Main Icon

باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 820

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّهُ رَاٰى رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ وَاضِعًا اِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْاُخْرٰى.

عن عبد الله بن زيد رضي الله عنهما انه راى رسول الله صلى الله عليه وسلم مستلقيا في المسجد واضعا احدى رجليه على الاخرى.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن زیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مسجد میں اس طرح چِت لیٹے دیکھا کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھی ہوئی تھی ۔

شرح حدیث

اَحادیث میں تطبیق:مذکورہ حدیثِ پاک میں ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھنےکاذکرہے جبکہ دوسری حدیث پاک میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے چِت لیٹنے کی حالت میں ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر رکھنے سے منع فرمایا ،ان دونوں احادیث مبارکہ میں تطبیق دیتے ہوئےاِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:ممانعت والی حدیث اس حال پر محمول ہے کہ جب اس طرح لیٹنے سے بے پردگی کا خدشہ ہو۔ اگر بے پردگی کا خدشہ نہ ہو تو پھر اس طرح (یعنی ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر )لیٹنا جائز ہے اور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا لیٹنا اسی طرح کا تھاجس میں بے پردگی کا خدشہ نہیں تھا اور اس طرح لیٹنے میں کوئی حرج نہیں ۔مذکورہ حدیث پاک میں مسجد میں چِت لیٹنے کا بھی ثبوت ہے۔علامہ قاضی عیاضرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے کہا:نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی ضرورت کی بنا پر مسجد میں لیٹے تھے یا تھکاوٹ کی بنا پر طلبِ راحت کے لیےیا کسی اور وجہ سے ،ورنہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعام طور پر مساجد میں اس طرح تشریف فرما نہیں ہوتے تھے۔آپ کی نشست عام طور پر چار زانو ہوتی تھی یا اکڑوں یا دو زانو تشریف فرما ہوتے تھے ۔مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”(ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر)رکھنا یہ ہے کہ دونوں پاؤں پورے پھیلے ہوئے ہیں اور قدم قدم پر رکھا ہو اس صورت میں ستر نہیں کھل سکتا۔پاؤں پرپاؤں رکھنے کے معنیٰ یہ ہیں کہ ایک پاؤں کھڑا ہو اور دوسرا پاؤں کھڑے ہوئے گھٹنے پر رکھا ہو۔پہلی صورت جائز یہ دوسری صورت ممنوع لہٰذا اَحادیث میں تعارض نہیں۔‘‘ شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ چت لیٹنا بیانِ جواز کے لئے تھا ورنہ آپ کی عمومی عادتِ کریمہ اس سے مختلف تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 820