Main Icon

امربالمعروف ونہی عن المنکر - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 192

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْحَسَنِ الْبَصَرِیِّ : اَنَّ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍورَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ دَخَلَ عَلٰی عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ زِیَادٍ فَقَالَ : اَیْ بُنَیَّ اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : اِنَّ شَرَّ الرِعَاء ِ الحُطَمَۃُ فَاِیَّاکَ اَنْ تَکُوْنَ مِنْہُمْ ، فَقَالَ لَہُ : اِجْلِسْ فَاِنَّمَا اَنْتَ مِنْ نُخَالَۃِ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَال : وَہَلْ کَانَتْ لَہُمْ نُخَالَۃٌ؟ اِنَّمَا کَانَتِ النُّخَالَۃُ بَعْدَہُمْ وَفِیْ غَیْرِہِمْ. ( )

عن ابی سعید الحسن البصری : ان عائذ بن عمرورضی اللہ عنہ دخل علی عبید اللہ بن زیاد فقال : ای بنی انی سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول : ان شر الرعاء الحطمۃ فایاک ان تکون منہم ، فقال لہ : اجلس فانما انت من نخالۃ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، فقال : وہل کانت لہم نخالۃ؟ انما کانت النخالۃ بعدہم وفی غیرہم. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا عائذ بن عَمْرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عُبَیْدُاللہ بن زیاد کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا : ’’اے لڑکے! میں نے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سناہے کہ : بدترین حاکم وہ ہیں جو ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ لہذا تو اس بات سے بچنا کہ تیرا شمار ان بدترین حاکموں میں ہو۔ ‘‘ابنِ زیاد نے( گستاخانہ لہجے میں)کہا : ’’بیٹھ جاؤ !تم تو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ میں بھوسے کی طرح ہو۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا عائذ بن عَمْرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’کیا رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اصحاب میں بھی بھوسہ ہے؟ بیشک بھوسہ تو ان کے بعد یا ان کے غیر میں ہوگا۔ ‘‘

شرح حدیث

ظالم وجابر ولالچی حکمرانوں کے گندےاَوصاف:حدیث پاک میں ظلم کے لیے “ اَلْحُطَمَۃ “ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : “ یہ لفظ دو طرح کے آدمیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے : (1) جو اونٹوں کی نگہبانی کرنے میں ، انہیں چلانے ، پانی پر لانے اور وہاں سے واپس لے جانے میں سختی کرتا ہو۔ (2) وہ آدمی جو کھانے کا اتنا حریص ہو کہ جس چیز پر اس کی نظر پڑ جائے اسے ہڑپ کرلے۔ حدیث پاک میں اس لفظ سے بُرے

حاکم کی مثال دی گئی ہے تو اب ان دونوں معنی کے لحاظ سے حدیث پاک کا معنی یہ ہوگا کہ بدترین حاکم وہ ہے جو رعایا پر ظلم و جبر کرے اور آزمائش میں ان پر رحم نہ کرے نیز اس کا نفس اس قدر کمینہ اور طبیعت اتنی ظالم ہو جائے کہ وہ لوگوں کہ ہاتھ میں جو چیز بھی دیکھے اسے چھیننے کی کوشش کرے۔ ‘‘( )
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’بدترین سلطان و حکام وہ ہیں جو رعایا کی کمر توڑ دیں ، ان پر ٹیکسوں گرانیوں کی بھرمار کردیں اور سخت احکام سے رعایا کو پریشان کردیں جیسا کہ آج کل دیکھا جارہاہے۔ ‘‘( )
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’بدترین حاکم وہ ہے جو اپنی رعایا پر سختی کرے ، عام آدمی کے ساتھ نرمی سے پیش نہ آئے بلکہ ان پر ظلم کرے اور ان کے حقوق ادا نہ کرے اور رعایا کی آپس میں ایک دوسرے سے مڈبھیڑ کروا کر انہیں اذیت و تکلیف پہنچائے۔ ‘‘( )
اُمَّت میں سب سے افضل لوگ:عُبَیْدُاللہ بن زیاد کا گستاخی پر مبنی جواب سن کر حضرتِ سَیِّدُنا عائذ بن عَمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’کیا رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اصحاب میں بھی کوئی بھوسہ ہے؟ بیشک بیکار و فضول افراد تو ان کے بعد یا ان کے علاوہ لوگوں میں ہیں۔ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’حضرتِ سَیِّدُنا عائذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا یہ کلام نہایت فصیح اور سلیس ہے اور یہ ایسا سچ ہے جسے ہر مسلمان تسلیم کرتا ہے بیشک تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان لوگوں میں منتخب کردہ ہیں ، اس اُمَّت کے سردار ہیں ، بعد میں آنے والے تمام لوگوں سے افضل ہیں ، سب پرہیزگار و عادل ہیں ، ان میں کوئی فضول و ناکارہ نہیں ، بیشک معمولی اور گھٹیا درجے کے لوگ تو ان کے بعد آئے اور انہیں میں بھوسی کی مثل بیکار و نکمے لوگ ہیں۔ ‘‘( )
صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی شان:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اصحاب رہتی دنیا تک پوری انسانیت کے لیے مقتدا و پیشوا ہیں ، یہ وہ خوش بخت ہستیاں ہیں جنھیں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت نصیب ہوئی۔ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے فضائل ومناقب تو خود رب تعالیٰ نے بیان فرمائے ، خود اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بیان فرمائے ، جس میں ان کے کردار و گفتار ، عدالت و سخاوت ، عبادت و ریاضت ، شجاعت و بہادری کے حسین باب موجود ہیں۔ یہ وہی بندگان ِ خدا ہیں کہ جنہوں نے چمنستانِ اسلام کی اپنے کردار اور گفتار دونوں سے آبیاری کی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا ، محبت رسول ، اور اِحیائے دِین کے لیے اپنا تَن مَن دَھن سب کچھ قربان کردیا۔ یہ وہی عظیم ہستیاں ہیں کہ جنہوں نے تمام مسلمانوں کو یہ عظیم درسِ عشق ومحبت دیا کہ :
محمد کی محبت دِینِ حق کی شرطِ اَوّل ہے …… اِسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
محمد کی محبت ہے سند آزاد ہونے کی …… خدا کے دِین میں توحید میں آباد ہونے کی
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’حضرتِ سَیِّدُنا عائذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں بھوسی (فضول) ہونے کو بعید جانتے ہوئے فرمایا کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں بھلا بھوسی کیونکر ہوسکتی ہے؟ یہ تو وہ ذی مرتبہ اَفراد ہیں جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت کے لیے منتخب فرمایا اور انہیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَنوار سے مُسْتَفِیْض ہونے کا شرف عطا فرمایا ، بلکہ یہ تمام کے تمام سردار اور رہنما ہیں ۔ اِن کی فضیلت کے لیے تو بس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ ارشاد ہی کافی ہے : “ اَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ بِاَیِّھُمْ اِقْتَدَیْتُمْ اِھْتَدَیْتُم یعنی میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں تم اِن میں سے جسکی بھی پیروی کرو گے ہدایت پاجاؤگے۔ ‘‘( )
اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنت ، مجدِّدِدِین وملت ، پروانہ شمعِ رسالت ، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ

الرَّحْمٰن اسی حدیث کی ترجمانی کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
اہلسنت کا ہے بیڑا پار اَصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسولُ اللہ کی
نیکی کی دعوت عام کیجئے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دِین اِسلام نے نیکی دعوت عام کرنے اور بُرائیوں سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ مذکورہ حدیث پاک میں بھی بیان ہوا کہ حضرتِ سَیِّدُنا عائذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اِبن زِیاد کو رِعایا کے ساتھ نرمی اور بھلائی کا معاملہ کرنے کی نصیحت فرمائی اور اسے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد گرامی سنایا۔ ہمیں بھی اس حدیث پاک سے درس ملتا ہے کہ انسان کو ہر سطح پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا چاہیے امیر ہو یا غریب ، حاکم ہو یا محکوم ، چھوٹا ہو یا بڑا ، بادشاہ ہو یا غلام ، مرد ہو یا عورت الغرض دنیا کے ہر طبقے تک دین اور شریعت کو پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ معاشرے کی بقاء اور فلاح وبہود اسی میں ہے کہ ہر جگہ اور ہر زمانے میں نیکی کی دعوت عام کی جائے اور برائیوں سے منع کیا جائے۔ کیونکہ دنیا اور آخرت میں کامیابی کے یہی و ہ ذریں اصول ہیں ، جس میں انسانیت کے لیے امن و سکون ، اخوت و بھائی چارہ ، رواداری اور اعتدال و انصاف جیسے اہم انعامات پوشیدہ ہیں۔مدنی گلدستہ
سیدنا’’عثمان‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)بُرائی کو استطاعت کے مطابق روکنا چاہیے جیساکہ حضرتِ سَیِّدُناعائذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ابنِ زیاد جیسے ظالم کو اپنی قدرت کے مطابق زبان سے روکا اور نیکی کی دعوت پیش کی۔
(2)بدترین حاکم وہ ہے جو اپنی رعایا پر ظلم کرے ، اُن کے حقوق تلف کرے اور ناجائز ٹیکسوں کے بوجھ اُن پر ڈال کر انہیں پریشان کرے۔

(3)امیر ہو یا غریب ، حاکم ہو یا محکوم ، چھوٹا ہو یا بڑا ، بادشاہ ہو یا غلام ، مرد ہو یا عورت ہرشخص کو اپنی طاقت وقوت کے مطابق نیکی کی دعوت عام کرنی چاہیے۔
(4)تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اِس اُمَّت کی عظیم ترین اور سب سے افضل ہستیاں ہیں ، اِن کے کردار و گفتار ، عدالت و سخاوت ، عبادت و ریاضت ، شجاعت و بہادری کے حسین باب موجود ہیں۔
(5)صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی ادنیٰ سے گستاخی بھی دنیا وآخرت کی تباہی وبربادی کا سبب ہے ، اِس لیے ان مبارک ہستیوں کی ہمیشہ تعریف کرتے رہنا چاہیے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہردم نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا عشق اور محبت عطا فرمائے ، اُن کی گستاخی سے محفوظ فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 192