Main Icon

باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 948

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عائِشَةَ رَضيَ اللَّهُ عَنْهَا اَنَّ رَجُلاً قَالَ لِلنَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اُمِّيْ اُفْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَاُرَاهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ فَهَلْ لَهَا اَجْرٌ اِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ.

عن عائشة رضي الله عنها ان رجلا قال للنبي صلى الله عليه وسلم: ان امي افتلتت نفسها واراها لو تكلمت تصدقت فهل لها اجر ان تصدقت عنها ؟ قال : نعم.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی:میری والدہ اچانک انتقال کرگئی ہیں، میرا خیال ہے کہ اگر وہ کچھ بولتیں تو خیرات کرتیں۔اگر میں اُن کی طرف سے صَدَقہ کروں تو کیا اُنہیں ثواب ملے گا؟نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:” ہاں۔“

شرح حدیث

ناگہانی موت کس کے لئے اچھی؟ناگہانی (اچانک) موت آجانا اچھا ہے یا بُرا اس بارے میں احادیث مختلف ہیں۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں کہ مذکورہ حدیث میں جب ایک شخص نے اپنی والدہ کی ناگہانی موت کا ذکر کیا اور پوچھا کہ کیا میرے صدقے کا ثواب اُنہیں ملے گا؟ تورسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمانا : ”ہاں ملے گا“ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ناگہانی موت ناپسندیدہ نہیں۔اُمّ المؤمنین حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”ناگہانی موت مؤمن کے لیے راحت اور فاسق کے لیے غضب ہے۔“ ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ رسول پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”ناگہانی موتاللّٰہکا غضب ہے۔“حضرت ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب کسی ایسی دیوار کے پاس سے گزرتے جو گِرنے کے قریب ہوتی تو تیزی سے گزر جاتے اور فرماتے :”میں ناگہانی موت کو ناپسند کرتا ہوں“
(علامہ بدر الدین عینی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں)میں کہتا ہوں ان روایات میں تطبیق یہ ہے کہ وہ روایات جن میں ناگہانی موت کو بُرا کہا گیا اُس شخص کے لئے ہے جو موت کی تیاری سے غافل ہو کیونکہ ایسی صورت میں وہ وصیت کرسکتا ہے نہ ہی اس کو توبہ نصیب ہوتی ہےاور جس نے موت کی تیاری کر رکھی ہو اس کے لئے ناگہانی موت اچھی اور باعث راحت ہے۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”سائل (یعنی پوچھنے والے) حضرت عبادہ ابنِ عبادہ تھے،ان کی والدہ عمرہ بنت مسعود ابن قیس ابن عمرو ابن زید تھیں۔5ہجری میں ہاٹ فیل(Heart Fail)یعنی حرکتِ قلب بند ہوجانے سے وفات پاگئیں۔آپ کی والدہ صحابیہ ہیں،حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے بیعت کرچکی تھیں،بڑی عابدہ زاہدہ تھیں۔ناگہانی موت غافل کے لیے عذاب ہے کہ اسے توبہ اور نیک اَعمال کا موقع نہیں ملتا مگر ذِکرِخدا میں رہنے والے مؤمن کے لیے رحمت کہاللّٰہتعالیٰ اُسے بیماری کی شدتوں سے بچالیتا ہے۔“ایصالِ ثواب:اس حدیث میں اپنے مُردوں کے لیےایصالِ ثواب کرنے کا واضح بیان ہے۔چنانچہعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:” حدیث سے معلوم ہوا کہ میت کی طرف سے صدقہ کرنا جائز ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ میت کو اس سے فائدہ ہوتا ہے۔ حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم اپنے مُردوں کے لیے دعا کرتے ہیں، اُن کی طرف سے صَدَقہ کرتے ہیں اور حج کرتے ہیں تو کیا اُنہیں اِس کا ثواب پہنچتا ہے؟ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”بے شک ثواب اُن تک پہنچتا ہے اور وہ اس ثواب سے اِس طرح خوش ہوتے ہیں جس طرح تم میں سے کوئی شخص تحفہ ملنے پر خوش ہوتا ہے۔“اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: اِس حدیث میں یہ ثبوت ہے کہ میت کی طرف سے صدقہ کرنا جائز و مستحب ہے اور اُس کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اور اِس کا فائدہ میت کو بھی ہوتا ہے اور خود صَدَقہ کرنے والے کو بھی اور اِس پر علما کا اجماع ہے۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:سائل نے اپنی والدہ کے متعلق یہ پوچھا کہ اگر وہ ہوشیار ہوتیں اور بول سکتیں تو کسی چیز کا صدقہ کرتیں یا صدقہ کرنے کی وصیت کرتیں۔اب وہ وفات پاگئی ہیں تو کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کرسکتا ہوں؟یہ سن کر نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:ہاں ان کی طرف سے تم صدقہ دو انہیں ضرور ثواب ملے گا۔ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ میت کو صدقہ کا ثواب پہنچتا اور دعا واستغفار سے فائدہ ہوتا ہے۔صَدَقہ کے ثواب پہنچنے میں تمام اہلِ حق اہلسنت وجماعت کا اتفاق ہے البتہ بدنی عبادت مثلاً نماز اور تلاوت قرآن وغیرہ کے متعلق علما میں اختلاف ہے مگر حق یہ ہے کہ ان کا ثواب بھی پہنچتا ہے۔امامعبداللّٰہیافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیروض الریاحین میں فرماتے ہیں:شیخ عزالدین عبدالسلام کو کسی نے ان کی موت کے بعد خواب میں دیکھاتو انہوں نے فرمایا:” ہم دنیا میں تلاوت قرآن کے ثواب پہنچنے کے منکر تھے مگر اس جہاں میں آکر پتہ لگا کہ اس کا ثواب بھی پہنچتا ہے۔“
مرآۃ المناجیح میں ہے:”اس قسم کی اِیصالِ ثواب کی احادیث نہ تو اِس آیت کے خلاف ہیں کہ
﴿وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ(۳۹)﴾(پ۲۷،النجم:۳۹) (ترجمہ ٔکنز الایمان: اور یہ کہ آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش)اور نہ اِس (آیت) کے﴿لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْؕ-﴾(پ۳،البقرۃ:۲۸۶) (ترجمہ ٔ کنز الایمان:اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی)کیونکہ اِن آیات میں یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کی طرف سے بدنی عبادتیں ادا نہیں کرسکتا کہ اس کی طرف سے فرض نمازیں ادا کردیا کرے یا روزے رکھ دیا کرے، ادائے فرض اور ہے ثواب کچھ اور۔ اِسی لیے آیات میں کسب اور سعی کا ذکر ہوا نہ کہ ثواب کا، ایصال تو قرآنِ کریم کی آیات سے ثابت ہے۔مدنی گلدستہ’’صدقہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) ناگہانی موت مؤمن کے لیے راحت اور فاسق کے لیے غضب ہے۔
(2) میت کی طرف سے صَدَقہ کرنا اور دیگر نیکیوں کا ثواب پہنچانا احادیث سے ثابت ہے۔
(3) میت کے لیے دعا کرنا سنت ہے اور اُس کو اس سے فائدہ پہنچتا ہے۔
(4) جب مُردوں کوثواب پہنچتا ہے تو وہ ثواب سے اِس طرح خوش ہوتے ہیں جس طرح ہم تحفہ ملنے پر خوش ہوتے ہیں۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اپنے مرحوم اسلامی بھائیوں کے لئے ایصال ثواب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 948