Main Icon

باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1249

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ:مَا مِنْ اَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيْهَا اَحَبُّ اِلَى اللهِ مِنْ هذِهِ اْلا َ يَّامِ يَعْنِي اَ يَّامَ الْعَشْرِ قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللهِ وَلَا الْجِهَادُ في سَبِيْلِ اللهِ قَالَ : وَلَا الْجِهَادُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ اِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذٰلِكَ بِشَيْءٍ.

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:ما من ايام العمل الصالح فيها احب الى الله من هذه الا يام يعني ا يام العشر قالوا: يا رسول الله ولا الجهاد في سبيل الله قال : ولا الجهاد في سبيل الله الا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”ان (ذوالحجہ کے ابتدائی)دس دنوں سے زیادہ دیگر دنوں میں سے کسی دن کا نیک عملاﷲ عَزَّ وَجَلَّکو محبوب نہیں۔“صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی:’’یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا راہِ خدا میں جہاد کرنا بھی نہیں؟‘‘فرمایا:”راہِ خدا میں جہاد بھی نہیں سوائے اس شخص کہ جو اپنے جان ومال کے ساتھ جائے پھر اِن میں سے کچھ واپس نہ لائے۔“

شرح حدیث

افضل دنوں میں عبادت بھی افضل ہے:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”بقر عید کے پہلے عشرہ میں ربّ تعالیٰ کو بندوں کے نیک عمل بہت پیارے ہیں جن پر بہت ثواب دے گا کیونکہ یہ زمانہ حج کا ہے اور اسی عشرہ میں عرفہ کا دن ہے جو تمام دنوں سے بہتر ہے ماہِ رمضان کی آخری دس راتوں میں نیکیاں بہت قبول ہیں کہ یہ زمانہ اعتکاف کا ہے اور اس میں شبِ قدرہے، ربّ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ(۲)﴾(پ۳۰،الفجر:۲)دس راتوں کی قسم۔خیال رہے کہ دن تو بقرعید کے اَوَّل عشرہ کے افضل ہیں اور راتیں رمضان کے آخری عشرہ کی افضل، اسی لیے یہاں(یعنی حدیثِ پاک میں)اَیَّامفرمایا گیا اورقرآن شریف میںلَیَالٍ، لہٰذا قرآن وحدیث مُتعارِض نہیں۔اس سےمعلوم ہوا کہ افضل دنوں میں عبادت بھی افضل ہے،اسی لیے شبِ معراج، شبِ بَراءَت،شبِ میلاد میں عبادات افضل ہیں کہ یہ افضل راتیں ہیں۔ بقرعید کے پہلے عشرہ کے اعمال دوسرے زمانہ کے جہاد سے افضل ہیں،ہاں یہ جہاد جس میں غازی جان و مال سب کچھ قربان کردے یہ اس عشرہ کی نیکیوں سے افضل ہے۔معلوم ہوا کہ اس عشرہ کا جہادتو بہت ہی افضل ہوگا۔“سال کا افضل دن اور رات:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی حَنَفِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقویفرماتے ہیں:”مختار مذہب یہ ہے کہ ذوالحجہ کے پہلے عشرے کے دن رمضان کے آخری عشرہ کے دنوں سے افضل ہیں کیونکہ انہی دنوں میں یوم عرفہ(۹ذوالحجہ) بھی ہے اور رمضان کے آخری عشرہ کی راتیں ذوالحجہ کے پہلے عشرہ کی راتوں سے افضل ہیں کیونکہ انہی راتوں میں شبِ قدر ہےلہٰذا یوم عرفہ سال کا افضل دن ہے اور شبِ قدر سال کی افضل رات ہے۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”عشرۂ ذوالحجہ کا آخری دن قربانی کا دن ہےاور یہ بات معلوم ہے کہ قربانی کے دن روزہ رکھنا جائز نہیں لہٰذا عشرۂ ذوالحجہ میں قربانی کا دن چھوڑ کر بقیہ ۹دن روزہ رکھاجائے۔“عشرۂ ذوالحجہ کی فضیلت پرتین فرامینِ مصطفےٰصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:(1)”اﷲ عَزَّ وَجَلَّکو عَشَرَۂ ذُوالحجہ سے زيادہ کسی دن میں اپنی عِبادت کیا جانا پسند نہیں اِس کے ہردن کا روزہ ایک سال کے روزوں اور ہرشب کاقِیام شبِ قَدْر کے برابر ہے۔“(2)”۹ذوالحجۃ الحرام کا روزہ ہزار روزوں کے برابر ہے۔“(3)”عشرۂ ذوالحجہ میںلَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲ،اﷲ اَکْبَراورذِکرُاﷲکی کثرت کرو،اس عشرہ کا ایک روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور اس میں عمل کا ثواب سات سو گُنا تک ہے۔“مدنی گلدستہ’’ کعبہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) رمضان کی آخری دس راتوں میں نیکیاں بہت قبول ہیں کہ یہ زمانۂ اعتکاف ہے اور اس میں شبِ قدر ہے۔
(2) دنوں میں افضل ذوالحجۃ الحرام کے ابتدائی دس دن ہیں جبکہ راتیں رمضان کے آخری عشرہ کی افضل ہیں اسی طرح یوم عرفہ سال کا افضل دن ہے اور شب قدر سال کی افضل رات ۔
(3) افضل دنوں میں عبادت بھی افضل ہے،اسی لیے شبِ معراج،شبِ بَراءَت،شبِ میلاد میں عبادت افضل ہے کہ یہ افضل راتیں ہیں۔
(4) ذوالحجہ کے پہلے عشرہ کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور اس میں نیک عمل کا ثواب سات سو گُنا تک بڑھا دیا جاتاہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسےدعا ہے کہ وہ ہمیں ذوالحجہ کے پہلےعشرہ میں خوب خوب عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1249