Main Icon

باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1266

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اُمِّ عُمَارَةَ الْاَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَدَّمَتْ اِلَيْهِ طَعَامًا فَقَالَ:كُلِيْ فَقَالَتْ:اِنِّيْ صَائِمَةٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الصَّائِمَ تُصَلِّيْ عَلَيْهِ الْمَلاَئِكَةُ اِذَا اُكِلَ عِنْدَهُ حَتّٰى يَفْرُغُوْا وَرُبَّمَا قَالَ : حَتّٰى يَشْبَعُوْا.

عن ام عمارة الانصارية رضي الله عنها: ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليها فقدمت اليه طعاما فقال:كلي فقالت:اني صائمة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ان الصائم تصلي عليه الملائكة اذا اكل عنده حتى يفرغوا وربما قال : حتى يشبعوا.

حدیث ترجمہ

حضر ت سَیِّدَتُنا اُمِّ عمارہ اَنصاریہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:”سَیِّدِ عالَمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کے پاس تشریف لائے توانہوں نے آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں کھانا پیش کیا ۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:’’تم بھی کھاؤ۔‘‘انہوں نے عرض کی کہ میں روزے سے ہوں تو رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’جب تک روزہ دار کے سامنےکچھ کھایا جاتا ہے تو فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ کھانے والے فارغ ہوجائیں۔“اور(کسی روایت میں یہ)فرمایاکہ” کھانے والے جب تک پیٹ نہ بھر لے۔‘‘( اُس وقت فرشتےروزہ دار کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔)

شرح حدیث

روزہ دار مہمان کی تواضع کھانے سے کرسکتاہے:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ روزہ دار مہمان کی خاطر تواضع کھانے سے کرسکتاہے،ہاں رمضان میں روزہ توڑوں اور روزہ چوروں کو نہ کھانا کھلائے نہ ان کے لیے پکائے کہ یہ گناہ پر مدد ہے،ربّ تعالیٰ فرماتاہے: ﴿وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ﴾(پ۶، المائدۃ:۲)(ترجمۂ کنزالایمان:اورگناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔) دوسرے یہ کہ اگر مہمان کی ناراضی کا اندیشہ نہ ہو تو میزبان نفلی روزہ نہ توڑے اور مہمان سے عذرکر دے۔ (فرشتے روزہ دار کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں )کیونکہ یہ روزہ دار دو عبادتیں کررہا ہے ایک روزہ، دوسرا کھاناکھاتے دیکھ کر صبر، اس لیے اس کا اجروثواب بھی زیادہ ہے اور فرشتوں کی دعائیں نفع میں۔ظاہر یہ ہے کہ فرشتوں سے مراد اعمال لکھنے والے اور حفاظت کرنے والے فرشتے ہیں۔ “فضیلت سن کرعمل میں رغبت بڑھتی ہے:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:” جب روزہ دار کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے تو اس کا دل کھانے کی خواہش کرتا ہے جس کے سبب اُس کے لیے روزہ بڑا سخت ہوجاتا ہے لہٰذا اس سختی اور مشقت کے عوض فرشتے اُس کے لیے استغفار کرتے ہیں ۔حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ عمارہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاکے سامنے یہ فضیلت بیان فرمانے میں حکمت یہ تھی کہ وہ اپنا روزہ خوش دِلی سے پورا کریں۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1266