Main Icon

اہل و عیال کی اصلاح کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 299

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اَبِیْ حَفْصٍ عُمَرَ ابْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْاَسَدِ رَبِیْبِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُنْتُ غُلاَمًا فِى حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ يَدِىْ تَطِيْشُ فِى الصَّحْفَةِ ، فَقَالَ لِىْ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: يَا غُلاَمُ! سَمِّ اللَّهَ ، وَكُلْ بِيَمِيْنِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيْكَ. فَمَا زَالَتْ تِلْكَ طِعْمَتِى بَعْدُ.( )

وعن ابی حفص عمر ابن ابی سلمۃ عبد اللہ بن عبد الاسد ربیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: كنت غلاما فى حجر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وكانت يدى تطيش فى الصحفة ، فقال لى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم: يا غلام! سم الله ، وكل بيمينك وكل مما يليك. فما زالت تلك طعمتى بعد.( )

حدیث ترجمہ

رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےسوتیلے بیٹےحضرتِ سیدنا ابو حفص عمر بن ابو سلمہ عبد اللہ بن عبد الاسد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے ، فرماتے ہیں کہ میں تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پرورش میں تھا ، میرا ہاتھ (کھانا کھاتے ہوئے )پیالے میں اِدھر اُدھر گھومتا تھا تو نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ’’اے لڑکے! اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نام لو ، اپنے سیدھے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔ ‘‘ (عمر بن ابو سلمہ فرماتے ہیں) پھر اس کے بعد میں ہمیشہ اسی طریقے سے کھاتا رہا۔

شرح حدیث

مدنی منوں کی مدنی تربیت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں مدنی منوں کی تربیت کے حوالے سے چند مدنی پھول حاصل ہوئے : (1)عموماًمدنی منوں یا منیوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جب وہ کسی برتن سے کوئی چیز کھاتے ہیں تو پورے برتن میں ہاتھ ڈال دیتے ہیں۔ (2) مدنی منوں یا منیوں کی غلطیوں پر ڈانٹ ڈپٹ نہیں بلکہ مدنی تربیت کرنی چاہیے۔ (3) مدنی منوں یا منیوں کی دینی واخلاقی تربیت کرنا حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت مبارکہ ہے۔ (4) حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نہ

صرف بڑوں بلکہ چھوٹے مدنی منوں اور منیوں پر بھی شفقت ورحمت فرمایا کرتے تھے۔ (5)مدنی منوں یا منیوں کی غلطیوں پر ان کی مدنی تربیت کرتے ہوئے اس غلطی کے علاوہ دیگر آداب بھی سکھانا بہت اچھا ہے۔ (6) مدنی منوں یا منیوں کی اَحسن طریقے سے تربیت کرنے کا یہ فائدہ بھی ظاہر ہوتا ہےکہ بسا اوقات وہ مدنی تربیت پوری زندگی کے لیے ان کے ذہن پر نقش ہوجاتی ہے۔
اپنے سامنے سے کھانا مستحب ہے:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : (حضرت سَیِّدُنَا عمر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میرا ہاتھ کھانا کھاتے ہوئے پیالے میں اِدھر اُدھر گھومتا تھا) یعنی کبھی میں حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے ساتھ ایک پیالہ میں کھانا کھاتا تھا تو میں کھانے کے آداب سے واقف نہ تھا اس لیے ہر طرف سے کھانا کھاتا تھا جدھر سے دل چاہا ادھر سے بوٹی لے لی ، ادھر ہی لقمہ شوربے میں بھگولیا۔ (تو نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : “ اے لڑکے! اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نام لو ، اپنے سیدھے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ) یعنی بِسْمِ اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرو ، داہنے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ ، ہر طرف سے نہ کھاؤ ، یہ تینوں حکم جمہور علماء کے نزدیک استحبابی ہیں ، بعض آئمہ کے ہاں داہنے ہاتھ سے کھانا واجب ہے۔ خیال رہے کہ ہر چیز پیتے وقت بھی بِسْمِ اللہ پڑھے اور داہنے ہاتھ سے پئے یہ ہی سنت ہے ، یہ تینوں امور سنت علی العین ہیں یعنی اگر جماعت میں سے صرف ایک آدمی کرلے تو کافی نہیں ہرشخص داہنے ہاتھ سے کھائے ، ہرشخص بِسْمِ اللہ پڑھے ، ہر شخص اپنے سامنے سے کھائے ، اگر اکیلا بھی کھائے تب بھی اپنے سامنے سے کھائے ، ہاں اگر طباق میں مختلف مٹھائیاں یا مختلف قسم کی کھجوریں ہیں تو جہاں سے چاہے کھالے۔ ( )کھانے سے پہلےبسم اللہشریف پڑھنا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کھانا کھانے سے پہلے بِسْمِ اللہ شریف پڑھنا سنت مبارکہ ہے۔ فرمانِ مصطفےٰ

صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : ’’جِسے یہ بات پسند ہو کہ شیطان اس کے پاس سے نہ کھاسکے ، نہ قیلولہ کرسکے اور نہ ہی رات گزارسکے توا سے چاہئے کہ جب گھر میں داخِل ہوتو سلام کرلے اور کھانے کیلئے بِسْمِ اللہ پڑھ لے۔ ‘‘( )
کھانا اپنے سامنے سے کھانا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اپنے سامنے سے کھانا کھانا بھی سنت مبارکہ ہے ، حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نہ صرف اپنے سامنے سے کھانا کھانے کی ترغیب دلایا کرتےتھے بلکہ خود بھی کھانا اپنے سامنے سے ہی تناول فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے ، فرماتی ہیں کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے سامنے سے کھانا تناول فرمایا کرتے تھے۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’جنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)اپنے گھر والوں یا دیگر متعلقین کی کسی بھی شرعی حوالے سے رہنمائی کرنا یا انہیں آداب وغیرہ سکھانا حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت مبارکہ ہے۔
(2)کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا اور اپنے سامنے سے کھانا کھانے کے آداب اور سنتوں میں سے ہے نیز جس کھانے سے قبل بسم اللہ پڑھ لی جائےاس میں شیطان شریک نہیں ہوتا۔
(1)ہمیشہ اپنے سامنے سے کھانا چاہیے ، ہاں اگر برتن میں مختلف قسم کے کھانے یا مٹھائیاں یا کھجوریں ہیں تو جہاں سے چاہے کھالے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے گھروالوں کی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے اور کھانے کی دیگر سنتوں اور آداب پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 299