Main Icon

باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 911

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائشَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ:سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ اِليَّ يَقُوْلُ:اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِيْ وَاَلْحِقْنِي بِالرَّفِيْقِ الْاَعْلٰی.

عن عائشة رضی اللہ عنہا قالت:سمعت النبي صلى الله عليه وسلم وهو مستند الي يقول:اللهم اغفر لي وارحمني والحقني بالرفيق الاعلی.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:میں نے رسولِ پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اِس حال میں کہ آپ مجھ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے یہ فرماتے سنا:”یَااللّٰہ! میری مغفرت فرما، مجھ پر رحم فرما اور مجھےرفیق اعلیٰ سے ملادے۔“

شرح حدیث

مغفرت کی دعا کرنے کی وجہ:مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ جب بندے کو اپنی زندگی کی امید نہ رہے تو اُسےاللّٰہ تَعَالٰیسے رحمت و مغفرت کی دعا کرنی چاہیے جیسا کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یوں دعا فرمائی: ’’اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّمیری مغفرت فرما، مجھ پر رحم فرما۔‘‘لیکن یہ بات یاد رہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا مغفرت و رحمت کی دعا مانگنا بارگاہِ خدا وندی میں عاجزی و اِنکساری کی وجہ سے تھا کیونکہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگناہوں سے پاک ہیں،سید المعصومین ہیں اورآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے گناہ سرزد ہونا محال ہے۔ یہ سرکارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عاجزی و اِنکساری ہے نیز ہماری تعلیم کے لیے ہے، چنانچہعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دعائے مغفرت کرنا بارگاہِ الٰہی میں انتہائی عاجزی و انکساری کی وجہ سے ہے ورنہ وہ تو تمام گناہوں سے پاک ہیں یا پھر مغفرت کی دعا کرنا اُمَّت کی تعلیم کے لیے ہے۔رفیق اعلیٰ سے مراد:حدیث میں ہے کہ مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے۔ رفیق اعلیٰ سے کیا مراد ہے اس کی شرح کرتے ہوئےعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:علامہ جوہری کہتے ہیں کہ رفیق اعلیٰ سے مراد جنت ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ رفیق اعلیٰ سے مراد انبیاعَلَیْہِمُ السَّلَامہیں اور وہ لوگ جن کا ذِکر قرآن پاک کی اس آیت میں ہوا:﴿وَ حَسُنَ اُولٰٓىٕكَ رَفِیْقًاؕ(۶۹)﴾(پ۵، النساء:۶۹)ترجمہ ٔکنز الایمان:’’اور یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں۔‘‘ یعنی انبیا،صدیقین، شہداء اور صالحین۔ علامہ خطابیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیکہتے ہیں کہ اس سے مراد ملائکہ ہیں۔ علامہ کرمانیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:اس سے مراد وہی لوگ ہیں جن کا ذِکر مذکورہ آیت میں ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ رفیقِ اعلیٰ سے مراد ذاتِ باری تعالیٰ ہے کیونکہ رِفق کے معنی ہیں نرمی ومہربانی کرنا اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّاپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔یہ آخری معنیٰ مراد لینا مقامِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زیادہ مناسب ہےکیونکہ رفیقاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے اَسماء میں سے ہے اور اعلیٰ صفت ہے۔فائدہ :موت کے وقت دل دنیا کے تعلق سے فارغ ہواور اس کا تعلق رحمت اور بخشش کی اُمید کرتے ہوئے حق تعالیٰ کی طرف ہو۔مدنی گلدستہ’’رحمت ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(6) حضورنبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا مغفرت اوررحمت کی دعا کرنا بطورِ عاجزی و اِنکساری اور تعلیم اُمَّت کے لئے تھا ورنہ آپ تو گناہوں سے پاک ہیں۔
(7) جب کوئی شخص بیمار ہو اور اُسے اپنے بچنے کی اُمِّید نہ رہے تو اسے چاہیے کہ اپنے لیے رحمتِ الٰہی کی اُمِّید کرتے ہوئے بخشش کی دعا مانگے۔
(8) عاجزی و انکساری
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکو بہت پسند ہے۔حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی بہت عاجزی و اِنکساری فرماتے تھے ہمیں بھی چاہیے کہ ہم عاجزی و انکساری کریں۔(9) ∞مرتے وقت دل دنیا کے تعلق سے خالی ہو۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں مرتے وقت کلمہ طیبہ پڑھنا نصیب فرمائے اور اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نورانی جلوؤں میں ہمیں موت نصیب فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 911