- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- حدیث نمبر 193
حدیث مبارکہ
عَنْ حُذَیْفَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَتَاْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلَتَنْہَوُنَّ عَنِِ المُنْکَرِ اَوْ لَیُوْشِکَنَّ اللّٰہُ اَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عِقَابًا مِنْہُ ثُمَّ تَدْعُوْنَہُ فَلاَ یُسْتَجَابُ لَکُمْ. ( )
عن حذیفۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : والذی نفسی بیدہ! لتامرن بالمعروف ولتنہون عن المنکر او لیوشکن اللہ ان یبعث علیکم عقابا منہ ثم تدعونہ فلا یستجاب لکم. ( )
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’اُس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ، تم ضرور نیکی کا حکم دیتے رہنا اوربُرائی سے منع کرتے رہنا ، ورنہ قریب ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پر اپنا عذاب نازل فرمائے ، پھر تم اُس کی بارگاہ میں دُعا کرو گے ، لیکن تمہاری دُعا قبول نہیں کی جائے گی۔ ‘‘
شرح حدیث
نیکی کی دعوت ترک کرنے کا نقصان:مذکورہ حدیث پاک میں اِس بات کا بیان ہے کہ لوگ جب تک امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ
سرانجام دیتے رہیں گے اس وقت تک عذابِ الٰہی سے محفوظ رہیں گے لیکن جب اِس ذمہ داری کو نبھا نے میں کوتاہی برتی جائے گی تو پھر سب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے قہر میں مبتلا ہوں گے اور ہر خاص و عام اس عذاب کی لپیٹ میں آئے گا اور ایسے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا کرنا بھی کام نہ آئے گا۔
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری سے پہلوتہی کتنا بڑا جرم ہے ، اس حدیث میں نہایت وضاحت کے ساتھ اس کا بیان کیا گیا ۔ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : یا تو تمہیں یہ فریضہ انجام دینا ہوگا یا اللہتعالیٰ کے عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کے بعد اگر دعا بھی کروگے تو قبول نہ ہوگی۔ یہ نہایت سخت قسم کی وعید ہے یعنی جب تک تم اپنی کوتاہی کا ازالہ نہیں کروگے اور اللہتعالیٰ سے معافی نہیں مانگو گے تو تمہاری کوئی دعا قبول نہ ہوگی۔ اس حدیث میں امر بالمعروف کا ذکر بھی قسم اور تاکیدی صیغوں کے ساتھ ہوا اور عذاب کے ذکر کے لیے بھی تاکیدی صیغہ استعمال کیا گیا جو اس کی اہمیت اور عدم بجا آوری کی صورت میں عذاب کے یقینی ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ ‘‘( )بُرائی کی نحوست کا عام ہونا:مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ بھلائی کا حکم نہ دینے اور برائی سے منع نہ کرنے کی صورت میں عذاب نازل ہوتا ہے اور پھر اس وقت دعا بھی قبول نہیں ہوتی۔ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’یہ عذاب حکمرانوں کے ظلم یا دشمن مُسَلَّط ہونے یا پھر دیگر مَصَائِب و آلام نازل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے اور پھر اس وقت دعا بھی قبول نہیں ہوتی کیونکہ حِکمت اِلٰہی ہے کہ اُس نے تمہاری امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ترک کرنے کی کوتاہی کے بدلے میں اِس عذاب کو مقرر فرمایا ہے۔ اس حدیث پاک میں اِس بات پر دلیل ہے کہ جب برائی سے منع نہیں کیا جاتا تو اُس کی نحوست عام ہوجاتی ہے اور اُس کا عذاب گناہ کرنے اور نہ کرنے والوں سب کو پہنچتا ہے۔ اِسی باب میں اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدتُنا زینب بنت
جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ایک حدیث پاک گزری ، اس میں بھی اس بات کا بیان تھا کہ نیکی کی دعوت ترک کرنے کی صورت میں صالحین کی موجود گی میں بھی عذاب نازل ہوتا ہے۔ ہاں اگر لوگ اپنی استطاعت کے مطابق نہی عن المنکر کرتے رہیں تو پھر اُن کا یہ عمل اس عذاب کو دور کرنے والا ہے۔ ‘‘( )نیکی کی دعوت ہرگز ترک نہ کیجئے:دعا مومن کا ہتھیار ہے جو اسے ہر مشکل میں کام آتا ہے۔ انسان کو کسی بھی قسم کی تکلیف یا پریشانی ہو وہ رب تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرکے اس تکلیف سے نجات طلب کرتا ہے اور دعا کے قبول ہوتے ہی وہ اس پریشانی اور مصیبت سے نجات حاصل کرلیتا ہے لیکن نیکی کی دعوت ترک کرنے اور برائی سے منع نہ کرنے کی وجہ سے جو عذاب نازل ہوتا ہے وہ دعا سے بھی نہیں ٹلتا۔ اس لیے نیکی کی دعوت دینا اور بُرائی سے منع کرنا کبھی بھی ترک نہیں کرنا چاہیے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’انسان پر آنے والی تکالیف اور مصائب دعا سے ٹل جاتے ہیں مگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کرنے سے جو عذاب آتا ہے وہ دعا سے بھی نہیں ٹلتا۔ ‘‘( )یا شیخ اپنی اپنی دیکھ۔۔۔:شیخ طریقت ، امیر اہلسنت ، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز تصنیف ’’نیکی کی دعوت‘‘ صفحہ۴۵۸ پر فرماتے ہیں :
’’میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ’’یاشیخ! اپنی اپنی دیکھ!‘‘کے تَحت صِرف اپنی اِصلاح کی فِکر میں لگے رہنے کے بجائے دُوسروں کی دُرُستی کی طرف بھی تَوَجُّہ دینی چاہئے ، کیونکہ کثیر گناہ ایسے ہیں کہ جن کا نقصان دوسروں کو بھی پہنچتا ہے۔ مَثَلًااگرکوئی شخص چوری کا گناہ کرے تو اُس شخص کو بھی نقصان ہوگا جِس کی چیز چُرائی گئی بِالکل یِہی مُعامَلہ ڈاکہ ڈالنے ، امانت میں خِیانت کرنے ، گالی دینے ، تُہمت لگانے ، غیبت کرنے ، چُغلی کھانے ،
کسی کے عَیب اُچھالنے ، ناحَق کسی کا مال کھانے ، خون بہانے ، کسی کوبِلااجازتِ شَرعی تکلیف پہنچانے ، قَرض دبا لینے ، کسی کی چیز اُسے ناگوار گزرنے کے باوُجُودبِلااجازت استِعمال کرنے ، ماں باپ کو ستانے اوربدنِگاہی کرنے وغیرہ کا ہے۔ اب اگر ہر ایک کو ان گناہوں کے اِرتِکاب کی کھلی چھوٹ دے دی جائے پھر نہ توکسی کامال سَلامت رہے گا اور نہ ہی عزّت!بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ہمارامُعاشَرہ ’’دَرِندوں کے جنگل ‘‘ کا منظر پیش کرنے لگے گا۔ بعض گناہ ایسے ہیں جن کے اِرتِکاب سے انسان کی عزّت کو بھی نقصان پہنچتا ہے مَثَلًا جو شخص چُغل خور یا زانی یا شرابی کے طور پر مشہور ہوجائے تو سب پرعِیاں(یعنی ظاہر)ہے کہ مُعاشَرے میں اس کا کیامَقام ہوتا ہے ؟ اور بعض گناہ ایسے ہیں جو انسان کے مال کو نقصان پہنچاتے ہیں مثَلًاجُوا کھیلنے کی لَت پڑ جانا ، سُود پر قَرض لینا ، کام کاج کرنے کے بجائے فلمیں ڈِرامے دیکھنے میں مشغول رہنا ، مذکورہ کاموں میں مُلَوَّث افراد مالی طور پر جس طرح ’’دن دُگنی رات چوگنی‘‘ اُلٹی ترقّی کرتے ہیں یہ کسی صاحِبِ عقل سے مخفی(یعنی چُھپا)نہیں۔ ان تمام دنیاوی نقصانات کے ساتھ ساتھ ایسے شخص کو اُخروی(اُخ۔ رَ۔ وی)طور پر بھی خَسارے(یعنی نقصان) کا سامنا ہے ، جوجہنَّم کے بھیانک اور ہولناک عذاب کی صورت میں پیش آسکتا ہے۔ وَالْعِیَاذُ بِاللّٰہ
افسوس! صدکروڑافسوس! آج کل مسلمانوں میں نیکیوں کا ذِہن بہت کم ہو گیا ہے ، بس ہر طرف گناہوں کا دَور دَورہ ہے ، نیکی کی دعوت کی طرف بھی کوئی خاص رغبت نہیں رہی۔ نیک بننے اور گناہوں سے بچنے اور ایمان کی حفاظت کیلئے فی زمانہ دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول کسی نِعمتِ غیر مُترقبہ (غیر۔ مُ۔ تَ۔ رَق۔ قَ۔ بَہ یعنی وہ دولت جس کے حصول کا گمان نہ ہو)سے کم نہیں ، آج کے گناہوں بھرے ماحول میں پلنے والے بڑے بڑے مجرِم مَدَنی ماحول میں آکر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ سنّتوں کے سانچے میں ڈھل گئے۔ اِس ضِمن میں ایک ’’مَدَنی بہار‘‘پیش خدمت ہے :میں گناہوں کی تاریکیوں میں گم تھا:گجرات(پنجاب ، پاکستان)کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ پیشِ خدمت ہے : تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیرغیرسیاسی تحریک’’دعوتِ اسلامی‘‘کے مَدَنی ماحول سے وابَسۃ ہونے سے قبل میں گناہوں کی تاریکیوں میں گم تھا۔ غفلت کے اندھیروں نے مجھے دین سے عَمَلًا اِس قَدَر دُور کر رکھا تھا کہ نَماز ، روزے کی
کچھ پرواہ نہ تھی۔ ایک روزجب حسبِ معمول میرے قاری صاحِب گھرمیں مجھے قراٰنِ پاک پڑھانے کے لیے آئے تواُس وقت میںT.V.پر ڈرامہ دیکھنے میں مصروف تھا ، میں نے کہا : ’’قاری صاحِب! آپ تشریف رکھئے میں ڈرامہ دیکھ کر ابھی آرہاہوں بس تھوڑاہی رہ گیا ہے۔ ‘‘ قاری صاحِب کاحوصلہ بھی کمال کا تھا ، ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے نہایت ہی شَفقَت سے اِنفرادی کوشِش کرتے ہوئے اُنہوں نے مجھے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کا مطبوعہ رسالہ ’’ٹی وی کی تباہ کاریاں‘‘ پڑھ کرسنایا۔ رسالہ سن کربے اختیارندامت و شرمندَگی مجھ پرغالِب آئی اورمیں خوفِ خدا سے سرتاپا لرزاُٹھا!قاری صاحِب کی نصیحت پرعمل کرتے ہوئے میں نے جب اپنی گزَشتہ زندگی کااِحتساب کیا تو میرا دل رونے لگاکہ آہ!صدہزار آہ!میں نے زندَگی کا اِتنا بڑا حصّہ فُضُولیات ولَغوِیات میں صَرف کردیااورمجھے اِس کا اِحساس تک نہ ہوا! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نے صِدقِ دل سے توبہ کی اورعَزمِ مُصَمَّم کرلیاکہ آیَندہ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ گناہوں سے بچتارہوں گا ، نَمازکی پابندی کرتے ہوئے سنّتوں بھری زندَگی گزارنے کی کوشش کرتا رہوں گا ، اور اللہ عَزَّوَجَلَّ و رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نافرمانی ، جھوٹ ، غیبت ، چغلی اور وعدہ خِلافی وغیرہ وغیرہ سے بچتارہوں گا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مُشکبار مَدَنی ماحول نے میری کایا پلٹ دی اورمجھ سابگڑا ہواانسان بھی سُدَھرنے پر کمر بستہ ہوگیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعاہے کہ ہمیں مدَنی ماحول میں اِستِقامت عطا فرمائے۔ آمین
تُو نرمی کو اپنانا جھگڑے مٹانا …… رہے گا سدا خوشنما مَدَنی ماحول
تُو غصّے جھڑکنے سے بچنا وگرنہ …… یہ بدنام ہو گا ترا مَدَنی ماحولمدنی گلدستہ
’’نیکی‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول(1)اگر لوگ نیکی کی دعوت دینا بالکل چھوڑ دیں تو پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب کو کوئی نہیں روک سکتا ، کیونکہ دو باتوں میں سے ایک ہی ہوگی یا تو لوگ نیکی کی دعوت دیتے رہیں گے یا اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب ان پر نازل ہوگا۔
(2)عموماً بلائیں یا مصیبتیں دعاؤں کی برکت سے دُور ہوجاتی ہیں کہ دعا مؤمن کا ہتھیار ہے ، مگر نیکی کی دعوت کو ترک کرنے کے سبب جو عذاب نازل ہوتا ہے وہ دعاؤں سے بھی نہیں ٹلتا ، اس لیے نیکی کی دعوت کو کسی بھی صورت ترک نہیں کرنا چاہیے۔
(3)جو مصیبت نیکی کی دعوت ترک کرنے اور بُرائی سے منع نہ کرنے کی وجہ سے نازل ہوتی ہےاس کو دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان رب تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کرے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر دوبارہ شروع کردے اور اب اس میں کوتاہی نہ کرے۔
(4)امر باالمعروف ونہی عن المنکر ترک کرنے کا وبال مختلف صورتوں میں ظا ہر ہوتا ہے ، بسا اوقات ظالم حکمران یا دشمن مسلط کردیا جاتا ہے ، بسا اوقات شدید مصائب وآلام میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے جیسے اہم فریضے کی ہمیشہ ادا ئیگی کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان کے ترک سے محفوظ و مامون فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 193