- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- حدیث نمبر 390
حدیث مبارکہ
عَن اِبْنِ ِعُمَررَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰى يَشْهَدُوْا اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ وَيُقِيْمُوا الصَّلاَةَ وَيُؤْتُوا الزَّكاَةَ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِكَ عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَاءَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ اِلَّا بِحَقِّ الْاِسْلَامِ وَحِسَابُهُمْ عَلىَ اللهِ تَعَالٰى. ( )
عن ابن عمررضي الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال امرت ان اقاتل الناس حتى يشهدوا ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله ويقيموا الصلاة ويؤتوا الزكاة فاذا فعلوا ذلك عصموا مني دماءهم واموالهم الا بحق الاسلام وحسابهم على الله تعالى. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرت سیدنا ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اللہ عَزَّ وَجَلَّکے رسول ہیں اورجب تک وہ نماز قائم نہ کرلیں اور زکوٰۃ ا دا نہ کردیں اور جب وہ ایسا کرلیں گے تو وہ مجھ سے اپنے خون اور مال محفوظ کرلیں گے مگر جو اسلام کا حق ہو اور ان کا حساب وکتاباللہ عَزَّ وَجَلَّہی پر ہے ۔ ‘‘
شرح حدیث
حدیث پاک کی باب سے مناسبت :مذکورہ حدیثِ پاک میں چند ایسے ظاہری اعمال کا بیان ہے جن کی ادائیگی سے بندے کا خون اور مال محفوظ ہوجاتاہے ۔ چنانچہاللہ عَزَّوَجَلَّکے معبود حقیقی ہونے اوررسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رسالت کی گواہی دینا ، نماز قائم کرنا اور زکوۃ ادا کرنا ، ان تمام اعمال کی ادائیگی سے بندے کا خون اور اس کا مال محفوظ ہوجاتے ہیں ۔ گویا ظاہری اعمال کو دیکھتے ہوئے خون اور مال کی حرمت کا فیصلہ فرمایا گیا ہے اور یہ باب بھی ظاہر ی اَحوال کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنے کے بارے میں ہے ، اسی لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔
¥لوگوں سے مراد مشرکین ہیں :مذکورہ حدیث پاک میں حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’مجھے لوگوں سے قتال کا حکم دیا گیا ہے ۔ ‘‘ اس فرمان میں لوگوں سے مراد کفار و مشرکین ہیں ۔عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین اَحمد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’یہاں عام بول کر خاص مراد لیا گیا ہے ۔ لوگوں سے مراد اہل کتاب کے علاوہ مشرکین ہیں اور بعض روایات میں تو مشرکین کے الفاظ بھی ہیں جیسا کہ نسائی کی روایت ہے : ” مجھے مشرکین سے قتال کا حکم دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ الخ ۔ “یا ہوسکتا ہے کہ یہاں اہل کتاب سے قتال ہی مراد ہو ۔ ‘‘ ( )
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے دلیل الفالحین میں ،عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے شرح صحیح مسلم میں ،عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے شرح صحیح بخاری میں اور دیگر کئی شارحین نے مختلف شروحات میں یہی مفہوم ذکر فرمایا ہے ۔
¥شہادت ، نماز اور زکوٰۃ کی خصوصیت کی وجہ :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اسلام کے پانچ ارکان میں سے شہادت یعنی اس بات کی گواہی دینا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندے اور اس کے رسول ہیں ، یہ رکن اعتقادی ہے ، نماز ادا کرنا رکن بدنی ہے ، زکوٰۃ ادا کرنا رکن مالی ہے ۔ اسلام کی طرف بلانے میں فقط شہادت کافی ہوتی ہے تاکہ دیگر دو ارکان یعنی نماز اور زکوٰۃاس پر متفرع ہوسکیں کیونکہ روزہ محض بدنی رکن ہے ، جبکہ حج بدنی اور مالی دونوں طرح کا رکن ہے ، تو کلمہ اسلام ( یعنی وحدانیت ورسالت کا اقرار ) یہی اصل ہے اور یہی کفار پر شاق اور گراں ہے ۔ ( اسی لیے حدیث پاک میں اس کا اولاً ذکر فرمایا ) اور نماز اپنی تکرار ( یعنی ایک دن میں پانچ مرتبہ ہونے ) کی وجہ سے کفار پر گراں ہے ۔ ( اسی لیے دوسرے نمبر پر اس کا ذکر فرمایا ) اور زکوٰۃ جبلت انسانی کی وجہ سے شاق اور گراں ہے کہ عموماً انسان کو مال سے محبت ہوتی ہے ۔ ( اس لیے تیسرے نمبر پر اس کا ذکر فرمایا ) جب بندہ ان تینوں امور کی ادائیگی کرلے گا تو بقیہ اَحکامات کی اَدائیگی کرنا اِن کے مقابلے میں اُس کے لیے زیادہ آسان ہوگا ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اِس حدیث پاک میں توحید و رسالت کے ساتھ نماز و زکوٰۃ پر ایمان لانے کا حکم ہے ، باقی کا ذکر نہیں ہے ۔ نماز و زکوٰۃ کی اہمیت کی وجہ سے خاص طور پر اِن دونوں کا ذکر فرمادیا ورنہ مؤمن ہونے کے لئے اُن تمام باتوں پر ایمان لانا ضروری ہے جو حضور نبی اکرم ، نورِ مجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے لائے ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥تارِک نمازوزکوٰۃ کا شرعی حکم :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ جو شخص وحدانیت ورسالت کی گواہی کے ساتھ نماز وزکوٰۃکی ادائیگی کرے گا اس کا خون اور مال محفوظ ہے ۔ ترک نماز کے متعلق صدرُالشریعہ ، بدرُالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ہر مکلّف یعنی عاقِل بالغ پر نما ز فرض عین ہے اس کی فرضیت کا منکر کافر ہے اور جو قصداً چھوڑ ے اگرچہ ایک ہی وقت کی وہ فاسِق ہے اور جو نماز نہ پڑھتا ہو قید کیا جائے یہاں تک کہ توبہ کرے اور نماز پڑھنے لگے بلکہ ائمہ ثلاثہ مالک و شافعی و احمدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکے نزدیک سلطانِ اسلام کو اس کے قتل کا حکم ہے ۔ ‘‘ ( ) زکوٰۃ ادا نہ کرنے کے متعلق فرماتے ہیں : ’’زکاۃ فرض ہے ، اُس کا منکر کافر اور نہ دینے والا فاسق اور قتل کا مستحق اور ادا میں تاخیر کرنے والا گنہگار و مَردُودُ الشہادۃ ہے ۔ ‘‘ ( )
¥ظاہر کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’حدیث پاک میں اس بات پر دلیل موجود ہے کہ لوگوں پر ان کے ظاہری حالت کے مطابق فیصلہ کیا جائے ، ان کے باطنی معاملات کواللہ عَزَّ وَجَلَّکے سپرد کردیا جائے ۔ حضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کے بعد کے ائمہ نے بھی اسی طرح لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا ہے ۔ ‘‘ ( )اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’جن باتوں کو لو گ اپنے دل میں چھپائے بیٹھے ہیں جیسے کفر گناہ وغیرہ ، اس کا حساباللہ عَزَّوَجَلَّہی لے گا ، مخلص کو ثواب دے گا اور منافق کو عذاب یا چھپ کر فسق کرنے والے کو جزا دے گا یا معاف کرے گا ۔ جو شخص اپنے اسلام کو ظاہر کرے اور کفر کو چھپائے تو اس کے ظاہر کے اعتبار سے اسلام کو قبول کیا جائے گا یہی اکثر علماء کا قول ہے ۔ ( )
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں شارععَلَیْہِ السَّلَامیعنی حضور نبی اکرم نورِمجسم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ظاہری احوال پر احکام کا اجراء فرمایا ہے اور باطنی احوال کا معاملہ باطنی امور کو جاننے والے ربّ تعالیٰ کے سپرد کردیا ہے کہ وہ خود ہی باطنی احوال پر ان کا محاسبہ فرمائے ۔ ‘‘ ( )رسولُ اللہکے فیصلوں سے متعلق اہم وضاحت :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واضح رہے کہ مذکورہ حدیث پاک میں جو ظاہر پر فیصلہ کرنے کا حکم دیاگیا ہے وہ فقط اُمَّت کے لیے ہے ، حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواللہ عَزَّ وَجَلَّنے یہ خصوصی اختیار عطا فرمایا ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی بھی شخص کے ظاہر پر بھی فیصلہ فرماسکتے ہیں اور باطن پر بھی ، بہرصورت آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فیصلہ نافذہوگا کیونکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر اُمَّت کے تمام ظاہری وباطنی اَحوال منکشف ہیں ،اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کو ظاہر کا علم بھی عطا فرمایا ہے اور باطن کا بھی علم عطا فرمایا ہے ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فریقین میں فیصلہ کے لیے نہ تو کسی گواہی کی ضرورت ہے اور نہ ہی یمین یعنی قسم کی ضرورت ہے ۔ چنانچہاِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اگراللہ عَزَّ وَجَلَّچاہے تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوخَصمَیْنیعنی وہ دونوں فریق جن کے مابین فیصلہ کرنا ہے ان کے باطن پر بھی مطلع فرمادے اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبذاتِ خود یقین کے ساتھ بغیر کسی شہادت اور قسم کے ان کے مابین فیصلہ صادر فرمادیں لیکناللہ عَزَّ وَجَلَّنے امت کو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اتباع کا حکم دیا ہے ۔ ( کیونکہ اتباع صرف فعل کی ہوتی ہے ) اور اقتدا اقوال افعال اور احکام تینوں کی ہوتی ہے ۔ اتباع میں باطنی حالت کو جانے بغیر فقط ظاہری حالت کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا جاسکتا ہے تو فقط اتباع کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ لوگ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اسوۂ حسنہ پر بہتر طریقے سے عمل کرسکیں اور باطن پر نظر کیے بغیر فقط ظاہر کو دیکھتے ہوئے لوگوں کے درمیان بہتر طریقے سے فیصلہ کرسکیں ۔ ‘‘ ( )
¥ظاہر وباطن پر فیصلے کی چندامثلہ :واضح رہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی حیات طیبہ میں ظاہری وباطنی دونوں ، فقط ظاہری اور فقط باطنی ہرطرح کے فیصلے فرمائے ، چندامثلہ پیش خدمت ہیں :
( 1 ) ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبد بن زمعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکا ایک نوجوان لڑکے کے بارے میں جھگڑا ہوگیا ۔ حضرت سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکہنے لگے : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے ، اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ اس کا بیٹا ہے ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس کی صورت تو دیکھیے ۔ ‘‘ حضرت عبد بن زمعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکہنے لگے : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ میرا بھائی ہے جو میرے باپ کے بستر پر اس کی لونڈی سے پیدا ہواہے ۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اے عبد بن زمعہ ! یہ تیرا بھائی ہے ، اس لیے کہ بچہ اسی کا ہوتا ہے جس کے ہاں وہ پیدا ہوا ہو اور زانی کے لیے پتھر ہے ۔ ‘‘ اور عتبہ کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے حضرت سودہ بنت زمعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے فرمایا : ’’اے سودہ ! اس سے پردہ کرو ۔ ‘‘ پس حضرت سودہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے اسے پھر کبھی نہ دیکھا ۔ ( ) اس حدیث پاک میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے شریعت کی رو سے ظاہر کے مطابق فیصلہ فرماتے ہوئے نوجوان کو حضرت سیدنا عبد بن زمعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا بھائی قرار دیا اس لیے کہ بچہ اسی کا ہوتا ہے جس کے ہاں وہ پیدا ہوا ۔ باطن اور حقیقت پر آگاہ ہونے کی وجہ سے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس نوجوان کے حضرت سیدتنا سودہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکا بھائی ہونے کی نفی فرمائی اور پردے کا حکم ارشاد فرمایا ۔ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جو امام الانبیاء ، سیدالاصفیاءصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ظاہرو باطن دونوں کے مطابق فرمایا ۔
( 2 ) حضرت سیدنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس ایک شخص مسجد میں آیا اور زنا کا اعتراف کیا لیکن آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنا رخ انور دوسری طرف پھیر لیا ، اس نے دوسری طرف سے آکر اعتراف کیا تو آپ نے پھر منہ پھیرلیا حتی کہ چار بار
اس نے زنا کا اعتراف کیا تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے فرمایا : ’’کیا تمہارا دماغ خراب ہے ؟ ‘‘ اس نے کہا : ’’نہیں ۔ ‘‘ فرمایا : ’’کیا تم شادی شدہ ہو؟ ‘‘ اس نے کہا : ’’جی ہاں ۔ ‘‘ پھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے رجم کرنے کا حکم ارشاد فرمادیا ۔ ( ) اس حدیث پاک میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے شریعت کی رو سے ظاہر کے مطابق فیصلہ فرمایا ۔
( 3 ) حضرت سیدنا جابر بنعبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ بارگاہ رسالت میں ایک چور کو لایا گیا تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اسے قتل کردو ۔ ‘‘ عرض کی گئی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اس نے تو صرف چوری کی ہے ؟ ‘‘ فرمایا : ’’اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔ ‘‘ دوبارہ اسے چوری کے جرم میں لایا گیا تو آپ نے قتل کا حکم ارشاد فرمایا ۔ پھر چوری کا عرض کیا گیا تو فرمایا : ’’اس کا پاؤں کاٹ دو ۔ ‘‘ تیسری بار بھی چوری کے جرم میں اسی شخص کو لایا گیا تو قتل کا حکم فرمایا ۔ پھر چوری کا عرض کیا گیا تو فرمایا : ’’اس کا دوسرا ہاتھ بھی کاٹ دو ۔ ‘‘ چوتھی بار بھی اس شخص کو چوری کے جرم میں لایا گیا تو قتل کا حکم فرمایا اور پھر چوری کا عرض کیا گیا تو فرمایا : ’’اس کا دوسرا پاؤں بھی کاٹ دو ۔ ‘‘ پانچویں بار بھی اسی چوری کے جرم میں جب وہ لایا گیا تو فرمایا : ’’اسے قتل کردو ۔ ‘‘ چنانچہ اسے قتل کردیا گیا ۔ ( ) اس حدیث پاک میں اولاً سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے چور کو جو قتل کرنے کا حکم دیا وہ باطن کے مطابق فیصلہ تھا کیونکہ بالآخر اس نے قتل ہی ہونا تھا ۔ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس خداداد اختیار اور ظاہری و باطنی احوال کے مطابق فیصلے کرنے کی مزید معلومات کیلئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۰۸صفحات پرمشتمل کتاب ’’اَلْبَاھِرْ فِیْ حُکْمِ النَّبِیِّ بِالْبَاطِنِ وَالظَّاھِرِ‘‘ کا ترجمہ بنام ’’مدنی آقا کے روشن فیصلے ‘‘ کا مطالعہ کیجئے ۔
¥حق اِسلام سے کیا مرا دہے ؟مذکورہ حدیث پاک کے آخر میں اس بات کا بیان ہوا کہ توحید باری تعالیٰ اور رسالت کی گواہی ، نماز ادا کرنے اور زکوۃ دینے سے خون اور مال محفوظ ہوگیامگر حق اسلام معاف نہ ہوگا ۔ علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام
نے یہاں حق اسلام سے یہ حقوق مراد لیے ہیں : ( 1 ) جان بوجھ کر قتل کرنے کا قصاص یعنی بدلے میں قتل کرنا معاف نہ ہوگا ۔ ( 2 ) محصن یعنی شادی شدہ شخص کا زنا بھی معاف نہ ہوگا کہ اسے سنگسار کیا جائے گا ۔ ( 3 ) مسلمان ہونے کے بعد ارتداد بھی معاف نہ ہوگا ۔ ( 4 ) مختلف اموال میں فرض ہونے والی مختلف اقسام کی زکاتیں بھی معاف نہ ہوں گی ۔ ( 5 ) مختلف اَحکامِ شرعیہ میں جو کفارے لازم ہوتے ہیں وہ بھی معاف نہ ہوں گے ۔ ( 6 ) نفقاتِ واجبہ یعنی جن لوگوں پر خرچ کرنا واجب ہے ان کا خرچ بھی معاف نہ ہوگا ۔ ( 7 ) وہ تمام امور جن کا کرنا شرع نے اس پر واجب فرمایا ہے ان کی ادائیگی معاف نہ ہوگی ۔ اسی طرح وہ تمام امور جن کو کرنے کی ممانعت ہے ان کی ممانعت بھی اس سے ختم نہیں ہوگی ، اسے ضرور بچنا ہوگا ۔ ( )
¥باطنی اُمور کا حساباللہپر :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یعنی مخفی معاملات اور پوشیدہ عقائد کا حساب وکتاب اور فیصلہ ربّ تعالیٰ فرمائے گا جبکہ ظاہری معاملات کا فیصلہ مقتضائے حال کے مطابق کیا جائے گا ۔ حدیث پاک کا حاصل یہ ہے کہ باطنی امور کا معاملہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سپرد کر دیا جائے کیونکہ رازوں کی پوشیدگیوں ، دلوں کے باریک اور خفیہ خیالات کا ذمہ اس رب تعالیٰ ہی پر ہے جو ایمان ، کفر اور نفاق کو جانتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥حدیث پاک سے ماخوذ چند مسائل :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک سے درج ذیل مسائل مستفاد ہوتے ہیں : ( 1 ) اہل بدعت میں سے و ہ لوگ جو وحدانیت ورسالت کی گواہی دیتے ہو ں ان کی تکفیر نہیں کی جائے گی جبکہ انہوں نے کسی ضرورت دینی کا انکار نہ کیا ہو ۔ لوگوں کے ظاہری اَعمال کو قبول کیا جائے گا اور ان سے جو حکم ثابت ہو رہا ہو اس کے مطابق ہی فیصلہ بھی کیا جائے گا ۔ ( 2 ) حدیث مذکور میں جو فرمایا کہ جس نے وحدانیت ورسالت کی گواہی دی ، نماز قائم کی اور زکوٰۃ اَدا کی تو اس سے صرف یہی اَعمال
مراد نہیں بلکہ تمام اَحکام اِسلامیہ کو ماننا مراد ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجو اَحکاماللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے لائے ان تمام پر ایمان لایا جائے ۔ ( 3 ) جو شخص وحدانیت ورسالت کی گواہی دے ، نماز قائم کرے ، زکوٰۃ ادا کرے تو اس کا مال اور جان محفوظ ہوجائیں گے لیکن اسلام کے دیگرحقوق تو اس پر لازم ہوں گے جیسے قصاص ، حد اورتلافی مال وغیرہ ۔ ( 4 ) مسلمان جب کفار سے جنگ کرنے کی طاقت رکھتے ہوں تو ان سے جنگ کرنا واجب ہے یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں یا پھر جزیہ دیں ۔ ‘‘ ( )
¥جنگ کا حکم مشرکین سے ہے :تفہیم البخاری میں اس حدیث پاک کے تحت بیان کیا گیا کہ ’’جو شخص ایمان لے آئے اس کا خون محفوظ ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا منجملہ ایمان ہے ۔ نماز اور زکوٰۃ کو منع کرنے والوں سے جنگ کرنی چاہیے ۔ اس حدیث پاک میں جن لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ مشرک ہیں جبکہ اُن سے عہد نہ ہوا ہو اور نہ ہی ان سے صلح ہوئی ہو ۔ اس سے اہل کتاب مراد نہیں کیونکہ وہ جزیہ ادا کرنے کے باعث حکم قتال سے خارج ہیں یا عام لوگ مراد ہیں ، مشرک ہوں یا یہود و نصاریٰ ہوں ، ان سے جنگ کی جائے ۔ حتی کہ وہ اسلام قبول کریں یا جزیہ قبول کریں ۔ گویا کہاللہتعالیٰ نے فرمایا :حَتّٰی یُسْلِمُوْا اَوْ یُعْطُوا الْجِزْیَۃَاور حدیث میں اصل مقصد کو ذکرکیا ہے اور وہ اسلام ہے ۔ الحاصل جب لوگ اسلام قبول کرلیں تو حق اسلام کے سوا کسی اور وجہ سے انہیں قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ان کے اموال پر قبضہ کیا جائے گا اور ان کے دلوں کی باتیںاللہکے سپرد ہیں ہم صرف ظاہر حال پر فیصلہ کر سکتے ہیں ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’اولیاء اللہ‘‘ کے 10حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 10مدنی پھول
(1) جو شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّکی وحدانیت اور حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رِسالت کا اِقرار کرلے تو اب اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی جبکہ کسی ضروریاتِ دینی کا منکر نہ ہو ۔
(2) جو بھی مسلمان ہوجاتا ہے اس کا خون اور مال محفوظ ہوجاتا ہے ۔
(3) قتال کا حکم فقط کفار ومشرکین کے ساتھ ہے مسلمانوں کے ساتھ نہیں ہے ۔
(4)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی وحدانیت اوررسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رسالت کی گواہی دینا اسلام کا اعتقادی رکن ہے ۔
(5) نماز بدنی رکن ہے ، روزہ بھی بدنی رکن ہے ، زکوٰۃ مالی رکن اور حج مالی وبدنی رکن ہے ۔
(6) توحیدورسالت کے بعد نماز وزکوٰۃ کی بہت اہمیت بیان فرمائی گئی ہے ۔
(7) نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ کی فرضیت کا انکار کرنے والا کافر ہے ، جبکہ تارِکِ نماز یا تارِکِ زکوٰۃ فاسق ومرتکب کبیرہ گناہ ہے ، ایسے شخص کو تعزیراً سزا دی جائے گی ۔
(8) لوگوں کے ظاہر حال کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیاگیا ہے کہ اس میں بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہیں ۔
(9) خفیہ اور پوشیدہ معاملات کواللہ عَزَّ وَجَلَّکے سپرد کرنے کا حکم ہے اور وہی ان کا فیصلہ فرمائے گا ۔
(10) جو شخص توحیدورسالت کا اِقرار کرلے گا اس کا خون اور مال محفوظ ہوجائے گا لیکن اسلام کے دیگر حقوق اس سے معاف نہ ہوں گے ، ان کی ادائیگی بہرحال ضروری ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اَحکامِ شرعیہ پر صحیح طریقے سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 390