حدیث مبارکہ
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ،اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم اُتِيَ بِشَرابٍ، فَشَرِبَ مِنْهُ وَ عَنْ يَمِينِهِ غُلاَ مٌ وَعَنْ يَسَارِهِ الْاَشْيَاخُ. فَقَالَ لِلْغُلَامِ: اَتَأْذَنُ لِيْ اَنْ اُعْطِيَ هٰؤُلٓاءِ؟ فَقَالَ الغُلَامُ: لَا! وَاللهِ يَا رَسُوْلَ الله! لَا اُوْثِرُ بِنَصِيْبِـي مِنْكَ اَحَداً. فَتَلَّهُ رَسُولُ الله في يَدِهِ.
عن سهل بن سعد رضی اللہ عنہ،ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اتي بشراب، فشرب منه و عن يمينه غلا م وعن يساره الاشياخ. فقال للغلام: اتأذن لي ان اعطي هؤلاء؟ فقال الغلام: لا! والله يا رسول الله! لا اوثر بنصيبـي منك احدا. فتله رسول الله في يده.
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُناسہل بن سعدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہےکہ تاجدار ِرِسالت،شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں مشروب لایا گیا تو آ پصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس میں سے کچھ نوش فرمایا۔آپ کے دائیں جانب ایک نوعمر لڑکا اور بائیں جانب بڑی عمر کے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانتھے ۔ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس لڑکے سے فرمایا: ’’کیا تم اجازت دیتے ہو کہ میں یہ مشروب انہیں دے دوں؟‘‘اس نوعمر لڑکے نے عرض کی:’’نہیں،اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! یارسولَاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !آپ کی طرف سے ملنے والےاپنے اس حصے پر میں کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔‘‘ پس حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےوہ مشروب اُس نوعمر لڑکے کے ہاتھ میں دے دیا ۔
شرح حدیث
سَیِّدُناعبداللّٰہبن عباس کا تعارف:حدیثِ مذکور میں جس نوعمر لڑکے کا ذِکر ہے وہ حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُہیں جو حضور نبی اَکرم، نورِ مُجَسَّمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے چچازاد بھائی ہیں۔آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو بارگاہِ رِسالت سے بے شمار فضائل وبرکات حاصل ہوئے، آپ کوحِبْرُالْاُمَّۃکہا جاتا ہے،حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کوگھٹی دی، آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس جبریلِ امینعَلَیْہِ السَّلَامکو بھی دیکھا ہے، رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کو اپنے سینے سے لگاکر یوں دعا دی:’’اَللّٰهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَیعنی اےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! اسے حکمت کا علم عطا فرما۔‘‘دائیں جانب سے ابتداء کرنا سنت ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیثِ مذکور سے معلوم ہوا کہ جب محفل میں دائیں بائیں لوگ موجود ہوں اور کوئی چیز تقسیم کرنی ہو تو دائیں جانب والوں سے ابتدا کی جائےاگرچہ وہ علم وعمر میں کم ہوں۔ ہاں!ان کی اجازت سے دوسروں کو مُقَدَّم کیا جاسکتا ہے۔سیدھے ہاتھ سے شروع کرنا سنتِ مبارکہ ہے۔ چنانچہ اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں کہ”حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدائیں جانب سے وضو کرنا پسند فرماتے، اِسی طرح کنگھا بھی سیدھی طرف سے ہی کرتے اور نعلین شریفین پہننے کا اِرادہ فرماتے توپہلے سیدھا قدم سیدھے نعل شریف میں داخل فرماتے تھے۔“دائیں طرف کے اَعرابی کو دیا:حضرت سَیِّدُنا اَنس بن مالِکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمَروی ہے کہ ایک بارحضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ اَقدس میں بکری کا دودھ پیش کیا گیا جس میں کنویں کا پانی ملایا گیا تھا،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس میں سے کچھ نوش فرمایا،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بائیں جانب حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُتھےاوردائیں جانب ایک اَعرابی بیٹھا تھااور حضرت سَیِّدُنافاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو لگ رہا تھا کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخود نوش فرمانے کے بعد اعرابی کو دے دیں گے تو آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی:’’یارسولَاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !اپنا بچا ہوا مبارک دودھ سَیِّدُنَاابوبکر صدیق رَضِیَاللّٰہَتعَالٰی عَنْہُکو دے دیجئے۔‘‘رسولِ کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وہ بچا ہوا مُتبرک دودھ صدیق اکبررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکودینے کے بجائے اپنی دائیں جانب بیٹھے ہوئے اَعرابی کو دیتے ہوئے فرمایا: ’’دائیں طرف سےشروع کرو، دائیں طرف سے ۔‘‘مذکورہ اَحادیث کے متعلق ایک اہم وضاحت:بعض احادیث میں بڑوں کو مقدم کرنے کاحکم دیا گیا ہے( ) جبکہ مذکورہ بالا دونوں اَحادیث میں دائیں جانب سے شروع کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ان میں تطبیق کی صورت یہ ہےکہ اگر مجلس میں لوگ بغیر کسی ترتیب کے اکٹھے بیٹھے ہوئے ہوں، دائیں جانب یا بائیں جانب کی تعیین نہ ہو تو ایسی صورت میں بڑوں سے ہی شروع کیا جائے گا۔لیکن اگر حلقہ بنا کرترتیب سے بیٹھے ہوں تو اس صورت میں دائیں طرف سے ہی تقسیم شروع کی جائے گی۔حضرت سیدنااماممُہَلَّبرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ’’ہرشے میں سن رسیدہ یعنی بزرگوں کو مُقَدَّم کرنا اَولیٰ ہے،جبکہ لوگ ترتیب وار نہ بیٹھے ہوں، اگر ترتیب وار بیٹھے ہوں تودائیں طرف سے شروع کرنا ہی سنت ہے۔‘‘حصولِ تبرکات کے لیے کوشش:حضرت سَیِّدُنَا عبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُوالی حدیث پاک سے معلوم ہواکہ بزرگوں کے تبرکات کے حصول کے لئے کوشش کرنی چاہیے، جسے تبرک ملا اگر وہ کسی اور کو نہ دے اگرچہ وہ اُس سے عمر، علم ومقام ومرتبے میں بڑا ہوتو اس میں کسی قسم کی کوئی بے ادبی نہیں۔جیسا کہ حضرت سَیِّدُنَا عبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہنے کیا حالانکہ اس وقت محفل میں کبار صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی موجود تھے لیکن انہوں نے اس متبرک مشروب میں سے کسی کو کچھ نہ دیا اور عرض کی کہ میں رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ملنے والے تبرک میں اپنے اوپر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی یہ کوشش ہوتی تھی کہ اپنے پیارے آقا ،مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تبرکات کو کسی طرح حاصل کرلیں، تبرکات کے حصول میں صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا عشقِ رسول سے بھرپور ایسا والہانہ انداز ہوتا تھا کہ کفار بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے۔ چنانچہ صلحِ حدیبیہ کے موقع پر جب سرکارِ مکہ مکرمہ، سردارِ مدینہ منورہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے ساتھ عمرہ کرنے تشریف لائے تو کفارِ مکہ نےعروہ بن مسعود ثقفی کو جو طائف کے بڑے سردار اورعرب کے نہایتمُتَمَوَّل(یعنی مالدار)شخص تھے، تحقیقِ حال کے لیے مسلمانوں کے طرف بھیجا،انہوں نے واپس آکر کفار مکہ کو یہ تاثرات دیے:(1)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب تھوکتے ہیں تو ان کے اصحاب ان کے تھوک کو اپنے ہاتھوں پر لے لیتے ہیں، اور اسے اپنے چہرے اور جسم پر مل لیتے ہیں۔ (2)جب رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوئی حکم دیتے ہیں تو ان کے اصحاب اسے پورا کرنے میں بہت جلدی کرتے ہیں۔(3)جب رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموضو کرتے ہیں تو ان کے وضو کا غَسَالَہ یعنی دھوون لینے کے لیے اس طرح کوشش کرتے ہیں گویا ابھی ان کے درمیان قتال شروع ہوجائے گا۔(4) رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا کوئی بال جسمِ اَقدس سے گرنے نہیں پاتا، اگراحیاناً (کبھی) جدا ہوا تو صحابہ اس کو بہت ادب کے ساتھ لیتے اور جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔(5)جب رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگفتگو کرتے ہیں تو اُن کے اَصحاب نہایت ہی ادب واحترام وخاموشی کے ساتھ اُن کی گفتگو سنتے ہیں۔(6)رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اَصحاب ان کی حددرجہ تعظیم وتکریم کی وجہ سے ان کے چہرہ اقدس کی طرف نظر نہیں کرتے ہیں۔(7)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! میں بڑے بڑے بادشاہوں، قیصر وکسریٰ ونجاشی بادشاہوں کے درباروں میں گیا ہوں لیکناللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! میں نے کسی بادشاہ کے اَصحاب کو اُس کی ایسی تعظیم کرتے ہوئے نہیں دیکھا جیسا رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اَصحاب اُن کی تعظیم وتکریم کرتے ہیں۔بعدازاں سیدناعُروَہ بن مَسعود ثقفیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمُشَرَّف بااسلام ہوگئے۔صحابہ کرام اوررسولُاللّٰہکے تبرکات:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تبرکات کی حددرجہ تعظیم وتکریم کیا کرتے تھے، صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی تبرکاتِ نبوی کے ساتھ یہ تعظیم وتکریم نہ صرف آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حیاتِ طیبّہ میں تھی بلکہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصالِ ظاہری کے بعد بھی صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناُن تبرکات نبوی کی ویسے ہی تعظیم کیا کرتے تھے، چند ایمان افروز واقعات ملاحظہ فرمائیے:(1)مقامِ حدیبیہ میں سرکارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بال مبارک جب ترشوائے تو صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے انہیں تقسیم کرلیا۔حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ عَمارہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکہتی ہیں کہ میں نے بھی چند بال مبارک حاصل کرلئے۔ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصالِ ظاہری کے بعد جب کوئی بیمار ہوتا تو میں ان مبارک بالوں کو پانی میں ڈبو کر پانی مریض کو پلاتی تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاسے صحت عطا فرمادیتا۔(2)حضرت سَیِّدُناانسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور تاجدارِرِسالت شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے یہاں تشریف لائے اور قیلولہ فرمایا۔ نیند کی حالت میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو پسینہ آیا، میری ماں اُمِّ سُلَیْم نے ایک شیشی لی اور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا پسینہ مبارک اس میں ڈالنے لگیں۔ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبیدار ہوئے توفرمانے لگے: ’’اُمِّ سُلَیْم تم یہ کیا کررہی ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’یہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاپسینہ ہے ہم اس کو اپنی خوشبو میں ڈالتے ہیں اور وہ سب خوشبوؤں سے عمدہ خوشبو ہے۔‘‘دوسری روایت میں ہے کہ اُمِّ سُلَیم نے یوں عرض کیا:’’یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ہم اپنے بچوں کے لئے آپ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے عرق مبارک کی برکت کے امیدوار ہیں۔‘‘آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’تو نے سچ کہا۔‘‘(3)ایک صحابیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کفن کے لیے آپ کی مستعمل چادر لی اور پھر اُن صحابی کے انتقال کے بعد اسی چادرمیں اُن کو کفنایا گیا۔(4)حضرت سَیِّدُنَاامیر معاویہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکا آخری وقت آیا تو آپ نے وصیت فرمائی کہ اُنہیں اُس قمیص میں کفن دیا جائے جو حضور نبی اکرم،نورِمُجَسَّمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں عطافرمائی تھی اوریہ ان کے جسم سے متصل رکھی جائے۔آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ناخن پاک کے کچھ تراشے بھی تھے، ان کے متعلق وصیت فرمائی کہ انہیں باریک کرکے اُن کی آنکھوں اور دہن پر رکھ دیے جائیں۔ فرمایا:’’یہ کام انجام دینا اور مجھےاَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنکے سپرد کردینا۔(5)امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خداکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے پاس مُشک تھی، آپ نے وصیت فرمائی کی ان کی میت کو وہ مُشک لگائی جائے کیونکہ وہ حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جَسَدِاَطْہَر سے مَس ہوئی مُشک تھی۔(6)حضرت سَیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے (بوقت وفات) فرمایا: ’’یہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاموئے مبارک ہے، اسے میری زبان کے نیچے رکھ دو۔‘‘ چنانچہ وہ موئے مبارک اُن کی زبان کے نیچے رکھ دیا گیا اور اسی حالت میں تدفین کر دی گئی۔(7)حضرت سَیِّدُنَاانس بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ایک چھڑی تھی، جب ان کا وصال ہوا تو اس مبارک چھڑی کو ان کے پہلو اور ان کی قمیص کے درمیان رکھ کر ان کی تدفین کردی گئی۔(8)حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی لختِ جگر حضرت سَیِّدَتُنَا زینب یا حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ کلثومرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے وصال کے بعد ان کو غسل دینے والی خواتین سے فرمایا: ’’اسے پانی اور بیری کے پتوں سے تین مرتبہ، یا پانچ مرتبہ یا اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ بار غسل دینا آخری بار کافوریا کافور کی طرح کی کوئی دوسری چیز ملا لینا اور فارغ ہونے کے بعد مجھے اطلاع دینا۔چنانچہ غسل سے فراغت کے بعد جب اطلاع دی گئی تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنا تہبند شریف دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’یہ اس کے بدن سے مُتَّصِل رکھنا۔‘‘(9)امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیرِخداکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی والدہ ماجدہ حضرت سَیِّدَتُنَا فاطمہ بنتِ اسدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاکا جب وصال ہوا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کی قبر میں لیٹے اور اپنا کُرتا اتار کر انہیں پہنایا۔ جب وجہ پوچھی گئی تو فرمایا: ’’میں نے اسے کُرتا اس لیے پہنایاتاکہ اسے جنتی کپڑے ملیں اور اس کی قبر میں اس لیے لیٹا تا کہ قبر کے دبانے سے محفوظ رہے۔‘‘مدنی گلدستہ’’تَبَرُّکَاتِ نَبوی‘‘کے10حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے10مدنی پھول
(1) تمام اچھےاُمور کی ابتداسیدھے ہاتھ سے کرنی چاہیےکہ یہ سنت ہے۔
(2) محفل میں کوئی چیز تقسیم کرنی ہو تو اگر لوگ بغیر ترتیب کے اکٹھے بیٹھے ہیں تو بزرگوں کو پہلے دی جائے اور اگر ترتیب کے ساتھ دائرہ، لائن یا صف وغیرہ بنا کر بیٹے ہیں تو دائیں طرف سے شروع کی جائے۔
حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو بارگاہِ رسالت سے بہت فضائل حاصل ہوئے۔
(3) رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جسمِ اَطہر سے مَس ہونے والی شےبہت بابرکت بن جاتی ہے۔
(4) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضورعَلَیْہِ السَّلَامکے تبرکات سے فیوض وبرکات حاصل کرتے تھے۔
(5) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسرکارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تبرکات حاصل کرنے میں اتنی کوشش کرتے تھے گویا آپس میں ایک دوسرے سے لڑ پڑیں گےحالانکہ وہ لڑتے نہیں تھے۔
(6) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تبرکات کو اپنے پاس محفوظ رکھتے، اُن سے برکت حاصل کرتے بلکہ انہیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتے۔
(7) بعض صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے تو وصیت فرمائی کہ انہیں حضور تاجدارِ مدینہ قرارِ قلب وسینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تبرکات کے ساتھ ہی دفن کیا جائے۔
(8) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضور نبی کریم، رَءُوْفٌرحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جیسی تعظیم کرتے تھے بڑے بڑے بادشاہوں کے درباری بھی اُن کی ویسی تعظیم نہیں کیا کرتے تھے۔
(9) بزرگوں کی گفتگو کے دوران خاموشی اختیار کرنا، کچھ نہ بولنا بھی ادب وتعظیم سے ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں نیک بندوں کی تعظیم کرنے، تبرکاتِ نبوی کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 569