Main Icon

ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 391

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ عَبْدِ اللهِ طَارِقِ بْنِ اَشْیَمْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ :

مَنْ قَالَ : لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُ وْنِ اللهِ حَرُمَ مَا لُہُ وَ دَمُہُ وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ تَعَالٰى . ( )

عن ابي عبد الله طارق بن اشیم رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول :

من قال : لا اله الا الله وكفر بما يعبد من د ون الله حرم ما لہ و دمہ وحسابه على الله تعالى . ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابوعبداللہطارق بن اشیمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نے دو عالم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا : ’’جس نےلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُکہا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکے علاوہ جن باطل خداؤں کی پوجا کی جاتی ہے ان کا انکار کیا تو اس کا مال اور جان محفوظ ہوگئے اور اس کا حساباللہ عَزَّ وَجَلَّکے سپرد ہے ۔ ‘‘عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ اَحکامِ شرعیَّہ کا تعلق ظاہر کے ساتھ ہے ، باطنی اور پوشیدہ معالات کے ساتھ نہیں ہے جیسے کوئی فاسد عقیدہ رکھتا ہو یا چُھپ کر بُرے اعمال کرتا ہو تو ایسے شخص کے معاملے کواللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰیکے سپرد کردیا جائے گا ۔ ‘‘ ( )

شرح حدیث

حدیث میں پوراکلمہ مراد ہے :یہاں اس حدیث پاک میں ایک بات قابل توجہ ہے کہ اس سے پچھلی حدیث پاک میں پورے کلمے یعنی توحید ورسالت کا بیان تھا کہ لیکن اس حدیث پاک میں فقط توحید کا بیان ہے رسالت کا بیان نہیں ہے ۔ اس کی چند وجوہات ہیں : ( 1 ) کلمہ طیبہ کے دو جزء ہیں ، پہلا جزء :لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ، اور دوسرا جزء :مُحَمَّدٌ رَّسُوْلٌ اللہِہے ۔ یہاں حدیث پاک میں ایک جزء ہی بیان کرکے پورا کلمہ مراد لیا گیا ہے یعنی جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے ۔ ( 2 )لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہپورے کلمے کا علم یعنی مخصوص نام ہے اورجب علم بولا جاتا ہے تو اس سے مراد پوری ذات شخصیت یا چیز مراد ہوتی ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ الحمد شریف پڑھوتو وہاں مراد پوری سورۂ فاتحہ ہوتی ہے ، لہٰذا یہاں بھی پورا کلمہ مراد ہے ۔ ( 3 ) یہاں پورا کلمہ مراد ہے اس کی دلیل وہ تمام احادیث ہیں جن میں پورے کلمہ کا ذکر ہے ۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہاں حدیث پاک میںلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُاپنے قرینے یعنیمُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہکے ساتھ مراد ہے ، یہاں فقطلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُپر اکتفاء کیا گیا ہے ۔ ‘‘ ( )

¥
پورا کلمہ پڑھنے والا ہی مسلمان ہے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واضح رہے کہ وہ تمام احادیث جن میں اس طرح کا مضمون ہے کہ جس نےلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُکہا تو وہ جنت میں داخل ہوگیا ۔ وغیرہ وغیرہ ان تمام احادیث میں بھی یہاں پورا کلمہ طیبہ مرا ہے ، اگر کوئی شخص فقطلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُاور اگلے جزء کا دل سے اقرار نہ کرے تو وہ مسلمان نہیں ہے ۔ چنانچہعَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’محدثین ، فقہاء اور متکلمین تمام علمائے اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کسی بھی مؤمن پر اہل قبلہ ہونے اور جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے داخل نہ ہونے کا حکم اسی صورت میں لگایا جائے گا جبکہ وہ شکوک شبہات سے خالی سچے دل سے دین اسلام کے صحیح ہونے کا پختہ اعتقاد رکھے اور اپنی زبان سے دونوں شہادتیں دے یعنی اس بات کی شہادت کیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں اور اس بات کی شہادت کہ محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکے رسول ہیں ۔ ان دونوں کے ساتھ یہ شرط نہیں لگائی جائے گی کہ وہ یہ بھی کہے کہ میں خلاف اسلام ہردین سے بیزار ہوں ۔ ( کیونکہ اس کی یہ دونوں شہادتیں ہی خلاف اسلام دین سے بیزاری کا اظہار ہیں ) ، البتہ اگر وہ پہلے ایسے کفار میں سے تھا جو یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فقط عرب کی طرف ہی رسول بنا کر بھیجا گیا تو اب اس پر اس وقت تک اسلام کا حکم نہیں لگایا جائے گا جب تک وہ اس فاسد عقیدے سے اپنی براءت کا اظہار نہ کرے ۔ بہرحال جو شخص فقطلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُکہے اورمُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہنہ کہے تو وہ مسلمان نہیں ہے اور حدیث پاک میں جو فقطلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُکہا گیا ہے تو وہ بھی اسی وجہ سے کہمُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہاس کے ساتھ یقینی طور پر ملا ہوا ہی ہے ۔ ‘‘ ( )
اس حدیث پاک کی تفصیلی شرح کے لیے پچھلی حدیث پاک کی شرح ملاحظہ کیجئے ۔
مدنی گلدستہ
’’مسلمان ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول

(1) اسلام میں مسلمان کی عزت وحرمت اور اس کے مال کی حرمت کو بیان فرمایا گیاہے ۔
(2) کسی بھی مسلمان کی جان اور مال کی عزت اور حرمت کو پامال کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔
(3) شرع میں فقط ظاہر کے اعتبار سے فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔
(4) اگر کوئی شخص بظاہر مسلمان ہے تو اسے مسلمان ہی تصور کیا جائے گا ، اس کے باطنی معاملات کو
اللہ عَزَّوَجَلَّکے سپرد کردیا جائے گا ۔
(5) جن احادیث میں فقط
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہکی فضیلت بیان ہوئی ہے وہاں پورا کلمہ طیبہ مراد ہے ۔
(6) جو شخص پورا کلمہ طیبہ پڑھتا ہے وہی مسلمان ہے ، فقط ایک جزء پر ایمان لانے والا مسلمان نہیں ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اِیمان کی سلامتی عطا فرمائے ، اَحکامِ شرعیہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہماری حتمی مغفرت فرمائے ، کل بروز ِقیامت بلا حساب جنت میں داخلہ عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 391