‘( )(2)حضرتِ سیِّدُنا جریربن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورنبی پاک ، صاحبِ لَولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئےسنا : “ جس قوم میں گناہ ہوتے ہوں اوروہاں ایسے لوگ موجودہوں جوانہیں بدلنے پر قادر ہوں اورپھربھی نہ بدلیں تواُن کی موت سے پہلےاللہ عَزَّوَجَلَّ اُن پراپنا عذاب نازل فرمائے گا۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’بھلائی‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)کسی بھی بُرائی کو دیکھ کر اُسے جس طرح ممکن ہو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
(2)سب سے پہلے آدمی اپنے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرے ، ورنہ زبان سے روکے اور اگر زبان سے بھی روکنے پر قدرت نہ ہو تو پھر دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور درجہ ہے۔
(3)زبان سے روکنے کا طریقہ یہ ہے کہ گناہ کرنے والے سے کہے کہ فلاں گناہ سے باز آجا ، مثلاً شراب پینے والے سے کہے کہ تو شراب نہ پی یا شراب پینے سے باز آجا ، یا اسے گناہ سے متعلق وعید اور نقصان سے آگاہ کرے۔
(4)برائی کو دل میں برا جاننے کا طریقہ یہ ہے کہ اولاً وہ خود اس گناہ یا برائی سے باز رہنے کا ارادہ کرے اور پھر یہ ذہن بنائے کہ جب بھی اس برائی کو ہاتھ یازبان سے روکنے پر قدرت حاصل ہوئی تو اسے ضرور روکوں گا ، نیز اس برائی کی اپنے دل میں نفرت پیدا کرے۔
(5)کسی کو گناہ سے روکنے کے لیے اس کی حالت کا اعتبار کرتے ہوئے وہ طریقہ اختیار کیا جائے جس پر اسے استطاعت ہو۔
(6)دل میں برائی سے نفرت کرنا ایمان کا کمزور درجہ ہے ، تو جس کے دل میں نفرت نہیں گویا وہ ایمان کے کمزور درجے سے بھی محروم ہے ، اسی وجہ سے فرمایا گیا کہ دل میں گناہ کی نفرت نہ ہونا دل سے ایمان نکل جانے کی علامت ہے ، لہذا برائی کو کم ازکم دل میں برا ضرور جاننا چاہیے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں امر بالمعروف یعنی نیکی کا حکم دینے و نہی عن المنکر یعنی برائی سے منع کرنے کی توفیق عطافرمائے اور اپنی استطاعت کے مطابق بُرائیوں کا خاتمہ کرنے کی توفیق عطافرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 184