Main Icon

باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 945

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَليٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:كُنَّا فِيْ جَنَازَةٍ فِي بَقِيْعِ الْغَرْقَدِ فَاَتَانَا رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ فقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ فَنَكَسَ وَجَعَلَ يَنْكُتُ بِمِخْصَرَتِهِ ثُمَّ قَالَ:مَا مِنْكُمْ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ فَقَالُوْا:يَارَسُوْلَ اللَّهِ اَفَلَا نَـتَّكِلُ عَلَى كِتَابِنَا؟فَقَالَ:اعْمَلُوْا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ.

عن علي رضي الله عنه قال:كنا في جنازة في بقيع الغرقد فاتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقعد وقعدنا حوله ومعه مخصرة فنكس وجعل ينكت بمخصرته ثم قال:ما منكم من احد الا وقد كتب مقعده من النار ومقعده من الجنة فقالوا:يارسول الله افلا نـتكل على كتابنا؟فقال:اعملوا فكل ميسر لما خلق له.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناعلیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم جنت البقیع میں ایک جنازے کے ساتھ تھے اتنے میںرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لائے اور بیٹھ گئے۔ہم بھی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے گِرد بیٹھ گئے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس ایک چھڑی تھی۔آپ نے سر مبارک جھکایا اورچھڑی سے زمین کُریدنے لگے،پھر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانادوزخ اور جنت سے لکھ دیا گیا ہے۔‘‘صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا ہم اپنے لکھےہوئے پر بھروسہ نہ کر لیں(اور عمل چھوڑ دیں)؟آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”عمل کرو ہر شخص کے لیے وہ کام آسان کر دیا گیا ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ۔“

شرح حدیث

قبر کےگِرد بیٹھنا جائز ہے :مذکورہ حدیثِ پاک کی باب کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرام کو قبر کے پاس بیٹھ کر وعظ و نصیحت ارشاد فرمائی۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:”یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر زندہ لوگوں یا قبر والے کی کسی مصلحت(خیروبھلائی) کا تقاضا ہو تو قبر کے گرد لوگوں کا بیٹھنا جائز ہے۔ زندہ لوگوں کی مصلحت (خیروبھلائی)یہ ہے کہ انہیں موت اور آخرت کی یاد دلائی جائے اور قبر والے کی مصلحت (خیروبھلائی)یہ ہے کہ قبر کے پا س بیٹھ کر قرآنِ پاک کی تلاوت کی جائے اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذکر کیا جائے تو اس سے میت کو نفع ہو گا ۔ “مدنی گلدستہ’’رب ‘‘کے2حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے2مدنی پھول
(1) قبر کے گِرد بیٹھ کر وعظ و نصیحت کرنا جائز ہے کہ اس میں موت اور آخرت کی فکر زیادہ ہے ۔
(2) قبر کے پاس
ذِکراللّٰہکرنے اور قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے سے میت کو نفع ہوتا ہے ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں موت کو یاد رکھنے اور فکرِآخرت کرنے کی توفیق عطا کرےاور ہمارا ٹھکانا جنت میں بنائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 945