Main Icon

امربالمعروف ونہی عن المنکر - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 197

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : یَااَیُّہَا النَّاسُ اِنَّکُمْ تَقْرَؤُوْنَ ہٰذِہِ الٰایَۃِ ) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ-لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْؕ- ( وَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : اِنَّ النَّاسَ اِذَا رَاَوُا الظَّالِمَ فَلَمْ یاْخُذُوْا عَلٰی یَدَیْہ ِاَوْشَکَ اَنْ یَعُمَّہُمُ اللّٰہُ بِعِقَابٍ مِّنْہُ. ( )

عن ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ قال : یاایہا الناس انکم تقرؤون ہذہ الایۃ ) یایها الذین امنوا علیكم انفسكم-لا یضركم من ضل اذا اهتدیتم- ( وانی سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول : ان الناس اذا راوا الظالم فلم یاخذوا علی یدیہ اوشک ان یعمہم اللہ بعقاب منہ. ( )

حدیث ترجمہ

امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، فرمایا : ’’اے لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو : )یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ-لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْؕ-( (پ۷ ، المائدۃ : ۱۰۵) ترجمۂ کنزالایمان : ’’اے ایمان والو تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو۔ “ اور میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا : ’’جب لوگ ظالم کو (ظلم کرتا) دیکھ کر اس کا ہاتھ نہ پکڑیں ، تو قریب ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان سب کو عذاب میں مبتلا کردے۔ ‘‘

شرح حدیث

سیدنا صدیق اکبر نے وَہم کو دُورکر دیا:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 105 سے مسلمانوں کو یہ وہم ہوا کہ انسان جب ان چیزوں پر عمل کرے جن کا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حکم دیا ہے اور جن سے منع کیا ہے ، ان سے اجتناب کرے اور دیگر لوگوں کو اس کی مخالفت کرتا دیکھے تو انہیں بھلائی کا حکم نہ دے

اور نہ برائی سے منع کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ، جبکہ حقیقت میں نہ یہ گمان درست اور نہ ہی آیت کی مراد یہ ہے۔ ‘‘( )
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ : “ اے ایمان والو! اپنی فکر کرو ، اگر تم ہدایت پر رہو گے تو گمراہ ہونے والے تمہارا کچھ بگاڑ نہ سکیں گے۔ “ کے حوالے سے بعض لوگ سمجھتے تھے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ضرورت نہیں ، بلکہ آدمی کو اپنی اصلاح کرنا چاہیے ، دوسروں کے گناہ یا کوتاہیاں اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتیں۔ تو حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس مُغَالَطے کو دورکرتے ہوئے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس ارشاد گرامی کے حوالے سے بتایا کہ ’’جب لوگ برائی کو دیکھ کر اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں تو وہ سب عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ‘‘( )
شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مقصد یہ بیان کرنا تھا کہ اگر تم اس آیت کو پڑھ کر اسے عموم پر محمول کرتے ہوئے یہ سمجھتے ہو کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر واجب نہیں تو یہ غلط ہے ، کیونکہ جب نہی عن المنکر کے تَرک یعنی برائی سے منع نہ کرنے پر وعید وارد ہے تو اب اُس کو ترک کرنا جائز ہو یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘( )
برائی سے منع کرنا کس پرضروری ہے؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’جب لوگ کسی کو ظلم کرتا ہوا یا گناہ کرتا ہوا دیکھیں اور اسے ہاتھ سے روکنے پر قدرت ہونے کے باوجود نہ روکیں یا زبان سے روکنے کی اِستطاعت ہونے کے باوجود اسے زبان سے منع نہ کریں تو قریب ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان سب پر عذا ب نازل فرمادے ، ظالم پر تو ظلم کرنے کی وجہ سے اور اس کے علاوہ لوگوں پر قدرت ہونے کے باوجود اسے نہ روکنے

اور خطا کرنے والے کی خطا پر رضامند ہونے کی وجہ سےالبتہ جو لوگ گناہگار کو روکنے سے عاجز ہوں اس طور پر کہ انہیں اپنی جان یا مال کے ضائع ہونے کا خوف ہو یا اس بات کا خدشہ ہو کہ اگر یہ اسے منع کریں گے تو وہ رکنے کے بجائے اس سے بڑے گناہ میں پڑ جائے گا ، تو ایسے لوگوں پر نہی عن المنکر نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ معذور ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل سے یہ
عذاب سے محفوظ رہیں گےکیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآن مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے : )
αلَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ-((پ۳ ، البقرۃ : ۲۸۶)ترجمۂ کنزالایمان : اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر۔ ( )سورۃ المائدہ کی آیت نمبر105کے مختلف معانی:قرآن پاک میں اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ-لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْؕ-(پ۷ ، المائدۃ : ۱۰۵)
ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو۔
(1)شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’یہ آیت عام اور مطلق نہیں بلکہ اس بات کے ساتھ مقید اورخاص ہے کہ جب لوگ تمہاری بات نہ سنیں اور ان پر نہی عن المنکر کا کوئی اثر نہ ہو اور ہر شخص اپنے آپ میں مغرور و متکبّر ہو تو اس صورت میں تم اپنی اصلاح میں مصروف ہوجاؤ اور اس وقت لوگوں کے گناہ تم پر اثر انداز نہیں ہوں گے اور یہ آخری زمانے کے لوگوں کی حالت ہے اور اس کی تائید یہ حدیث پاک بھی کرتی ہے کہ جب یہ آیت حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس تلاوت کی گئی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : اس آیت میں جس زمانے کی بات ہے وہ میرا اور تمہارا زمانہ نہیں ، کیونکہ اس میں تو لوگ بات سن کر قبول کرلیتے ہیں ، لیکن آخری زمانے میں لوگ بات ہی نہیں سنیں گے ، اس آیت میں ان لوگوں کے بارے میں خبر دی گئی ہے۔ ‘‘( )

(2)مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’مذکورہ آیت میں فرمایا گیا ہے کہ جب تم خود ہدایت پر ہو تو تم کو دوسروں کی بدعملی سے نقصان نہ ہوگا اور ہم ہدایت پر جب ہی ہوں گے جبکہ سارے احکام خداوندی پر عمل کریں گے ان احکام میں تبلیغ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر) بھی داخل ہے جو بقدر استطاعت بلا عذر تبلیغ نہ کرے وہ ہدایت پر ہے ہی نہیں لہٰذا وہ اس پر پکڑا جاوے گا۔ ( )مرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں کہ ’’بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ’’جب تم ہدایت پر ہو۔ “ کا مطلب یہ ہے کہ تم برائی سے روکو اور وہ نہ مانیں تو اب عذاب عام نہیں ہوگا بلکہ صرف برائی کے مرتکب لوگوں کو ہوگا۔ ‘‘( )
(3) عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’یہ آیت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے وجوب کے خلاف نہیں کیونکہ اس آیت کے معنی میں محققین کے نزدیک صحیح مذہب یہ ہے کہ تم جس کام کے مکلف کیے گئے ہو ، جب تم نے وہ ادا کردیا تو پھر کسی اور کی کوتاہی تمہیں خسارا نہیں پہنچا سکتی ، اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے : )
وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىؕ-((پ۲۲ ، فاطر : ۱۸) ترجمۂ کنزالایمان : “ اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔ “ تو اسی طرح جو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا مکلف کیا گیا اور اس نے یہ فریضہ ادا کردیا تو اب اس پر کوئی عتاب نہیں ، کیونکہ اس نے اپنی ذمہ داری پوری کردی اور بیشک اس پر تو بس بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا لازم ہے نہ کہ قبول کروانا۔ ‘‘( )
(4) حدیث پاک میں مذکور آیت سے کیا مراد ہے؟ اس کی وضاحت اس آیت کے شان نزول سے بھی معلوم ہوتی ہے۔ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’دو مسلمان مرد تھے ان میں سے ایک کا باپ اور دوسرے کا بھائی کافر تھا ، تو جب ان مسلمانوں کے دلوں میں ایمان کی حلاوت داخل ہوگئی تو انہوں نے اپنے باپ اور بھائی کو اسلام کی دعوت دی۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں وہ ہی کافی ہے جس پر

ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ۔ یہ جواب سن کر مسلمانوں کو ان کے کفر پر بڑی حسرت ہوئی اور ان کے ایمان لانے کے متمنی ہوئے تو اس وقت اللہ عَزَّوَجَلَّ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ تمہیں ان کے کفر سے کچھ نقصان نہیں جبکہ تم ہدایت پر ہو۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’اجمیر‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)بُرائی سے منع کرنے کے باوجود اگر کوئی نہیں رکتا تو اب اس کا بُرائی میں مبتلا ہونا منع کرنے والے کے لیے کوئی مضر نہیں۔
(2)بلا عذرنہی عن المنکر کو ترک کرنا جائز نہیں کیونکہ اس کے ترک پر وعیدیں وارد ہیں۔
(3)نہی عن المنکر کو ترک کرنا عذاب نازل ہونے کا سبب ہے ، گناہگار پر تو گناہوں کی وجہ سے اور بقیہ لوگوں پر استطاعت کے باوجود اسے نہ روکنے اور اس کے گناہ پر رضامند ہونے کی وجہ سے۔
(4)جس شخص کو اپنی جان یا مال کے ضائع ہونے کا خوف ہو یا پھر اس بات کا خدشہ ہو کہ اس کے منع کرنے کی وجہ سے خطاکار اس سے بڑے گناہ میں مبتلا ہوجائے گا تو اس کے لیے نہی عن المنکر نہ کرنا جائز ہے کیونکہ یہ معذور ہے اور معذور کی پکڑ نہیں۔
(5)اگر کچھ لوگ نیکی کی دعوت دیں اور بُرائی سے منع کریں لیکن لوگ ان کی بات نہ مانیں تو اس صورت میں وہ لوگ عذاب کے مستحق نہیں بلکہ فقط برائی کرنے والے اس کے مستحق ہوں گے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خود بھی بُرائیوں سے بچنے اور دوسروں کو بھی بچانے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرمائے ، ہمیں نیکی کی دعوت عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 197