Main Icon

اہل و عیال کی اصلاح کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 302

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ثُرَیَّۃَ سَبْرَۃَ بْن مَعْبَدٍ الجُھَنِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلِّمُوْا الصَّبِيَّ الصَّلَاةَ لِسَبْعِ سِنِيْنَ وَاضْرِبُوْهُ عَلَيْهَا ابْنَ عَشْرِ سِنِیْنَ. ( )

عن ابی ثریۃ سبرۃ بن معبد الجھنی رضی اللہ عنہ قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : علموا الصبي الصلاة لسبع سنين واضربوه عليها ابن عشر سنین. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو ثریہ سَبْرَہ بن مَعْبَد جُہَنِیْ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے ، فرماتے ہیں کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا : “ بچہ جب سات سال کا ہوجائے تو اسے نماز سکھاؤ اور جب دس سال کی عمر کو پہنچ کر نماز نہ پڑھے تو اسے مارو۔ “

شرح حدیث

بچوں کو عقائدومسائل سکھاؤ:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’یہ حکم وجوبی ہے ، اور اس میں لڑکا لڑکی دونوں شامل ہیں ، اسی طرح اس پر واجب ہے کہ اپنی زوجہ اورخادم کو بھی نماز کا حکم دے ۔ نماز کا حکم دینے سے مراد یہ ہے کہ انہیں وہ تمام باتیں سکھائے جن پر نماز کا دارو مدار ہے یا جن پر نماز موقوف ہےکیونکہ جب کسی شے کے متعلق حکم دیا جاتا ہے وہ حکم ان تمام چیزوں کو شامل ہوتا ہے جن کے بغیر وہ شے مکمل نہیں ہوسکتی۔ اور بچے کو پورے سات سال کا ہونے کے بعد نماز کا حکم دے ، سات سال کی عمر ایسی ہوتی ہے کہ بچہ اس عمر میں تمیز سیکھ لیتا ہے اور خود ہی کھا پی لیتا ہے اور استنجاء کرلیتا ہے۔ ‘‘( ) ایک اور مقام پرفرماتے ہیں : ’’بچے کے ولی پر واجب ہے کہ جب بچہ سمجھ بوجھ والا ہوجائے تو اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ ، اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور تمام رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حق میں جن باتوں کا اعتقاد رکھنا واجب ، جائز یا محال ہے اور ان کا سیکھنا ضروری ہے وہ تمام باتیں بچے کو سکھائے ، اسے بتائے کہ پچھلی تمام شریعتیں ہمارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شریعت سے منسوخ ہوچکی ہیں اور اب یہی شریعت قیامت تک رہے گی ، محمد بن عبداللہ ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول عربی ہیں ، آپ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور مدینہ منورہ میں آپ کا وصال ہوا اور بچے کو احکام شرعیہ کی تعلیم دے تاکہ وہ اس کے ذہن نشین ہو جائیں کیونکہ بچپن میں جن باتوں کی تعلیم دی جاتی ہے وہ پتھر پر نقش کی طرح ہے۔ ‘‘ ( )سات سال اور دس سال کی قید کی حکمت:علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’سات سال کی عمر میں نماز کی ادائیگی کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ تاکہ انہیں نماز کی عادت پڑے اور وہ نماز سےمانوس ہوجائیں۔ نیز بچپن یعنی دس سال کی عمر میں بچوں کے بستر الگ کرنے اور نماز نہ پڑھنے کی صورت میں انہیں مارنے کی وجہ ان کو ادب سکھانا اور اللہ

عَزَّوَجَلَّ کے حکم کی محافظت مقصود ہے کیونکہ نماز عبادات کی اصل ہے ، نیز اس سے ان کو لوگوں میں معاشرتی آداب کی تعلیم دینا بھی مقصود ہے اور یہ کہ وہ تہمت کی جگہوں پر نہ کھڑے ہوں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حرام کردہ تمام اُمور سے اپنے آپ کو بچائیں۔‘‘( )
نماز کا معاملہ بہت اہم ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جہاں اس حدیث پاک سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اپنے بچوں کو نماز کی تعلیم دیں ، انہیں نماز کے مسائل سکھائیں وہیں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ہم خود بھی نماز کے معاملے میں سستی نہ کریں ، نماز کے ضروری مسائل کو تفصیل سےسیکھیں ، جب تک ہم خود نماز کے مسائل کو اچھی طرح سے نہیں سیکھیں گے تو اپنی اولاد کو کیسے سکھائیں گے؟ مگر افسوس! آج کل ہماری اکثریت نمازوں سے غافل ہے ، نماز پڑھنا تو دور کی بات ، نماز کے ضروری مسائل سے بھی آگاہ نہیں۔ اپنا اور اپنے بچوں کا نماز کے حوالے سے مدنی ذہن بنائیے ، نماز کے فضائل اور اس کے ترک کی وعیدوں پر غور کیجئے۔ یقیناً نماز دین کا ستون ہے ، نماز اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خوشنودی کا سبب ہے ، نماز سے رحمت نازل ہوتی ہے ، نماز برائیوں اور بے حیائی کے کاموں سے روکتی ہے ، نماز سے گناہ معاف ہوتے ہیں ، نماز دعاؤں کی قبولیت کا سبب ہے ، نماز سےروزی میں برکت ہوتی ہے ، نماز اندھیری قبر کا چراغ ہے ، نماز جنت کی کنجی ہے ، نماز جہنم کے عذاب سے بچاتی ہے ، نماز پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ، نماز پل صراط کےلیے آسانی ہے ، نمازی کو کل بروز قیامت حضور نبی رحمت شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت نصیب ہوگی۔ جبکہ بے نمازی سے اللہ عَزَّوَجَلَّ سخت ناراض ہوتا ہے ، بے نمازی کے چہرے سے حقیقی نورانیت ختم ہوجاتی ہے ، بے نمازی اطمینان قلب سے محروم ہوجاتا ہے ، بے نمازی کے رزق میں بے برکتی پیدا ہوجاتی ہے ، جو جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑ دیتا ہے اس کا نام جہنم کے دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے ، بے نمازی کو کل بروز قیامت سخت ذلت ورسوائی کا سامنا ہوگا۔ لہذا خود بھی نماز کی پابندی کیجئے اور اپنی آل ، اولاد

کو بھی نماز پڑھنے کا حکم دیجئے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر اپنی اولاد کی اچھی تربیت کریں گے اور انہیں نماز روزہ اور اس کے علاوہ دیگر احکام شرعیہ پر عمل کرنے کا پابند بنائیں گے تو یہ اولاد دنیا میں بھی آپ کے لیے راحت اور آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گی اور آپ کے مرنے کے بعد آپ کے لیے ایصال ثواب اور دعائے خیر کرکے آپ کے لیے آخرت میں بھی بخشش کا سامان ہو گی۔ تاجدار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے سوائے تين کاموں کے کہ ان کا سلسلہ جاری رہتا ہے : (1)صدقۂ جاريہ (2)وہ علم جس سے فائدہ اُٹھايا جائے۔ (3)نيک اولاد جو اس کے حق ميں دعائے خير کرے۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’دعا‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کی چھوٹی عمر سے ہی دینی تعلیم وتربیت کا اہتمام کریں۔
(2)بچے جب سات سال کی عمر کو پہنچیں تو انہیں نماز وغیرہ کی تعلیم دینا شروع کردیں ، اور جب وہ بالغ ہوجائیں تو نماز نہ پڑھنے کی صورت میں مارنے کی بھی شرعاً اجازت ہے۔
(3)نماز ایک اہم فریضہ ہے ، اپنی اولاد کو سب سے پہلے نماز کی تلقین کرنی چاہیے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے وہ ہمیں اپنی اولاد کی دینی تعلیم وتربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں خود بھی نیک اعمال کرنے گناہوں سے بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 302