Main Icon

باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 823

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ قَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاقَالَتْ:رَاَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَهُوْ قَاعِدٌ الْقُرْفُصَاءَ فَلَمَّا رَاَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَخَشِّعَ فيِ الْجِلْسَةِ اُرْعِدْتُ مِنَ الْفَرَقِ.

عن قيلة بنت مخرمة رضي الله عنهاقالت:رايت النبي صلى الله عليه وسلم وهو قاعد القرفصاء فلما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم المتخشع في الجلسة ارعدت من الفرق.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدَتُنا قیلہ بنت مخرمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:میں نے حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوقُرفُصَاء کی حالت میں بیٹھے ہوئے دیکھا جب میں نے اس طرح خشوع و خضو ع کے ساتھ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بیٹھے دیکھا تومیں خوف سے کانپ اٹھی۔

شرح حدیث

عجز و اِنکساری والی بیٹھک:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیٹھنے کے کچھ ایسے انداز ہیں جو کہ سنت مبارکہ ہیں انہی میں سےقُرفُصَاءبیٹھنا بھی ہے کہ ہمارے پیارے پیارے آقاصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس انداز پر بھی تشریف فرما ہوئے ہیں اور یہ بیٹھک عجز و انکسار والی بیٹھک ہے کہ اس انداز پر بیٹھنے میں عجز و انکساری کا اِظہار ہے۔قُرفُصَاء کی وضاحت:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:قُرْفُصَاءَایک خاص بیٹھک(بیٹھنے کی صورت ) کا نام ہے۔اس کی صورت یہ ہے کہ اپنی پنڈلیاں زمین سے لگائے اور دونوں ران پنڈلیوں سے، پیٹ رانوں سے ملا ہوا ہو اور دونوں ہاتھ پنڈلیوں پر ہوں۔ یہ بیٹھک انتہائی عاجزی اور تواضع کی ہے،قُرْفُصَاءَکی اور صورتیں بھی بیان کی گئیں ہیں۔شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”قُرْفُصَاءَکی صورت یہ ہے کہ سرین پر بیٹھ کر رانوں کو پیٹ کے ساتھ لگایا جائے اور دونوں ہاتھوں کے ساتھ حلقہ بنایا جائے(جسے اکڑوں بیٹھناکہتے ہیں)یا یہ کہ آدمی دونوں پنڈلیوں پر بوجھ ڈال کر بیٹھ جائے ،رانوں کو پیٹ سے ملائےاور دونوں ہاتھوں کو بغل میں اس طرح رکھے کہ دایاں ہاتھ بائیں بغل میں اور بایاں ہاتھ دائیں بغل میں ہو ۔یہ عرب کے چرواہوں،دیہات کے رہنے والوں اور غریب لوگوں کے بیٹھنے کا طریقہ ہے اور وہ لوگ جو دل میں اپنی ذمہ داریوں کی فکر، اندیشہ اور خیال رکھتے ہوں ان کا بھی یہی طریقہ ہے۔“عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:قُرْفُصَاءَاکڑوں بیٹھنے کو کہتے ہیں جسے احتباء کرنا بھی کہا جاتا ہے۔امیر المؤمنین فی الحدیث امام محمد بن اسماعیل بخاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینے بھیقُرْفُصَاءَکی تعبیراِحْتِبَاءسے کی ہے۔’’حضرت سَیِّدَتُنَا قیلہ بنت مخرمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:جب میں نے اس طرح خشوع و خضو ع کے ساتھ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بیٹھے دیکھا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جاہ و جلا ل کےسبب میں کانپ اٹھی۔‘‘ کیونکہ میں نے یہ خیال کیا کہ جبسَیِّدُ المُرسَلین امام الاوَّلِین والآخرینکی یہ نشست ہے اور آپ کے انکسار کا یہ حال ہے تو ہم لوگ کس شمار میں ہیں یہ خیال کرکے مجھ پرلرزہ طاری ہوگیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 823