Main Icon

باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 743

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ اَصْحَابَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم قَالُوْا:يَا رَسُوْلَ اللَّهِ، اِنَّا نَاْكُلُ وَلَا نَشْبَعُ، قَالَ:فَلَعَلَّكُمْ تَفْتَرِقُوْنَ؟قَالُوْا:نَعَمْ. قَالَ:فَاجْتَمِعُوا عَلٰی طَعَامِكُمْ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، يُبَارَكُ لَكُمْ فِيْهِ.

عن وحشي بن حرب رضي الله عنه ان اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قالوا:يا رسول الله، انا ناكل ولا نشبع، قال:فلعلكم تفترقون؟قالوا:نعم. قال:فاجتمعوا علی طعامكم، واذكروا اسم الله، يبارك لكم فيه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا وحشی بن حربرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ بعض صحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے ؟ فرمایا:’’شاید تم الگ الگ کھاتے ہو؟‘‘عرض کی:جی ہاں!فرمایا:’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا نام لے کر، مِل کر کھایا کرو، تمہارے لئےاس میں بر کت دی جائے گی۔“

شرح حدیث

مِل کر کھانے میں برکت ہے :مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’(صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی:”ہم کھاتے ہیں سیر نہیں ہوتے“) یعنی ہم کھاتے زیادہ ہیں اور سیری کم ہوتی ہے ہم چاہتے ہیں کہ ہم کو قناعت اورقُوَّۃ عَلَی الطّاعۃنصیب ہو وہ کم میسر ہوتی ہے۔’’(آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:شاید تم الگ الگ کھاتے ہو؟‘‘)یعنی گھر والے ایک ایک کر کے الگ الگ کھاتے ہیں جمع ہوکر ایک ساتھ نہیں کھاتے۔سُبْحَانَ اللّٰہ!یہ ہے مرض کا بیان اور یہ ہے حکیم مطلق کی تشخیص اور پہچان۔( اب تم کھانا مل کر کھاؤ اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا نام لواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس میں تمہیں بر کت دےگا) یہ ہے ان حکیم مطلقصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا علاج فرمانا کہ جمع ہوکر ایک ساتھ کھانے میں برکت ہے۔خیال رہے کہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ﴿لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًاؕ-﴾(پ۱۸،النور:۶۱)یعنی تم پر گناہ نہیں مل کر کھاؤ یا الگ الگ کیونکہ آیت کریمہ میں الگ الگ کھانے کے جواز کا ذکر ہے اور اس حدیثِ پاک میں مل کر کھانے کے استحباب کا تذکرہ ہے۔“مدنی گلدستہ’’رب ‘‘کے2حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے2مدنی پھول
(1) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامطبیب مطلق ہیں،جسمانی وروحانی تمام اَمراض کانہ صرف علاج فرماتے ہیں بلکہ اس سے شفا بھی عطا فرماتے ہیں۔
(2)
بِسْمِ اللّٰہپڑھ کر، مل کرکھانے سے برکت ہوتی ہے اور بندہ سیرہوجاتا ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیںبِسْمِِα اللّٰہپڑھ کر اور مل کر کھانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 743