Main Icon

ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 394

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِاللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا مِنَ الْمُسْلِميْنَ اِلٰى قَوْمٍ مِنَ المُشْرِكِيْنَ وَاَنَّهُمْ اِلْتَقَوْا فَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ اِذَا شَاءَ اَنْ يَقْصِدَ اِلٰى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ قَصَدَ لَهُ فَقَتَلَهُ وَاَنَّ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ قَصَدَ فَقَتَلَهُ وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ اَنَّهُ اُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَلَمَّا رَفَعَ السَّيْفَ قَالَ : لَااِلٰهَ اِلَّا اللهُ فَقَتَلَهُ فَجَاءَ الْبَشِيْرُ اِلٰى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاَلَهُ وَاَخْبَرَهُ حَتّٰى اَخْبَرَهُ خَبَرَ الرَّجُلِ كَيْفَ صَنَعَ فَدَعَاهُ فَسَاَلَهُ فَقَالَ : لِمَ قَتَلْتَهُ؟ فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ ! اَوْجَعَ فِي الْمُسْلِمِيْنَ وَقَتَلَ فُلاَناً وَفُلَاناً وَسَمّٰى لَهُ نَفرًا وَ اِنِّيْ حَمَلْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَاَى السَّيْفَ قَالَ : لَا اِلٰهَ اِلاَّ اللهُ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَقَتَلْتَهُ؟ قَالَ : نَعَمْ. قَالَ : فَكَيْفَ تَصْنَعُ بلَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ اِذَا جَاءتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ : يَارَسُوْلَ اللهِ ، اِسْتَغْفِرْ لِيْ . قَالَ : وكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَااِلٰهَ اِلَّا اللهُ اِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَجَعَلَ لَا يَزِيْدُ عَلٰى اَنْ يَقُوْلَ : كَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ اِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. ( )

عن جندب بن عبدالله رضي الله عنه : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث بعثا من المسلمين الى قوم من المشركين وانهم التقوا فكان رجل من المشركين اذا شاء ان يقصد الى رجل من المسلمين قصد له فقتله وان رجلا من المسلمين قصد فقتله وكنا نتحدث انه اسامة بن زيد فلما رفع السيف قال : لااله الا الله فقتله فجاء البشير الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فساله واخبره حتى اخبره خبر الرجل كيف صنع فدعاه فساله فقال : لم قتلته؟ فقال : يا رسول الله ! اوجع في المسلمين وقتل فلانا وفلانا وسمى له نفرا و اني حملت عليه فلما راى السيف قال : لا اله الا الله قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : اقتلته؟ قال : نعم. قال : فكيف تصنع بلا اله الا الله اذا جاءت يوم القيامة؟ قال : يارسول الله ، استغفر لي . قال : وكيف تصنع بلااله الا الله اذا جاءت يوم القيامة؟ فجعل لا يزيد على ان يقول : كيف تصنع بلا اله الا الله اذا جاءت يوم القيامة. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا جُنْدُبْ بنعبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ دو عالَم کے مالِک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مسلمانوں کی ایک فوج کو مشرکین سے جہاد کرنے کے لئے روانہ فرمایا ، مسلمانوں اور مشرکوں کا جب آمنا سامنا ہوا تو مشرکوں میں سے ایک آدمی ایسا بھی تھا کہ جب وہ کسی مسلمان کو قتل کرنے کا ارادہ کرتا تو اسے موقع پاکر فوراً ہی قتل کردیتا تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے اس

پر حملہ کیا اور اسے قتل کردیا اور ابھی ہم اسی شخص کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے کہ وہ اسامہ بن زید تھے تو جب انہوں نے اس مشرک کو قتل کرنے کے لئے تلوار اٹھائی تو اس نے کہا :
لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُلیکن اس کے باوجود سیدنا اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس کو قتل کردیا ۔ پھر جب حضور نبی اکرم ، شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بار گا ہ میں فتح کی خوشخبری سنانے والا پہنچا تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے جنگ کی صورت حال کے بارے میں اِستفسار فرمایا تو اس نے آپ کو ساری صورت حال بیان کر دی ، یہاں تک کہ اس نے اس آدمی کا واقعہ بھی بیان کر دیا کہ اس نے کیا کیا تھا اور حضرت سیدنا اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس کے ساتھ کیا کیا ۔ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا اسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بلایا اور ان سے پوچھا : ’’تم نے اسے قتل کیوں کیا؟ ‘‘ سیدنا اُسامہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اس نے مسلمانوں کو بہت تکلیف پہنچائی اور فلاں فلاں کو شہید کردیا ۔ ‘‘ اور چند صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے نام بھی ذکرکیے ’’تو میں نے اس پر حملہ کردیا اور جب اس نے تلوار دیکھی تولَااِلٰہَ اِلَّا اللہُکہنے لگا ۔ ‘‘رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’کیا تم نے اسے قتل کردیا ؟ ‘‘ تو سیدنا اسامہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی : ’’ جی ہاں ۔ ‘‘ فرمایا : ’’قیامت کے دن جبلَااِلٰہَ اِلَّا اللہُکا کلمہ آئے گا تو تم کیا کروگے ؟ ‘‘ حضرت سیدنا اُسامہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ میرے لئے مغفرت کی دعا کیجئے ۔ ‘‘ لیکنرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبار بار یہی فرماتے رہے : ’’قیامت کے دن جبلَااِلٰہَ اِلَّا اللہُکا کلمہ آئے گا تو تم کیا کروگے ؟ ‘‘

شرح حدیث

بلا وجہ عمداًقتل کرنے کی ممانعت :مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا اسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے بار بار فرمایا کہ کیا تم نے اسےلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُکہنے کے بعدقتل کردیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نزدیک کسی بھی مسلمان کو بلا وجہ جان بوجھ کر قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے ۔ قرآن وسنت میں اس کی شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے ۔ اس کی تفصیل کے لیے حدیث نمبر392 کی شرح ملاحظہ کیجئے ۔

¥
سیدنا اُسامہ بن زید کی خواہش کی وجوہات :حدیث مذکور میں بیان ہوا کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بار بار فرمانے کے بعد حضرت سیدنا اُسامہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے دل میں یہ خواہش ہوئی کہ کاش میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا ۔ ‘‘ سیدنا اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے اس جملے کے مختلف معانی شارحین نے بیان فرمائے ہیں ۔ ( 1 ) ایک معنی یہ بیان فرمایا ہے کہ یعنی میں اس وقت اسلام لاتا اور میری یہ غلطی اسلام لانے کے سبب معاف ہو جاتی ۔ ( 2 ) حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بار بار انکار فرمانے اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حد درجہ تعظیم وتکریم کرنے کی وجہ سے سیدنا اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے آپ کو بہت چھوٹا محسوس کیا اور پھر اس وقت مسلمان ہونے کی خواہش ظاہر کی ۔ ( 3 ) آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے فرمان کا یہ معنیٰ تھا کہ میں اس وقت مسلمان ہوا ہوتا یعنی اب مسلمان ہونے کی صورت میں میری زندگی کسی بھی گناہ سے خالی ہوتی ، یہ مراد نہ تھی کہ میں پہلے مسلمان نہ ہوتا ابھی مسلمان ہوتا ۔ ( )عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’سیدنا اسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی مراد یہ تھی کہ میرے اسلام کی ابتدا آج سے ہوتی تاکہ میری یہ خطا اس اسلام کے سبب مٹا دی جاتی ۔ ایک معنیٰ یہ بھی ہے آپ نے اس وقت اسلام کی اس لیے خواہش کی اس وقت وہ گناہوں سے پاک صاف ہوتے ، یہ مراد نہ تھی کہ اس سے قبل وہ مسلمان ہی نہ ہوتے ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین احمد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’حضرت سیدنا اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا یوں کہنا فقط مبالغے کے لیے تھے حقیقت کے طور پر نہیں تھا ۔ ‘‘ ( )رسولُ اللہسے استغفار کی التجاء کرنا :ایک روایت میں یوں بھی ہے کہ جب حضور نبی رحمت ، شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے

حضرت سیدنا اُسامہ بن زید
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ان کے قتل کے بارے میں استفسار کیا تو سیدنا اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بارگاہ رسالت میں اپنے لیے استغفار کی التجا کی ۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے استغفار کی التجا کرنا دراصل قرآنِ پاک کی اِس آیت مبارکہ پر عمل ہے :وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(۶۴)(پ۵ ،النساء:۶۴ )ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھراللہسے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضروراللہکو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں ۔
صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں : ’’اس سے معلوم ہوا کہ بارگاہِ الٰہی میںرسولُ اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وسیلہ اور آپ کی شفاعت کار برآری کا ذریعہ ہے ، سیّدِ عالمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات شریف کے بعد ایک اَعرابی روضۂ اقدس پر حاضر ہوا اور روضۂ شریفہ کی خاک پاک اپنے سر پر ڈالی اور عرض کرنے لگا :یارسولَ اللہ! جو آپ نے فرمایا ہم نے سُنا اور جو آپ پر نازل ہوا اس میں یہ آیت بھی ہے :وَلَوْاَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْامیں نے بے شک اپنی جان پر ظلم کیا اور میں آپ کے حضور میںاللہسے اپنے گناہ کی بخشش چاہنے حاضر ہوا تو میرے رب سے میرے گناہ کی بخشش کرائیے ۔ اس پر قبر شریف سے ندا آئی کہ تیری بخشش کی گئی ۔ اس سے چند مسائل معلوم ہوئے : مسئلہ :اللہتعالیٰ کی بارگاہ میں عرضِ حاجت کے لئے اُس کے مقبولوں کو وسیلہ بنانا ذریعہ کامیابی ہے ۔ مسئلہ : قبر پر حاجت کے لئے جانا بھی : ’’جَآءُوْکَ‘‘ میں داخل اورخیرُالقرونکا معمول ہے ۔ مسئلہ : بعد وفات مقبُولانِ حق کو (یَا) کے ساتھ ندا کرنا جائز ہے ۔ مسئلہ : مقبُولانِ حق مدد فرماتے ہیں اور ان کی دعا سے حاجت روائی ہوتی ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
ظاہر کے مطابق فیصلے کا حکم :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمانا : ’’اے اُسامہ ! تم نے کلمہ پڑھنے کے بعد بھی اسے قتل کردیا؟ ‘‘ اس میں اس بات پر دلیل ہے

کہ کسی بھی شخص کے معاملے میں اس کے ظاہر کا ہی اِعتبار کیا جائے گا ، جب اس نے بظاہر کلمہ پڑھ لیا تو وہ مسلمان ہوگیا اب اس کی جان اور مال کی حرمت لازم ہوگئی ، اسے پامال کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہ ہوگی ۔
بعض روایات میں یوں بھی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا ہوتا کہ تمہیں معلوم ہوجاتا اس نے دل سے کہا ہے یا نہیں ؟ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمان بھی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ فیصلہ ظاہر پر کیا جائے گا کسی بھی شخص کا دل کھول کر نہیں دیکھا جاسکتا کہ اس نے فلاں معاملہ دل سے کیا ہے یا نہیں؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ اس لیے فرمایا کہ ایمان حقیقی مخفی ہوتا ہے اور اس کی جگہ دل ہے جس پر فقط رب تعالیٰ ہی مطلع ہے جبکہ احکام کا دارومدار ظاہر پر ہوتا ہے دل پر نہیں ۔ تو جب تم اس کے مخفی ایمان کے مکلف ہی نہیں تھے تو تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھا اور کیونکہ معلوم نہ کیا کہ اس کا دل اسلام لانے میں سچا ہے یا وہ منافق ہے ؟ یعنی بظاہر مسلمان ہورہا ہے اور دل سے کافر ہے ۔ اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ احکام کا اجراء ظاہری اسباب پر ہوگا نہ کہ باطنی اور یوشیدہ اسباب پر ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’تونے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھا تاکہ تو دیکھ لیتا کہ اس نے جو کلمہ پڑھا ہے وہ دل سے پڑھا ہے اور اس کا دل میں اعتقاد بھی رکھتا ہے ؟ بلکہ فقط کلمہ اس کی زبان پر جاری ہوا ہے اور یہی اس کے لیے کافی ہے ۔ یعنی تم دل چیر کر اس کی باطنی کیفیت دیکھنے پر قادر نہیں ہو تو اس کا فقط ظاہری طور پر زبان سے کہنا دینا ہی اسے کافی ہے ۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’حضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمانِ عالیشان : ’’کیا تونے اس کا دل چیر کر نہیں دیکھا ۔ ۔ ۔ الخ ‘‘ میں فقہ اور اُصولِ فقہ کے مشہور قاعدے کی دلیل ہے کہ احکام میں ظاہر پر عمل کیا

جائے گا اور پوشیدہ معاملات کو
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سپرد کردیا جائے گا ۔ ‘‘ ( )
¥
سیدنا اُسامہ بن زید کے قتل کرنے کی وجہ :جب حضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا اسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے قتل کی وجہ پوچھی تو آپ نے وضاحتاً عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس نے اپنی جان بچانے کے لیےلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہپڑھا ۔ ‘‘عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسیدنا اسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے قول کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’یعنی اس شخص نے اپنے خون کو محفوظ کرنے کے لیےلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہکہا ، نہ کہ حقیقتاً اسلام قبول کرنے کے لیے کہا ۔ شاید حضرت سیدنا اسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُوہاں کھڑے ہوئے اور جب ان پر معاملہ ظاہر ہوا تو پھر وہ اس کے قتل کے درپے ہوئے تو انہوں نے اس کی اس حالت کو کفر اور بے فائدہ سمجھا کیونکہ وہاں حقیقت کو جاننا یا اس سے اس کے حقیقی قبول اسلام کے بارے میں سوال کرنا بھی ممکن نہ تھا اس لیے سیدنا اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اسے قتل کردیا ۔ اس اعتبار سے آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُپر کوئی گناہ نہیں ہے لیکن شریعت نے اَحکام کا اِجراء ظاہر پر کیا ہے اسی لیے حقیقتاً نفس الامر میں یہ تاویل قبول نہیں ہوگی اسی وجہ سے حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بار بار استفسار فرمایاتاکہ ان کے دل میں جو شبہ ہو وہ زائل ہوجائے ۔ ‘‘ ( )
¥
قصاص ، دیت اور کفارے کی فرضیت کا حکم :اگر کوئی مسلمان کسی مسلمان کو مشرک یا کافر سمجھ کر قتل کر بیٹھے تو یہ قتل خطا ہوگا اس صورت میں احناف کے نزدیک قصاص نہیں بلکہ دیت اور کفارہ ہے ۔ بہارشریعت میں ہے : ’’مسلم نے اگر مسلم کو مشرک سمجھ کر قتل کیا : مثلاً جہاد میں ایک مسلم کو کافر سمجھا اور مار ڈالا ، اس صورت میں قصاص نہیں ہے بلکہ دیت وکفارہ ہے کہ یہ قتل عمد نہیں قتل خطا ہے اور اگر مسلم صف کفار میں تھا اور کسی مسلم نے قتل کرڈالا تو دیت وکفارہ بھی نہیں ۔ ‘‘ ( ) حضرت سیدنا اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا یہ قتل بھی قتل خطا تھا اس لیے آپ پر کوئی قصاص لازم نہیں فرمایا گیا ۔ البتہ دیت یا کفارہ بھی ان پر لازم کیا گیا یا نہیں؟ اس بارے میں شارحین

اور فقہاء کرام کے مابین اختلاف ہے بعض کے نزدیک ان پر کچھ واجب نہ کیا گیا جبکہ بعض یہ فرماتے ہیں کہ ان پر دیت واجب کی گئی ۔ ” عمدۃ القاری“ میں ہے کہ علامہ خطابی
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا : ’’حضرت سیدنا اسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکواللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان سے شبہ ہوا ، جس میں ارشاد ہوتا ہے :فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَاؕ-(پ۲۴ ،المؤمن:۸۵ )ترجمۂ کنزالایمان: تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا ۔
اسی شبہ کی وجہ سے ( انہوں نے اسے قتل کردیا اس لیے ) ان پر دیت لازم نہیں ہوئی ۔ ‘‘ ( )
عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین احمد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیعلامہ قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے حوالے سے فرماتے ہیں : ’’حضرت سیدنا اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو دیت کا حکم دیا گیا ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا سامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُپر ( بظاہر حدیث پاک میں ) قصاص ، دیت اور کفارہ کچھ بھی واجب نہ فرمایا ۔ اس سے تمام چیزوں کے ساقط ہونے کا استدلال کیا جائے گا لیکن کفارہ واجب ہوگا اور قصاص شبہ کی وجہ سے ساقط ہوجائے گا کیونکہ سیدنا اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے انہیں کافر گمان کیا اور یہ سوچا کہ اس وقت اس کا کلمہ پڑھنا اسے مسلمان نہیں کرے گا ۔ دیت کے واجب ہونے یا نہ ہونے میں امام شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے دوقول ہیں ۔ کفارہ واجب ہے مگر حدیث پاک میں کفارے کا ذکر کیوں نہیں ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کفارہ فی الفور واجب نہیں ہوتا بلکہ تاخیر کے ساتھ واجب ہوتا ہے لہٰذا اُصولیین کے نزدیک مذہب صحیح کے مطابق اس کے بیان کو مؤخر کرنا وقت حاجت تک جائز ہے ۔ اور دیت واجب ہے مگر اس کا ذکر کیوں نہیں ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے اس وقت حضرت سیدنا اسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُپر مالی کشادگی نہ ہو لہٰذا اسے اس کی کشادگی تک مؤخر کردیا گیا ہو ۔ ‘‘ ( )
مدنی گلدستہ
’’صالحین ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)
مسلمان ہونے کے بعد ہرمسلمان کی جان محترم اور محفوظ ہوجاتی ہے ۔
(2) بلا وجہ شرعی کسی بھی مسلمان کی جان کی حرمت کو پامال کرنا اسلام میں جائز نہیں ہے ۔
(3) اسلام میں فقط ظاہری حالت کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنے کا مکلف فرمایا گیا ہے ۔
(4) جو شخص بظاہر کلمہ پڑھ لے اگرچہ اس نے دل سے نہ پڑھا ہو اس پر مسلمان کا ہی اطلاق ہوگا ۔
(5) بلا وجہ شرعی کسی بھی مسلمان کو قتل کرنے کی اسلام میں شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے ۔
(6) جب بھی کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو رب تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ استغفار کرنا چاہیے ، نیز حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وسیلہ بارگاہِ خداوندی میں پیش کرنا چاہیے کہ گناہوں میں معافی و مغفرت اور دعاؤں کی قبولیت کا یہ ایک بڑا سبب ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں حقوق العباد کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے ، کسی بھی مسلمان کے خون اور مال کی حرمت کو پامال کرنے سے محفوظ فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 394