- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- حدیث نمبر 195
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ البَجَلِیِّ الْاَحْمَسِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَجُلاً سَاَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ
عَلَیْہِ وَسَلَّم وَقَدْ وَضَعَ رِجْلَہُ فِیْ الْغَرْزِ : اَیُّ الْجِہادِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ : کَلِمَۃُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ. ( )
عن ابی عبد اللہ طارق بن شہاب البجلی الاحمسی رضی اللہ عنہ ان رجلا سال النبی صلی اللہ
علیہ وسلم وقد وضع رجلہ فی الغرز : ای الجہاد افضل ؟ قال : کلمۃ حق عند سلطان جائر. ( )
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُناابو عبداللہ طارق بن شہاب بَجَلی اَحْمَسِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس وقت پوچھا کہ جب آپ نے اپنا پاؤں مبارک رکاب میں رکھ دیا تھا : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کون سا جہاد افضل ہے؟‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ظالم حاکم کے سامنے حق بات کہنا۔‘‘
شرح حدیث
حق بات کہنے کی صورتیں:مذکورہ احادیث میں ظالم و جابر حکمرانوں کے سامنے حق بات کہنے کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے اور فاسق بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے کو سب سے افضل جہاد قرار دیا گیا ہے۔ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا اس اعتبار سے افضل جہاد ہے کہ اس میں ثواب زیادہ ہے نیزجابر سلطان کے مقابل حق بات کہنے کی چند صورتیں ہیں ، اسے بھلائی کا حکم دے یا بُرائی سے منع کرے یا کسی کی جان ، مال اور عزت وآبرو پامال کرنے سے روکے۔‘‘( )
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان ظالم حاکم کے سامنے حق بات کہنے کے متعلق ارشادفرماتے ہیں : ’’اگرچہ ایک کلمہ ہی ہو جیسے ہاں یا نہیں مثلًا فاسق بادشاہ اس سے پوچھے : کیا داڑھی منڈانا اچھا ہے؟وہ کہہ دے : نہیں۔ یہ ’’نہیں‘‘ کہنا بڑا جہاد ہے۔ ‘‘( )سب سے افضل جہاد ہونےکی وجوہات:مذکورہ بالا دونوں احادیث میں ظالم و جابر حاکم کے سامنے حق بات کہنے کو سب سے افضل جہاد فرمایا گیا ہے شارحین حدیث نے اس جہاد کے سب سے اعلیٰ و ارفع ہونے کی چند وجوہات بیان فرمائی ہیں۔ چنانچہ اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی عَلَّامَہْ خَطَّابِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیکے حوالے سے نقل
فرماتے ہیں کہ یہ جہاد کفار سے قتال کرنے کے مقابلے میں زیادہ افضل اس لیے ہے کہ جو شخص دشمن کے مدّ مقابل ہوتا ہے اسے زندہ بچنے کی اُمید بھی ہوتی ہے اور موت کا خوف بھی ، وہ نہیں جانتا کہ غالب ہوگا یا مغلوب ، لیکن جو شخص ظالم حاکم کے سامنے حق بات بیان کرتا ہے ، اسے نیکی کا حکم دیتا ہے ، وہ اس حاکم کے یہاں مجبور و مغلوب ہے ، گویا کہ ایسا شخص اپنے آپ کو اذیت میں ڈال رہا ہے اور اپنی جان کو ہلاکت پر پیش کررہاہے ، اُسے بس خوف لاحق ہے ، بچنے کی اُمید نہیں ، اسی غلبہ خوف کی بناء پر اِس جہاد کو جہاد کی تمام اقسام میں افضل قرار دیاگیا ہے۔ ‘‘( )
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ اگر بادشاہ اس کی تبلیغ کے نتیجے میں ان لوگوں پر ظلم کرنے سے باز آجائے تو ایک مخلوق کو ظلم سے رہائی نصیب ہوجائے گی ، جبکہ قتل کافر سے ایک کافر کم ہوگا مگر اس تبلیغ سے کثیر خلقِ خدا کو فائدہ ہوگا۔ ‘‘( )حق گوئی جہادِ اکبرہے:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ظالم حاکم کے سامنے حق گوئی کرنا جہادِ اکبر ہونے کی وجہ سے سب سے افضل جہاد ہے کیونکہ اس میں مخالفتِ نفس پائی جاتی ہے ، (نفس تو بادشاہ کی خوشامد کرنا چاہتاہے تاکہ اِنعام و اِکرام سے نوازا جائے۔ ) وہ نہیں چاہتا کہ حاکم کو نیکی کی دعوت دے کر خود کو پریشانی اور تکلیف میں ڈالے باوجود یکہ اس میں حاکم اور رعایا دونوں کے لیے نصیحت ہے اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حاکم کو نہی عن المنکر کے ذریعے کسی مسلمان کو ظلمًا قتل کرنے سے روکنا اور مسلمان کو قتل ہونے سے بچانا کافر کو قتل کرنے سے زیادہ افضل ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرتا ہے :وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-( پ۶ ، المآ ئدۃ : ۳۲)
ترجمۂ کنزالایمان : اور جس نے ایک جان کو جِلا لیا اس نے گویا سب لوگوں کو جِلالیا۔ ( )
کمالِ توکل، قوت ایمان پر دلالت:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’ظا لم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے کو افضل جہاد اس لیے کہا گیاکہ یہ فعل ا س شخص کے کمال توکل ، قوت ایمان اور شدت یقین پر دلالت کرتا ہے۔ وہ اس طرح کہ اس شخص نے ایسے ظالم و جابر بادشاہ کے سامنے حق بات کہی کہ جو ظلم و ستم کرنا کا عادی ہے تو اس شخص نے اس حاکم کے ظلم سے بے خوف و خطر ہوکر حق بات کہی ۔ گویا کہ اس شخص نے اپنی جان کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دستِ قدرت پر فروخت کردیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حق اور اس کے حکم کو اپنے نفس کے حق پر فوقیت دی ۔ برخلاف اس شخص کے کہ جو اپنے ہم پلہ دشمن سے جہاد کرے کیونکہ اُسے ایسا خطرہ نہیں ہوتا جو خطرہ ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے والے کو ہوتا ہے۔ ‘‘( )حاکم کو نصیحت کون کرے؟میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ دونوں احادیث میں ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے کو سب سے بہترین جہاد فرمایا گیا ہے اور حاکموں کو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے والے شخص کو اللہ عَزَّوَجَلَّ پر توکل اور کامل یقین رکھنے والوں میں شمار کیا گیا ہے ، لیکن ہر انسان اس اہم کام کو سرانجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور نہ ہی ہر شخص اس بات پر قادر ہے کہ وہ اپنا پیغام بادشاہ اور حکام تک پہنچائےبلکہ یہ کام تو خاص طور ان لوگوں کی ذمہ داری ہے جن کے حاکموں ، وزراؤں اور اہل منصب افراد سے قریبی تعلقات ہیں اور ایسے لوگ ہی حکماء اور اَمراء کو دین و شریعت کا درس دے سکتے ہیں۔ لیکن حاکموں کو نیکی کی دعوت دینے اور عام افراد کو نیکی کی دعوت دینے میں بہت فرق ہے ، کیونکہ ممکن ہے کہ اگر عوام الناس کو آپ کی کوئی بات ناگوار گزرے گی تو وہ صبر کرلیں ، لیکن اگر حکام کو کوئی بات ناپسند آئی تو آپ کو ضرر پہنچنے کا قوی امکان ہے۔ لہذا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے سے پہلے اس کے آداب جاننا ضروری ہے ، تاکہ نیک مقصد میں کامیابی کو ممکن بنایا جاسکے۔ اسی ضمن میں ہمارے اکابرین نے نہایت حکمت بھری نصیحتیں فرمائی ہیں کہ جن پر
عمل پیرا ہوکر اس عظیم مقصد میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ ،بادشاہ کو نصیحت کرنے کا انداز:امام الائمہ ، سراج الامہ امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے شاگردِ رشید امام ابو یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بادشاہ کو نیکی کی دعوت دینے کے متعلق نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’جب تم بادشاہ کے اندر کوئی خلافِ شرع بات دیکھو تو اس کی اطاعت کرتے ہوئے اس کے سامنے اس برائی کا ذکر کر دو ، کیونکہ اس کی طاقت وقوت تم سے زیادہ ہے ، اس سے یوں کہو کہ : جن باتوں میں آپ کو مجھ پر اقتدار واختیار حاصل ہے میں ان میں آپ کا فرمانبردار ہوں ، لیکن آپ کے کردار میں کچھ ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو شریعت کے موافق نہیں۔ یہ یاد رہے کہ ایک مرتبہ نصیحت کردینا ہی کافی ہے ، بار باربادشاہ کو نصیحت کروگے تو اس کے درباری تمہارا اثر ورسوخ ختم کر دیں گے ، جس کی وجہ سے دین کو بھی نقصان پہنچے گا۔ ایک یا دومرتبہ نصیحت کردو تاکہ لوگ تمہاری دینی جدوجہداور نیکی کی دعوت کے جذبے کوجان لیں۔ اس کے بعداگر بادشاہ دوبارہ کسی برائی کا ارتکاب کرے ، تواس کے گھر میں تنہائی میں اسے اسلامی احکام پر عمل کرنے کی ترغیب دو اور اگر وہ بد عتی ہو تو (علم ہونے کی صورت میں) اس سے مناظرہ کرو اور قرآنِ حکیم کی آیات بیِّنات ، فرامینِ رسول میں سے جس قدر تمہیں یاد ہو اسے بیان کرکے اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کرو ، اگر وہ حق بات قبول کرلے تو ٹھیک ہے ورنہ بارگاہِ خداوندی میں عرض کروکہ وہ تمہیں ظالموں کے ظلم سے محفوظ رکھے۔ ( )حاکم کونصیحت کرنے میں احتیاط:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر امراء کو نیکی کی دعوت دینا نہایت قابل تعریف کام ہے ، لیکن اس کام کو انجام دیتے ہوئے اس امر کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ظالم بادشاہ کو نیکی کی دعوت دینے میں سختی کا راستہ اختیار کرے اور نتیجۃً حاکم رعایا پر سختی کرکے انہیں ظلم و تشدد کا نشانہ بنائے ۔ لہٰذا ہر اس طریقے سے اجتناب کرنا لازم ہے جس سے دوسروں کو نقصان پہنچے ، ہاں اگر سخت
الفاظ استعمال کرنے میں صرف اپنی ذات کو ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو تو یہ طریقہ اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ چنانچہحُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں : ’’بادشاہ کو یوں مخاطب کرنا : اے ظالم! اے وہ شخص جواللہ عَزَّوَجَلَّ سے نہیں ڈرتا اور اسی طرح کے دوسرے الفاظ تو یہ دیکھا جائے گا کہ اگر اس سے ایسا فتنہ وفساد پیدا ہوتا ہے جس کا شر دوسرے افراد تک پہنچتا ہے تو اس انداز کو اختیار کرنا اس کے لیے جائز نہیں اور اگر اس سے صرف اپنی ہی ذات کو نقصان پہنچنے کا خوف ہو تو یہ صورت جائز بلکہ مستحب ہے ۔ کیونکہ ہمارے اسلاف کا طریقہ رہا ہے کہ وہ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر حق بات ظالم بادشاہ کے سامنے وا ضح الفاظ میں کہہ دیتے تھے ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر انہیں بادشاہ کے حکم سے حق بات کہنے کی وجہ سے قتل کردیا جائے تووہ شہید ہوں گے۔ حدیث پاک میں حضور نبی اکرم نو رِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’سب سے اچھے شہید حضرت حمزہ بن عبد المطلب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ، پھر وہ شخص جو حاکم کے پاس کھڑا ہوکر اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی فرمانبرداری کا حکم دے اور برائی سے روکے تو حاکم اسے اس وجہ سے قتل کروادے ۔ ‘‘( )
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں : ’’ظالم بادشاہ کو تبلیغ صرف وعظ و نصیحت سے ہوسکتی ہے ، قہر سے نہیں ۔ وہ بھی نرمی سے کیونکہ اسے ظالم جابر کہہ کر پکارنا گالیاں دینا سخت فتنے کا باعث ہے۔ شہد کی ایک بوند بہت سی مکھیوں کو جمع کرلیتی ہے مگر سرکہ کا ایک گھڑا مکھی کو نہیں بلاسکتا۔ ‘‘( )ظالم حکمرانوں کی تائید کرنے والے:ظالم حکمرانوں کو نیکی کی دعوت دینا اور برے کاموں سے منع کرنا یقیناً ایک قابل تعریف عمل ہے لیکن بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں جہاں طرح طرح کے گناہوں کا بازار گرم ہے ، وہیں ظالم و جابر حکمرانوں کی تائید کرنے اور ان کے فسق و فجور جاننے کے باوجود ان کی حمایت کرنے کا گناہ بھی معاشرے میں تعفن کی طرح پھیلتا جارہا ہے ، صاحب منصب ، جاہ و حشمت اور حاکموں کی رفاقت اختیار کرنے کو بہت
اچھا گمان کیا جانے لگا ہے۔ افسوس! صد افسوس! کہ ہم دنیا کی محبت میں اس قدر مستغر ق ہوگئے ہیں کہ دنیوی مال ودولت کی وجہ سےحق بیان کرنے سے عاجز آگئے ، آخرت کی فکر دل و دماغ سے محو ہوتی چلی جارہی ہے ، دِینِ اسلام جو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا پسندیدہ دین ہے ، اس نے ہمیں نہ صرف امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا حکم دیا ہے ، بلکہ برے کاموں میں تعاون کرنے سے بھی منع کیا ہے ، لیکن آج کل ظالم حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جو کچھ کیا جاتا ہے ، وہ کسی سے مخفی نہیں ، ان کی کامیابی کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں ، ان کی چاپلوسی کی جاتی ہےاور ان کی خلاف شرع باتوں کو بھی صحیح سمجھا جاتا ہے۔ یاد رکھیے! ظالم حکمرانوں کے لیے دعائیں کرنا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی پر رضامند ہونے کے مترادف ہے۔ چنانچہ حضور اکرم نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : “ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس وقت غضبناک ہوتا ہے جب کسی فاسق کی تعریف کی جائے۔ “ ( ) ایک حدیث پاک میں ہے : “ جس نے کسی ظالم کے باقی رہنے کی دعا کی اس نے یہ پسند کیا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کی جائے۔“( )سَیِّدُناحسن بصریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی حق گوئی:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمارے اَسلاف وبزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن اپنی حیاتِ طیبہ کو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت و فرمانبرداری میں صرف کیا کرتے تھے ، وہ ہر حال میں حق گوئی اور سچائی کا دامن تھامے رکھتے تھے ، عام لوگوں کے ساتھ ساتھ اُمراء اور حکام کو بھی نیکی کی دعوت دیتے اور برائی سے منع کرتے اور دِین کے معاملے میں کسی حاکم کے عہدے اور منصب کا لحاظ نہ رکھتے تھے۔ ایسے واقعات سے کتب بھری پڑی ہیں ، فقط ایک واقعہ پیش خدمت ہے۔ حضرت ابن عائشہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ظالم بادشاہ حجاج بن یوسف نے حضرتِ سَیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی کو بلایا تو آپ اس کے پاس گئے ۔ اس نے آپ کو دیکھ کر کہا : ’’تم نے ہی یہ کہا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ
ان اُمراء کو ہلاک کرے جنہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندوں کو درہم و دینار پر مار ڈالا ہے؟ ‘‘آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : ’’ہاں۔ ‘‘ حجاج بن یوسف نے پوچھا : ’’یہ بات کہنے پر آپ کو کس چیز نے ابھارا؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے نہایت ہی جرأت وبہادری کے ساتھ اسے منہ توڑ جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے علماء سے یہ عہد لیا ہے کہ لوگوں سے دِین بیان کریں گے اور اُسے چھپائیں گے نہیں۔ ‘‘ حجاج بن یوسف نے نہایت ہی بدتمیزی سے بکواس کرتے ہوئے کہا : ’’اے حسن! اپنی زبان رو کو اور آئندہ اس سے بچو کہ مجھے تمہاری طرف سے کوئی ناپسندیدہ بات پہنچے ورنہ میں تمہارا سر جسم سے جدا کردوں گا۔‘‘( )مدنی گلدستہ
’’بریلی ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول(1)ظالم حاکم کے سامنے حق بات کہنا سب سے افضل جہاد ہے کیونکہ اس میں نفس کشی بھی ہے ، جان و مال ، عزت و آبرو کے تلف ہونے کا شدید خوف بھی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ پر کامل یقین بھی۔
(2)جابر اُمراء کے سامنے حق بات کہنے کی چند صورتیں ہیں : اُسے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرے ، لوگوں کی جان و املاک کو نقصان پہنچا نے اور ان کی آبرو ریزی کرنے سے منع کرے۔
(3)ظالم و جابر بادشاہ کے سامنے حق گوئی کرنا کسی کافر کو قتل کرنےسے زیادہ افضل ہے کیونکہ اس سے کثیر لوگوں کو فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اس کے ظلم سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔
(4)ظالم بادشاہ کو نیکی کی دعوت دینے میں سخت گوئی سے کام نہ لیا جائے کہ یہ فتنہ کا باعث ہے۔
(5)ظالم حکمرانوں کی تعریف اور ان کے حق میں دعا کرنے سے گریز کرنا چاہیے کہ غضب الٰہی کا باعث ہےاورحدیث پاک میں ایسے شخص کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی پر رضامند ہونے والا فرمایا گیا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ظالم و جابر حکمرانوں کے سامنے بھی حق کہنے کی توفیق عطا فرمائے
نیز ہمیں اور تمام مسلمانوں کو ظالم حکمرانوں کی تائید کرنے اور اُن کے جبر سے محفوظ و مامون فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 195