Main Icon

باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1267

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ اِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَاءَ بِخُبْزٍ وَزَيْتٍ فَاَكَلَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ وَاَكَلَ طَعَامَكُمُ الْاَبرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلاَئِكَةُ.

عن انس رضي الله عنه: ان النبي صلى الله عليه وسلم جاء الى سعد بن عبادة رضي الله عنه فجاء بخبز وزيت فاكل ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم:افطر عندكم الصائمون واكل طعامكم الابرار وصلت عليكم الملائكة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت سعد بن عبادہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکےپاس تشریف لائے تو انہوں نے روٹی اور زیتون پیش کیا۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تناول کیا پھر ارشاد فرمایا:’’تمہارے پاس روزہ داروں نے افطار کیا ،تمہارا کھانا نیکوں نے کھایااور فرشتوں نے تمہارے لیے رحمت کی دعا کی۔“

شرح حدیث

تمہارے پاس روزہ داروں نے افطار کیا:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یہ جملہ دعائیہ ہے یعنی خدا کرے تمہارے کھانے سے روزہ دار افطار کیاکریں تمہارا کھانا اس راہ میں خرچ ہوا کرے کیونکہ اس وقت حضورِ انور(صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا نہ تو روزہ تھا نہ یہ وقت افطار کا تھا،بعض شارحین نے فرمایا کہ حضورِ انور کا (نفلی) روزہ تھا جو حضر ت سعد کی خاطر توڑ دیا گیا مگر یہ درست نہیں اس لیے کہ روزہ توڑنے کو افطار نہیں کہتے۔“”تمہارا کھانا نیکوں نے کھایا“:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”یا یہ جملہ دعائیہ ہے یعنی خدا کرے تمہارا کھانا ہمیشہ نیک لوگ ہی کھائیں یا خبر ہےکہ حضورِ انورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنیکوں کے سردار ہیں کہ نیکی کا وصف آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں بدرجۂ اَتَمّ موجود ہے۔بہرحال حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے علاوہ دیگر لوگوں کی نسبت یہ دعا ہی ہے کہ اپنے آپ کو نیک حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی فرما سکتے ہیں کسی دوسرے کو ایسا کہنا جائز نہیں۔“فرشتوں نے تمہارے لیے رحمت کی دعا کی:مرآۃ المناجیح میں ہے:”یہ بھی دعا ہے یا خبر یعنی خداکرے ہمیشہ تمہارے لیے فرشتے دعائیں کرتے رہیں یا ہمارے کھانے سے فرشتوں نے تمہارے لیے دعائیں کیں۔معلوم ہوا کہ حضورِ انور(صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا کسی کا کھانا ملاحظہ فرمانا فرشتوں کی دعا کا ذریعہ ہے۔“مدنی گلدستہ’’افطار‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) کسی کو روزہ افطار کرانا بہت بڑی نیکی اور نیکی پر مدد کرنا ہے۔
(2) روزہ دارنفس و شیطان سے جہادکرتا ہے۔
(3) روزہ افطار کرانے والے کو روزے کا ثواب ملتاہے مگر اس سے روزہ ادا نہ ہوگا وہ تو رکھنے سے ہی ادا ہوگا،ثواب مل جاناالگ بات ہےاور فرض ادا ہونا الگ۔
(4) جو بِلا عُذرِشرعی رمضان کا روزہ نہ رکھے اسے دن میں کھانے کو کچھ نہ دیاجائےکہ یہ گناہ پر مدد ہے۔
(5) حضورِ انور
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا کسی کے ہاں کھاناتناول فرمانا فرشتوں کی دعا کا ذریعہ ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دوسروں کو ا فطارکرانے اور افطار کرانے والوں کو دعا دینے کی توفیق عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1267