- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- حدیث نمبر 298
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِی ْ ھُرَیْرۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: اَخَذَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِيْ فِيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَخْ كَخْ ، اِرْمِ بِهَا ، اَمَا عَلِمْتَ اَنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ!؟. وَفِیْ رِوَایَۃِ : اَنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَۃُ. ( )
وَقَوْلُہُ : کَخْ کَخْ یُقالُ بِاِسْکَانِ الْخَاءِ ، ویُقَالُ بِکَسْرِھَا مَعَ التَّنْوِیْنِ وَھِیَ کَلِمَۃُ زَجْرٍ للصَّبِیِّ عَنِ المُسْتَقْذَرَاتِ ، وَکَانَ الحَسَنُ رَضِی اللہ عَنْہُ صَبِیًّا.
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: اخذ الحسن بن علي رضی اللہ عنہما تمرة من تمر الصدقة فجعلها في فيه ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كخ كخ ، ارم بها ، اما علمت انا لا نأكل الصدقة!؟. وفی روایۃ : انا لا تحل لنا الصدقۃ. ( )
وقولہ : کخ کخ یقال باسکان الخاء ، ویقال بکسرھا مع التنوین وھی کلمۃ زجر للصبی عن المستقذرات ، وکان الحسن رضی اللہ عنہ صبیا.
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک بار حضرتِ سَیِّدُنا امام حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اُٹھاکر اپنے منہ میں ڈال دی تو نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’تھو! تھو! اسے پھینک دو کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے؟‘‘ ایک روایت میں ہے کہ (آپ نے فرمایا) : ’’بے شک ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں۔ ‘‘
حدیث پاک میں مذکور کلمہ’’کَخْ کَخْ‘‘ بچوں کو ڈراتے ہوئے میلی یا گندی چیزوں سے روکنے کے لیے بولا جاتا ہے یا ایسی چیزوں سے روکنے کے لے بولا جاتا ہے جن سے گھن کھائی جاتی یا نفرت کی جاتی ہے۔ حدیث پاک میں مذکور یہ واقعہ سیدنا امام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بچپن کا ہے۔
شرح حدیث
حدیث مذکور کی باب سے مناسبت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث مذکور میں اس بات کا بیان ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا امام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو صدقے کی کھجور کھانے سے منع فرمایا ، کیونکہ صدقہ سادات کرام کے لیے جائز نہیں ہےاور یہ باب بھی اپنے اہل وعیال کو غیر شرعی امور سے روکنے کے بارے میں ہے ، اس لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی نے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی۔
اولاد کوخلافِ شرع اُمور سے روکنا واجب ہے:مرقاۃ المفاتیح میں ہے ، علامہ ابن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’(حضور عَلَیْہِ السَّلَام کا حضرت حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو یہ فرمانا کہ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے؟) کلام کا یہ انداز اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب معاملہ بالکل واضح ہو اگرچہ مخاطب کے علم میں نہ ہو ، مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ بات تم پر کیسے مخفی رہ گئی حالانکہ یہ تو بالکل ظاہر ہے۔ ‘‘ علامہ ابن ملِک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ (حضور عَلَیْہِ السَّلَام کا حضرت حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو کھجور کھانے سے روکنا) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آباء یعنی باپ دادا پر واجب ہے کہ اولاد کو ان باتوں سے منع کرے جو شریعت میں جائز نہیں ہیں۔ ( )ساداتِ کرام کو صدقات واجبہ دینا منع ہے:فتاویٰ اہلسنت میں ہے : صدقاتِ واجبہ جیسے زکوٰۃ ، صدقۂ فطر وغیرہ سادات ِ کرام کو نہیں دے سکتے۔ اور دینے سے گنہگار بھی ہونگے اور یہ چیزیں ادابھی نہیں ہوں گی۔ احادیث مبارکہ میں بھی سادات کو صدقات دینے کی ممانعت وارد ہے۔ جیسا کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاارشادگرامی ہے : ’’صدقہ آلِ محمد کے لیے جائز نہیں کیونکہ یہ لوگوں (کےمال ) کا میل ہے ۔ ‘‘( )
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت ، مجدِّدِدِین وملت ، پروانہ شمع رِسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’زکوۃ ساداتِ کرام وسائر بنی ہاشم پر حرامِ قطعی ہے جس کی حرمت پر ہمارے ائمہ ثلاثہ بلکہ ائمہ مذاہب اربعہ رِضی اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِیْن کا اجماع قائم۔ ‘‘( )
بنی ہاشم کو زکوۃ نہیں دے سکتے ۔ اور نہ ہی ایک ہاشمی دوسرے ہاشمی کو زکوۃ دے سکتاہے ۔ ہاشمی سے مراد عبدالمُطَّلب کے بیٹے حضرت عباس ، حارث اور پوتے حضرت علی اور حضرت جعفر و عقیل رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن کی اولادیں ہیں ۔ جبکہ حضرتِ سَیِّدُنا علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَ کی جو اولادحضرت فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
سے ہے ان کو اور حسنین کریمین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی اولاد کو سید کہاجاتاہے۔ ہر سید ہاشمی ضرور ہے لیکن ہر ہاشمی سید ہو یہ ضروری نہیں ۔ ( )ساداتِ کرام کو صدقات نہ دینے کی حکمتیں:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی سادات کرام کو صدقات نہ دینے کی حکمتیں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’دراصل صدقات بندے کے مال وغیرہ کو پاک کرنے کے لیے ہوتے ہیں ، جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے : )خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ((پ۱۱ ، التوبۃ : ۱۰۳) ترجمۂ کنزالایمان : ’’اے محبوب ان کے مال میں سے زکوۃ تحصیل (وصول) کرو جس سے تم انہیں ستھرا کردو‘‘ تو صدقات گویا میلا دھوون ہوئے اور حضور عَلَیْہِ السَّلَام کی آل اولاد لوگوں کے میل اور دھوون سے پاک ہیں ، اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود ارشاد فرمایا : ’’صدقہ لوگوں کا میل ہے‘‘ صدقات کے سادات کو نہ دینے کی ایک حکمت یہ ہے کہ صدقات کا لینا (دھوون اور میل ہونے کی وجہ سے)ذلت ہےاور یہ نچلا ہاتھ ہے یعنی محتاجی اور لینے والا ہے جبکہ غیر اللہ کی ذلت ومحتاجی سادات کرام کے لائق نہیں ہے اور سادات تو اوپر والا ہاتھ یعنی سخی اور عطا فرمانے والے ہیں نیز ایک حکمت یہ بھی ہے اگر سادات صدقات لیتے تو ہوسکتا ہے کہ اسلام دشمن لوگ مَعَاذَ اللہ یہ بکواس کرتے کہ محمد ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )ہمیں اسلام کی دعوت اس لیے دیتے ہیں تاکہ یہ ہمارے مال وغیرہ لے کر اپنی آل اولاد کو دیں حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تو اپنے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حکم ارشاد فرماتاہے : )قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا((پ۲۵ ، الشوریٰ : ۲۳) ترجمۂ کنزالایمان : ’’تم فرماؤ میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا۔ ‘‘( )سادات کی خدمت کرنے کا طریقہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سادات کرام کے لیے صدقات واجبہ لینا بھی جائز نہیں اور نہ ہی ان کو دینا
جائزہے لیکن وہ سادات کرام جو شدید مالی تنگی سےدوچار ہیں ، ان کی مدد کرنےکےلیے صاحب حیثیت مالدار مسلمانوں کو چاہیے کہ زکوۃ کے علاوہ اپنے دیگر اموال سے بطور ہدیہ اور تحفہ کچھ نہ کچھ سادات کی خدمت میں پیش کردیا کریں اور اگر کوئی سادات کی خدمت کرنا چاہتا ہے مگر مالدار نہیں تو وہ یہ طریقہ بھی اختیار کرسکتا ہے کہ اپنی زکوۃ کا کسی شرعی فقیر کو مالک کردے اور پھر اس کا یہ مدنی ذہن بنائے کہ وہ اس مال میں سے کچھ نہ کچھ سادات کی خدمت میں ہدیہ کردے اس طرح زکوۃ بھی ادا ہوجائےگی اور سادات کی خدمت کی سعادت بھی نصیب ہوگی۔
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت ، مجدددین وملت ، پروانہ شمع رسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’رہایہ کہ پھر اس زمانۂ پُر آشوب میں حضرات سادات کرام کی مواسات کیونکرہو ، اَقُوْلُ (میں یہ کہتا ہوں کہ) بڑے مال والے اگر اپنے خالص مالوں سے بطور ہدیہ ان حضراتِ عُلیہ کی خدمت نہ کریں تو ان کی بے سعادتی ہے ، وُہ وقت یاد کریں جب ان حضرات کے جدِّاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےسوا ظاہری آنکھوں کو بھی کوئی ملجا و ماوی نہ ملے گا ، کیا پسند نہیں آتا کہ وُہ مال جو اُنہی کے صدقے میں انہی کی سرکار سے عطا ہُوا ، جسے عنقریب چھوڑکر پھر ویسے ہی خالی ہاتھ زیرِ زمین جانے والے ہیں ، اُن کی خوشنودی کے لیے ان کے پاک مبارک بیٹوں پر اُس کا ایک حصّہ صرف کیا کریں کہ اُس سخت حاجت کے دن اُس جو اد کریم رؤف و رحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْمکے بھاری انعاموں ، عظیم اکرامو ں سے مشرف ہوں۔ ابنِ عساکر امیرالمؤمنین مولا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے راوی ، رسولﷲ∞ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ’’جو میرے اہلِ بیت میں سے کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا میں روزِ قیامت اس کا صلہ اسے عطا فرماؤں گا۔ ‘‘خطیب بغدادی امیر المومنین عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی ، رسولﷲ∞ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ’’جو میرے اہل بیت میں سے کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا میں روزِ قیامت اس کا صلہ اس عطا فرماؤں گا “ﷲ∞ُاَکْبَرْ ،ﷲ∞ُاَکْبَرْ !قیامت کا دن ، وہ قیامت کا دن ، وہ سخت ضرورت سخت حاجت کا دن اور ہم جیسے محتاج اور صلہ عطا فرمانے کو محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سا صاحب التاج ، خدا جانے کیا کچھ دیں اور کیسا کُچھ نہال فرمادیں ، ایک نگاہِ لُطف اُن کی جملہ مُہمات دو جہاں کو بس ہے بلکہ خود یہی صلہ کروڑوں
صلے سے اعلیٰ وانفس ہے جس کی طرف کلمۂ کریمہ اِذَالَقِیَنِیْ(جب وہ روز قیامت مجھ سے ملے گا) اشارہ فرماتا ہے ، بلفظِ اِذَا تعبیر فرمانا بِحَمْدِﷲ∞ بروزِ قیامت وعدۂ وصال و دیدارِ محبوبِ ذی الجلال کا مژدہ سُناتا ہے۔ مسلمانو! اور کیا درکار ہے دوڑواور اس دولت و سعادت کو لو وَبِااللہِ التَّوْفِیْق اور متوسط حال والے اگر مَصارِفِ مُسْتَحبہ کی وسعت نہیں دیکھتے تو بِحَمْدِﷲ∞ وُہ تدبیر ممکن ہے کہ زکوٰۃ کی زکوٰۃ ادا ہو اور خدمتِ سادات بھی بجا ہو یعنی کسی مسلمان مصرفِ زکوٰۃ معتمد علیہ کو کہ اس کی بات سے نہ پھرے ، مالِ زکوٰۃ سے کچھ روپے بہ نیتِ زکوٰۃ دے کر مالک کردے ، پھر اس سے کہے تم اپنی طرف سے فلاں سیّد کی نذر کر دو اس میں دونو ں مقصود حاصل ہو جائیں گے کہ زکوٰۃ تو اس فقیر کو گئی اوریہ جو سیّد نے پایا نذرانہ تھا ، اس کا فرض ادا ہوگیا اور خدمتِ سیّد کا کامل ثواب اسے اور فقیر دونوں کو ملا ۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’سادات ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول(1)باپ دادا پر واجب ہے کہ اولاد کو ان باتوں سے منع کرے جو شریعت میں جائز نہیں ہیں۔
(2)سادات کو صدقات واجبہ لینا اور ان کو دینا ناجائز وحرام ہے کہ یہ لوگوں کے مال کا میل ہے اور سادات کرام اس سے پاک وصاف ہیں۔
(3)حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی جو اولادحضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ہے ان کو اور حسنین کریمین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی اولاد کوسَیِّد کہاجاتاہے۔
(4)حضرتِ سَیِّدُناعلی و جعفر وعقیل اور حضرت عباس و حارث بن عبدالمطلب کی اولادیں بنی ہاشم ہیں۔
(5)سادات کرام پر چونکہ صدقات واجبہ حرام ہیں اس لیے مالی تنگی سےدوچار سادات کرام کی اپنے دیگر مال سے بطور ہدیہ اور نذرانہ خدمت کرنی چاہیے کہ بہت ہی اجروثواب کا کام ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سےدعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی اولاد کو غیر شرعی کاموں سے روکنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں سادات کا ادب واحترام اور ان کی مالی طور پر خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 298