- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- حدیث نمبر 391
ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 391
جلد 4
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ عَبْدِ اللهِ طَارِقِ بْنِ اَشْیَمْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ :
مَنْ قَالَ : لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُ وْنِ اللهِ حَرُمَ مَا لُہُ وَ دَمُہُ وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ تَعَالٰى . ( )
عن ابي عبد الله طارق بن اشیم رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول :
من قال : لا اله الا الله وكفر بما يعبد من د ون الله حرم ما لہ و دمہ وحسابه على الله تعالى . ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابوعبداللہطارق بن اشیمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نے دو عالم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا : ’’جس نےلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُکہا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکے علاوہ جن باطل خداؤں کی پوجا کی جاتی ہے ان کا انکار کیا تو اس کا مال اور جان محفوظ ہوگئے اور اس کا حساباللہ عَزَّ وَجَلَّکے سپرد ہے ۔ ‘‘عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ اَحکامِ شرعیَّہ کا تعلق ظاہر کے ساتھ ہے ، باطنی اور پوشیدہ معالات کے ساتھ نہیں ہے جیسے کوئی فاسد عقیدہ رکھتا ہو یا چُھپ کر بُرے اعمال کرتا ہو تو ایسے شخص کے معاملے کواللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰیکے سپرد کردیا جائے گا ۔ ‘‘ ( )
شرح حدیث
حدیث میں پوراکلمہ مراد ہے :یہاں اس حدیث پاک میں ایک بات قابل توجہ ہے کہ اس سے پچھلی حدیث پاک میں پورے کلمے یعنی توحید ورسالت کا بیان تھا کہ لیکن اس حدیث پاک میں فقط توحید کا بیان ہے رسالت کا بیان نہیں ہے ۔ اس کی چند وجوہات ہیں : ( 1 ) کلمہ طیبہ کے دو جزء ہیں ، پہلا جزء :لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ، اور دوسرا جزء :مُحَمَّدٌ رَّسُوْلٌ اللہِہے ۔ یہاں حدیث پاک میں ایک جزء ہی بیان کرکے پورا کلمہ مراد لیا گیا ہے یعنی جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے ۔ ( 2 )لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہپورے کلمے کا علم یعنی مخصوص نام ہے اورجب علم بولا جاتا ہے تو اس سے مراد پوری ذات شخصیت یا چیز مراد ہوتی ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ الحمد شریف پڑھوتو وہاں مراد پوری سورۂ فاتحہ ہوتی ہے ، لہٰذا یہاں بھی پورا کلمہ مراد ہے ۔ ( 3 ) یہاں پورا کلمہ مراد ہے اس کی دلیل وہ تمام احادیث ہیں جن میں پورے کلمہ کا ذکر ہے ۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہاں حدیث پاک میںلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُاپنے قرینے یعنیمُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہکے ساتھ مراد ہے ، یہاں فقطلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُپر اکتفاء کیا گیا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥پورا کلمہ پڑھنے والا ہی مسلمان ہے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واضح رہے کہ وہ تمام احادیث جن میں اس طرح کا مضمون ہے کہ جس نےلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُکہا تو وہ جنت میں داخل ہوگیا ۔ وغیرہ وغیرہ ان تمام احادیث میں بھی یہاں پورا کلمہ طیبہ مرا ہے ، اگر کوئی شخص فقطلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُاور اگلے جزء کا دل سے اقرار نہ کرے تو وہ مسلمان نہیں ہے ۔ چنانچہعَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’محدثین ، فقہاء اور متکلمین تمام علمائے اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کسی بھی مؤمن پر اہل قبلہ ہونے اور جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے داخل نہ ہونے کا حکم اسی صورت میں لگایا جائے گا جبکہ وہ شکوک شبہات سے خالی سچے دل سے دین اسلام کے صحیح ہونے کا پختہ اعتقاد رکھے اور اپنی زبان سے دونوں شہادتیں دے یعنی اس بات کی شہادت کیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں اور اس بات کی شہادت کہ محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکے رسول ہیں ۔ ان دونوں کے ساتھ یہ شرط نہیں لگائی جائے گی کہ وہ یہ بھی کہے کہ میں خلاف اسلام ہردین سے بیزار ہوں ۔ ( کیونکہ اس کی یہ دونوں شہادتیں ہی خلاف اسلام دین سے بیزاری کا اظہار ہیں ) ، البتہ اگر وہ پہلے ایسے کفار میں سے تھا جو یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فقط عرب کی طرف ہی رسول بنا کر بھیجا گیا تو اب اس پر اس وقت تک اسلام کا حکم نہیں لگایا جائے گا جب تک وہ اس فاسد عقیدے سے اپنی براءت کا اظہار نہ کرے ۔ بہرحال جو شخص فقطلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُکہے اورمُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہنہ کہے تو وہ مسلمان نہیں ہے اور حدیث پاک میں جو فقطلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُکہا گیا ہے تو وہ بھی اسی وجہ سے کہمُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہاس کے ساتھ یقینی طور پر ملا ہوا ہی ہے ۔ ‘‘ ( )
اس حدیث پاک کی تفصیلی شرح کے لیے پچھلی حدیث پاک کی شرح ملاحظہ کیجئے ۔مدنی گلدستہ
’’مسلمان ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1) اسلام میں مسلمان کی عزت وحرمت اور اس کے مال کی حرمت کو بیان فرمایا گیاہے ۔
(2) کسی بھی مسلمان کی جان اور مال کی عزت اور حرمت کو پامال کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔
(3) شرع میں فقط ظاہر کے اعتبار سے فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔
(4) اگر کوئی شخص بظاہر مسلمان ہے تو اسے مسلمان ہی تصور کیا جائے گا ، اس کے باطنی معاملات کواللہ عَزَّوَجَلَّکے سپرد کردیا جائے گا ۔
(5) جن احادیث میں فقطلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہکی فضیلت بیان ہوئی ہے وہاں پورا کلمہ طیبہ مراد ہے ۔
(6) جو شخص پورا کلمہ طیبہ پڑھتا ہے وہی مسلمان ہے ، فقط ایک جزء پر ایمان لانے والا مسلمان نہیں ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اِیمان کی سلامتی عطا فرمائے ، اَحکامِ شرعیہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہماری حتمی مغفرت فرمائے ، کل بروز ِقیامت بلا حساب جنت میں داخلہ عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 391