- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- حدیث نمبر 302
اہل و عیال کی اصلاح کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 302
جلد 3
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ثُرَیَّۃَ سَبْرَۃَ بْن مَعْبَدٍ الجُھَنِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلِّمُوْا الصَّبِيَّ الصَّلَاةَ لِسَبْعِ سِنِيْنَ وَاضْرِبُوْهُ عَلَيْهَا ابْنَ عَشْرِ سِنِیْنَ. ( )
عن ابی ثریۃ سبرۃ بن معبد الجھنی رضی اللہ عنہ قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : علموا الصبي الصلاة لسبع سنين واضربوه عليها ابن عشر سنین. ( )
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا ابو ثریہ سَبْرَہ بن مَعْبَد جُہَنِیْ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے ، فرماتے ہیں کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا : “ بچہ جب سات سال کا ہوجائے تو اسے نماز سکھاؤ اور جب دس سال کی عمر کو پہنچ کر نماز نہ پڑھے تو اسے مارو۔ “
شرح حدیث
بچوں کو عقائدومسائل سکھاؤ:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’یہ حکم وجوبی ہے ، اور اس میں لڑکا لڑکی دونوں شامل ہیں ، اسی طرح اس پر واجب ہے کہ اپنی زوجہ اورخادم کو بھی نماز کا حکم دے ۔ نماز کا حکم دینے سے مراد یہ ہے کہ انہیں وہ تمام باتیں سکھائے جن پر نماز کا دارو مدار ہے یا جن پر نماز موقوف ہےکیونکہ جب کسی شے کے متعلق حکم دیا جاتا ہے وہ حکم ان تمام چیزوں کو شامل ہوتا ہے جن کے بغیر وہ شے مکمل نہیں ہوسکتی۔ اور بچے کو پورے سات سال کا ہونے کے بعد نماز کا حکم دے ، سات سال کی عمر ایسی ہوتی ہے کہ بچہ اس عمر میں تمیز سیکھ لیتا ہے اور خود ہی کھا پی لیتا ہے اور استنجاء کرلیتا ہے۔ ‘‘( ) ایک اور مقام پرفرماتے ہیں : ’’بچے کے ولی پر واجب ہے کہ جب بچہ سمجھ بوجھ والا ہوجائے تو اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ ، اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور تمام رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حق میں جن باتوں کا اعتقاد رکھنا واجب ، جائز یا محال ہے اور ان کا سیکھنا ضروری ہے وہ تمام باتیں بچے کو سکھائے ، اسے بتائے کہ پچھلی تمام شریعتیں ہمارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شریعت سے منسوخ ہوچکی ہیں اور اب یہی شریعت قیامت تک رہے گی ، محمد بن عبداللہ ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول عربی ہیں ، آپ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور مدینہ منورہ میں آپ کا وصال ہوا اور بچے کو احکام شرعیہ کی تعلیم دے تاکہ وہ اس کے ذہن نشین ہو جائیں کیونکہ بچپن میں جن باتوں کی تعلیم دی جاتی ہے وہ پتھر پر نقش کی طرح ہے۔ ‘‘ ( )سات سال اور دس سال کی قید کی حکمت:علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’سات سال کی عمر میں نماز کی ادائیگی کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ تاکہ انہیں نماز کی عادت پڑے اور وہ نماز سےمانوس ہوجائیں۔ نیز بچپن یعنی دس سال کی عمر میں بچوں کے بستر الگ کرنے اور نماز نہ پڑھنے کی صورت میں انہیں مارنے کی وجہ ان کو ادب سکھانا اور اللہ
عَزَّوَجَلَّ کے حکم کی محافظت مقصود ہے کیونکہ نماز عبادات کی اصل ہے ، نیز اس سے ان کو لوگوں میں معاشرتی آداب کی تعلیم دینا بھی مقصود ہے اور یہ کہ وہ تہمت کی جگہوں پر نہ کھڑے ہوں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حرام کردہ تمام اُمور سے اپنے آپ کو بچائیں۔‘‘( )نماز کا معاملہ بہت اہم ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جہاں اس حدیث پاک سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اپنے بچوں کو نماز کی تعلیم دیں ، انہیں نماز کے مسائل سکھائیں وہیں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ہم خود بھی نماز کے معاملے میں سستی نہ کریں ، نماز کے ضروری مسائل کو تفصیل سےسیکھیں ، جب تک ہم خود نماز کے مسائل کو اچھی طرح سے نہیں سیکھیں گے تو اپنی اولاد کو کیسے سکھائیں گے؟ مگر افسوس! آج کل ہماری اکثریت نمازوں سے غافل ہے ، نماز پڑھنا تو دور کی بات ، نماز کے ضروری مسائل سے بھی آگاہ نہیں۔ اپنا اور اپنے بچوں کا نماز کے حوالے سے مدنی ذہن بنائیے ، نماز کے فضائل اور اس کے ترک کی وعیدوں پر غور کیجئے۔ یقیناً نماز دین کا ستون ہے ، نماز اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خوشنودی کا سبب ہے ، نماز سے رحمت نازل ہوتی ہے ، نماز برائیوں اور بے حیائی کے کاموں سے روکتی ہے ، نماز سے گناہ معاف ہوتے ہیں ، نماز دعاؤں کی قبولیت کا سبب ہے ، نماز سےروزی میں برکت ہوتی ہے ، نماز اندھیری قبر کا چراغ ہے ، نماز جنت کی کنجی ہے ، نماز جہنم کے عذاب سے بچاتی ہے ، نماز پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ، نماز پل صراط کےلیے آسانی ہے ، نمازی کو کل بروز قیامت حضور نبی رحمت شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت نصیب ہوگی۔ جبکہ بے نمازی سے اللہ عَزَّوَجَلَّ سخت ناراض ہوتا ہے ، بے نمازی کے چہرے سے حقیقی نورانیت ختم ہوجاتی ہے ، بے نمازی اطمینان قلب سے محروم ہوجاتا ہے ، بے نمازی کے رزق میں بے برکتی پیدا ہوجاتی ہے ، جو جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑ دیتا ہے اس کا نام جہنم کے دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے ، بے نمازی کو کل بروز قیامت سخت ذلت ورسوائی کا سامنا ہوگا۔ لہذا خود بھی نماز کی پابندی کیجئے اور اپنی آل ، اولاد
کو بھی نماز پڑھنے کا حکم دیجئے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر اپنی اولاد کی اچھی تربیت کریں گے اور انہیں نماز روزہ اور اس کے علاوہ دیگر احکام شرعیہ پر عمل کرنے کا پابند بنائیں گے تو یہ اولاد دنیا میں بھی آپ کے لیے راحت اور آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گی اور آپ کے مرنے کے بعد آپ کے لیے ایصال ثواب اور دعائے خیر کرکے آپ کے لیے آخرت میں بھی بخشش کا سامان ہو گی۔ تاجدار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے سوائے تين کاموں کے کہ ان کا سلسلہ جاری رہتا ہے : (1)صدقۂ جاريہ (2)وہ علم جس سے فائدہ اُٹھايا جائے۔ (3)نيک اولاد جو اس کے حق ميں دعائے خير کرے۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’دعا‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول(1)والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کی چھوٹی عمر سے ہی دینی تعلیم وتربیت کا اہتمام کریں۔
(2)بچے جب سات سال کی عمر کو پہنچیں تو انہیں نماز وغیرہ کی تعلیم دینا شروع کردیں ، اور جب وہ بالغ ہوجائیں تو نماز نہ پڑھنے کی صورت میں مارنے کی بھی شرعاً اجازت ہے۔
(3)نماز ایک اہم فریضہ ہے ، اپنی اولاد کو سب سے پہلے نماز کی تلقین کرنی چاہیے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے وہ ہمیں اپنی اولاد کی دینی تعلیم وتربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں خود بھی نیک اعمال کرنے گناہوں سے بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 302