باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 948
جلد 6
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ عائِشَةَ رَضيَ اللَّهُ عَنْهَا اَنَّ رَجُلاً قَالَ لِلنَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اُمِّيْ اُفْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَاُرَاهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ فَهَلْ لَهَا اَجْرٌ اِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ.
عن عائشة رضي الله عنها ان رجلا قال للنبي صلى الله عليه وسلم: ان امي افتلتت نفسها واراها لو تكلمت تصدقت فهل لها اجر ان تصدقت عنها ؟ قال : نعم.
حدیث ترجمہ
اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی:میری والدہ اچانک انتقال کرگئی ہیں، میرا خیال ہے کہ اگر وہ کچھ بولتیں تو خیرات کرتیں۔اگر میں اُن کی طرف سے صَدَقہ کروں تو کیا اُنہیں ثواب ملے گا؟نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:” ہاں۔“
شرح حدیث
ناگہانی موت کس کے لئے اچھی؟ناگہانی (اچانک) موت آجانا اچھا ہے یا بُرا اس بارے میں احادیث مختلف ہیں۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں کہ مذکورہ حدیث میں جب ایک شخص نے اپنی والدہ کی ناگہانی موت کا ذکر کیا اور پوچھا کہ کیا میرے صدقے کا ثواب اُنہیں ملے گا؟ تورسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمانا : ”ہاں ملے گا“ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ناگہانی موت ناپسندیدہ نہیں۔اُمّ المؤمنین حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”ناگہانی موت مؤمن کے لیے راحت اور فاسق کے لیے غضب ہے۔“ ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ رسول پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”ناگہانی موتاللّٰہکا غضب ہے۔“حضرت ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب کسی ایسی دیوار کے پاس سے گزرتے جو گِرنے کے قریب ہوتی تو تیزی سے گزر جاتے اور فرماتے :”میں ناگہانی موت کو ناپسند کرتا ہوں“
(علامہ بدر الدین عینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں)میں کہتا ہوں ان روایات میں تطبیق یہ ہے کہ وہ روایات جن میں ناگہانی موت کو بُرا کہا گیا اُس شخص کے لئے ہے جو موت کی تیاری سے غافل ہو کیونکہ ایسی صورت میں وہ وصیت کرسکتا ہے نہ ہی اس کو توبہ نصیب ہوتی ہےاور جس نے موت کی تیاری کر رکھی ہو اس کے لئے ناگہانی موت اچھی اور باعث راحت ہے۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”سائل (یعنی پوچھنے والے) حضرت عبادہ ابنِ عبادہ تھے،ان کی والدہ عمرہ بنت مسعود ابن قیس ابن عمرو ابن زید تھیں۔5ہجری میں ہاٹ فیل(Heart Fail)یعنی حرکتِ قلب بند ہوجانے سے وفات پاگئیں۔آپ کی والدہ صحابیہ ہیں،حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے بیعت کرچکی تھیں،بڑی عابدہ زاہدہ تھیں۔ناگہانی موت غافل کے لیے عذاب ہے کہ اسے توبہ اور نیک اَعمال کا موقع نہیں ملتا مگر ذِکرِخدا میں رہنے والے مؤمن کے لیے رحمت کہاللّٰہتعالیٰ اُسے بیماری کی شدتوں سے بچالیتا ہے۔“ایصالِ ثواب:اس حدیث میں اپنے مُردوں کے لیےایصالِ ثواب کرنے کا واضح بیان ہے۔چنانچہعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:” حدیث سے معلوم ہوا کہ میت کی طرف سے صدقہ کرنا جائز ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ میت کو اس سے فائدہ ہوتا ہے۔ حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم اپنے مُردوں کے لیے دعا کرتے ہیں، اُن کی طرف سے صَدَقہ کرتے ہیں اور حج کرتے ہیں تو کیا اُنہیں اِس کا ثواب پہنچتا ہے؟ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”بے شک ثواب اُن تک پہنچتا ہے اور وہ اس ثواب سے اِس طرح خوش ہوتے ہیں جس طرح تم میں سے کوئی شخص تحفہ ملنے پر خوش ہوتا ہے۔“اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: اِس حدیث میں یہ ثبوت ہے کہ میت کی طرف سے صدقہ کرنا جائز و مستحب ہے اور اُس کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اور اِس کا فائدہ میت کو بھی ہوتا ہے اور خود صَدَقہ کرنے والے کو بھی اور اِس پر علما کا اجماع ہے۔
شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:سائل نے اپنی والدہ کے متعلق یہ پوچھا کہ اگر وہ ہوشیار ہوتیں اور بول سکتیں تو کسی چیز کا صدقہ کرتیں یا صدقہ کرنے کی وصیت کرتیں۔اب وہ وفات پاگئی ہیں تو کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کرسکتا ہوں؟یہ سن کر نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:ہاں ان کی طرف سے تم صدقہ دو انہیں ضرور ثواب ملے گا۔ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ میت کو صدقہ کا ثواب پہنچتا اور دعا واستغفار سے فائدہ ہوتا ہے۔صَدَقہ کے ثواب پہنچنے میں تمام اہلِ حق اہلسنت وجماعت کا اتفاق ہے البتہ بدنی عبادت مثلاً نماز اور تلاوت قرآن وغیرہ کے متعلق علما میں اختلاف ہے مگر حق یہ ہے کہ ان کا ثواب بھی پہنچتا ہے۔امامعبداللّٰہیافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیروض الریاحین میں فرماتے ہیں:شیخ عزالدین عبدالسلام کو کسی نے ان کی موت کے بعد خواب میں دیکھاتو انہوں نے فرمایا:” ہم دنیا میں تلاوت قرآن کے ثواب پہنچنے کے منکر تھے مگر اس جہاں میں آکر پتہ لگا کہ اس کا ثواب بھی پہنچتا ہے۔“
مرآۃ المناجیح میں ہے:”اس قسم کی اِیصالِ ثواب کی احادیث نہ تو اِس آیت کے خلاف ہیں کہ﴿وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ(۳۹)﴾(پ۲۷،النجم:۳۹) (ترجمہ ٔکنز الایمان: اور یہ کہ آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش)اور نہ اِس (آیت) کے﴿لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْؕ-﴾(پ۳،البقرۃ:۲۸۶) (ترجمہ ٔ کنز الایمان:اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی)کیونکہ اِن آیات میں یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کی طرف سے بدنی عبادتیں ادا نہیں کرسکتا کہ اس کی طرف سے فرض نمازیں ادا کردیا کرے یا روزے رکھ دیا کرے، ادائے فرض اور ہے ثواب کچھ اور۔ اِسی لیے آیات میں کسب اور سعی کا ذکر ہوا نہ کہ ثواب کا، ایصال تو قرآنِ کریم کی آیات سے ثابت ہے۔مدنی گلدستہ’’صدقہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) ناگہانی موت مؤمن کے لیے راحت اور فاسق کے لیے غضب ہے۔
(2) میت کی طرف سے صَدَقہ کرنا اور دیگر نیکیوں کا ثواب پہنچانا احادیث سے ثابت ہے۔
(3) میت کے لیے دعا کرنا سنت ہے اور اُس کو اس سے فائدہ پہنچتا ہے۔
(4) جب مُردوں کوثواب پہنچتا ہے تو وہ ثواب سے اِس طرح خوش ہوتے ہیں جس طرح ہم تحفہ ملنے پر خوش ہوتے ہیں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اپنے مرحوم اسلامی بھائیوں کے لئے ایصال ثواب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 948