Main Icon

باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 862

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّهُ مَرَّ عَلَى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ:كَانَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ .

عن انس رضی اللہ عنہ انه مر على صبيان فسلم عليهم وقال:كان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم يفعله .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ایک بار وہ بچوں کے پاس سے گزرے توانہیں سلام کیااورفرمایا کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی اسی طرح کیاکرتے تھے۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں جہاں حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اَخلاق ِحسنہ اورتواضع و انکساری کا بیان ہے وہیں بچوں کی تعلیم وتربیت کاعملی طریقہ بھی موجود ہے ۔ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبچوں کی تعلیم وتربیت کے لئے حسبِ موقع ان کے سامنے وہ اعمال کرتے جو انہیں سکھانا مقصود ہوتے،اس طرح بچے بہت جلد سنتوں کے عادی بن جاتے اور پھر ہمیشہ ان پر عمل پیرا رہتے ۔بچوں کی تربیت :عَلَّامَہ اَبُو الْعَبَّاس شَہَابُ الدِّیْن اَحْمَدْ قَسْطَلَّانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانیِفرماتے ہیں:حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبچوں کو آدابِ شریعت سکھانے کے لئے انہیں سلام کیا کرتے تھے۔ بچوں کو سلام کرنے میں تواضع،انکساری اور نرمی کا پہلو بہت نمایاں ہوتاہے ۔ اگر بچہ اَمْرَدْہو اور سلا م کرنے میں فتنے کا خوف ہو تو سلام نہیں کرنا چاہیے۔ چھوٹے بچے کو سلام کیا تو اس پر جواب دینا واجب نہیں کیونکہ نابالغ بچہمُکَلَّفْنہیں ہوتا۔اگر بچے نے کسی بالغ کو سلام کیا تواس پر سلام کا جواب دینا واجب ہے ۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا بچوں کوسلام کرناآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اچھے اخلاق میں سے ہے اوراس میں بچوں کوسنتوں کی تعلیم دینے کی مشق اور آدابِ شریعت کی تربیت بھی مقصود ہے۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّنابالغ کاسلام کا جواب دینا:بہار شریعت میں ہے:’’اہلِ مجلس پر سلام کیا ان میں سے کسی نابالغ عاقل نے جواب دے دیا تو یہ جواب (سب کی طرف سے)کافی ہے اور بڑھیا نےجواب دیا، یہ جواب بھی ہوگیا۔ جوان عورت یا مجنون یا ناسمجھ بچہ نے جواب دیا، یہ ناکافی ہے۔‘‘مدنی گلدستہ’’حطیم ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) حضور نبی رحمت شفیعِ اُمَّت
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبچوں کو آدابِ شریعت سکھانے کے لئے اُنہیں سلام کیا کرتے تھے۔
(2) جماعت کوسلام کیا جس میں بچے بڑے سب ہی تھے اور سلام کا جواب ناسمجھ بچوں نے دیا تو بقیہ جماعت سے سلام کا جواب ساقط نہ ہوگا اوراگر بچے نے کسی بالغ کو سلام کیا تواس پر سلام کا جواب دینا واجب ہے۔
(3) بچوں کی دِینی تربیت کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جس اچھے عمل کا اُن کو عادی بنانا ہوتو وہ اچھا عمل اُن کے سامنے کیا جائےکہ بچے نقل کرتے ہیں۔
(4) چھوٹے بچے کو سلام کیا تو اس پر جواب دینا واجب نہیں کیونکہ نابالغ بچہ
مُکَلَّفْنہیں ہوتا۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت کو اپناتے ہوئے بچوں کو بھی سلام کرنے کی توفیق عطا فرمائےاور بچوں کی دینی تربیت کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 862