Main Icon

باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1265

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدِ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ اَجْرِ هِ غَيْرَ اَنَّهُ لَا يُنْقَصُ مِنْ اَجْرِ الصَّائِـمِ شَيْءٌ.

عن زيد بن خالد الجهني رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من فطر صائما كان له مثل اجر ه غير انه لا ينقص من اجر الصائـم شيء.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا زید بن خالد جہنیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا اُس کے لیے روزہ دار جیسا ثواب ہے اور روزہ دار کے ثواب سے بھی کچھ کمی نہیں کی جائے گی۔“

شرح حدیث

نیکی پر تعاون:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”(افطار کرانے والے کے لیے روزہ دارکی طرح ثواب ہے )اس لیے کہ روزہ دار کو افطار کرانے یا غازی کو سامان دینے میں نیکی پر مدد کرنا ہے،ربّ تعالیٰ فرماتاہے:﴿وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى﴾(پ۶،المائدۃ:۲)(ترجمۂ کنزالایمان:اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔)چونکہ روزہ دارنفس وشیطان سے جہادکرتا ہے اس لیے اسے (ایک حدیث میں )غازی کے ساتھ ذکر فرمایا۔خیال رہے کہ روزہ افطار کرانے سے ثواب روزہ مل جائے گا مگر اس سے روزہ ادا نہ ہوگا، وہ تو رکھنے سے ہی ادا ہوگا،ثواب مل جانا اور ہے فرض ادا ہونا کچھ اور۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1265