Main Icon

باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 659

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ عَنِ النَّبيّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ في ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ اِلاَّ ظِلُّهُ: اِمَامٌ عَادِلٌ وَشَابٌّ نَشَاَ فِيْ عِبَادَةِ اللهِ تَعَالٰی وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِی الْمَسَاجِدِ وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِي اللهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وتَفَرَّقَا عَلَيْهِ وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَاَةٌ ذَاتُ مَنْصَبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: اِنِّي اَخَافُ اللهَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَاَخْفَاهَا حَتَّى لَاتَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ.

عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال:سبعة يظلهم الله في ظله يوم لا ظل الا ظله: امام عادل وشاب نشا في عبادة الله تعالی ورجل قلبه معلق فی المساجد ورجلان تحابا في الله اجتمعا عليه وتفرقا عليه ورجل دعته امراة ذات منصب وجمال فقال: اني اخاف الله ورجل تصدق بصدقة فاخفاها حتى لاتعلم شماله ما تنفق يمينه ورجل ذكر الله خاليا ففاضت عيناه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہےکہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:” سات آدمی ایسے ہیں جنہیںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس دن اپنے(عرش کے) سائے میں رکھے گا جس دن اس کے (عرش کے)سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا: (1) عدل کرنے والا حاکم (2) وہ نوجوان جس کی جوانی عبادت الٰہی میں گزری(3)و ہ شخص جس کادل مساجد میں لگا رہے(4)وہ دو شخص جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکےلیے محبت کریں، ا سی کی محبت پر ایک دوسرے سے ملیں اور جدا ہوں۔ (5)وہ شخص جسےمنصب وجمال والی عورت (برائی کے لئے )بلائے تووہ کہہ دے کہ میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتا ہوں۔(6) وہ شخص جو اس طرح چھپا کرصدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو پتا ہی نہ چلے کہ دائیں ہاتھ نے راہ خدا میں کیاخرچ کیا۔ (7)وہ شخص جو تنہائی میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذکر کرےاور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائیں۔‘‘

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں سات ایسے خوش نصیب لوگوں کا ذکر ہے جن کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبروزِ محشر عرش کے سائے میں رکھے گا کہ اس دن سوائے سایَۂ عرش کے اور کوئی سایہ نہ ہوگا، اس دن کی گرمی کا عالم یہ ہوگا کہ سورج ایک کمان کے فاصلے پر رہ کر آگ بر سا رہا ہوگا اور لوگ اپنے پسینے میں ڈبکیاں کھا رہے ہوں گےاس دن کی گرمی اور شدت سے وہی شخص امن میں رہے گا جس نے دنیا میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا والے کام کئے ہوں گے اور اپنی زندگی کو عین شریعتِ مطہرہ کے مطابق گزارا ہوگا روز ِمحشر گرمی کی شدت اور دہشت سے امن پانے اور سایہ ٔعرش میں جگہ پانے والے لوگوں میں عادل حاکم بھی ہے کہ جس کو دنیا میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے لوگوں کا حاکم مقرر فرمایا اور اس نے اپنی اس ذمہ داری کو اَحسن طریقے سے انجام دیا اور رعایا کے مابین عدل و انصاف قائم کیاکیونکہ عدل و انصاف وہ خوبی ہے جس سے معاشرے کا نظام بنتاہے،حقوق کی حفاظت اورجرائم کی روک تھام ہوتی ہے،امن وامان اوراتحاد کی فضا قائم ہوتی ہے، دشمنوں پر ہیبت طاری ہوتی ہے،آپس کےجھگڑو ں اور بِگاڑ سے حفاظت رہتی ہے۔الغرض جہاں عدل وانصاف سےکام لیا جائےوہ جگہ امن وسلامتی کاگہوارہ بن جاتی ہے۔عادل بادشاہ مخلوق پراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت ہے جس کے سائے میں مخلوق آرام پاتی ہے اوریہ ضروری نہیں کہ حاکم کسی ملک کا ہی ہو بلکہ ہر وہ شخص جس کے تحت دو یا دو سے زیادہ لو گ آتے ہیں وہ ان پر حاکم ہےجیسا کہ”شرح ابن بطال “میں ہے: جودو یا زیادہ لوگوں پر حاکم بنااور اس نے عدل وانصاف سےکام لیا تو اسے بھی یہ فضیلت حاصل ہوگی۔ ایسے ہی گھر کا سربراہ کہ گھر کے تمام افراد اس کے تحت آتے ہیں۔یوں ہی کسی بھی ادارے میں کام کرنے والے افراد پر مقرر آفیسر،منیجر،وغیرہ اپنے ما تحت کام کرنے والے افراد کےلیےحاکم ہے۔اگر ہرشخص اپنے ما تحت آنے والے تمام افراد میں بلا امتیاز عدل و انصاف قائم کرنے میں کامیاب ہو جا ئے تو کوئی بعید نہیں کہ ہمارا معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے اور ایسے عادل شخص کی جزا یہ ہے کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے بروز قیامت اپنے عرش کے سائے تلے جگہ عطا فرمائے گا ۔چونکہ مذکورہ حدیث پاک پہلے گزر چکی ہے، سایہ عرش پانے والے بقیہ افراد کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لیے فیضانِ ریاض الصالحین، جلد4، باب 46،حدیث نمبر376اور باب54، حدیث نمبر449ملاحظہ فرمائیں۔عادل ومنصف حاکم کے فضائل:اَحادیثِ مبارکہ میں عدل وانصاف کرنے والے حکمرانوں کے بہت فضائل بیان فرمائے گئے ہیں۔ ان میں سےتین روایات ملاحظہ کیجئے:(1)حضور نبی پاک، صاحِبِ لولاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان ہے: ”بروز قیامتاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب سب سے زیادہ قریب عادل بادشاہ ہوگا اور سب سے زیادہ نا پسند سب سےزیادہ دور ظالم بادشاہ ہوگا۔“(2)تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالی شان ہے :”عدل کرنے والے حاکم کا ایک دِن ساٹھ سال کی (نفلی ) عبادت سے بہتر ہے۔“(3)حضرتِ سیِّدُناکعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَفَّارفرماتےہیں:اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے ایسا گھربنایاہےجس میں موتی جڑےہوئےہیں،اس میں70ہزارمحل ہیں،ہرمحل میں70ہزار گھر ہیں ،ہر گھرمیں70ہزارکمرےہیں جن میں انبیا،صِدِّیْقِیْن،شُہَدا،عادل حکمران اوراپنے نفس کامُحاسَبَہ کرنے والےرہیں گے۔ہمارے اَسلاف عدل وانصاف قائم کرنے میں اپنی مثال آپ تھے،وہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں کسی کا لحاظ نہیں کیا کرتے تھے۔چنانچہ اسی ضمن میں ایک حکایت ملاحظہ کیجئے:فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکا اِنصاف:دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 413 صفحات پرمشتمل کتاب’’عیون الحکایات‘‘(حصہ دوم)کے صفحہ 372 پر ہے:حضرتِ سیِّدُنا اَنَس بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی خدمتِ بابرکت میں حاضر تھے کہ اتنے میں ایک مصری شخص آیا اور کہا:میں امیرالمؤمنینرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی پناہ چاہتا ہوں۔ آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: کیاہوا ؟بلاخوف و جھجک بیان کرو ۔ کہا: ہمارے گورنرحضرتِ سیِّدُنا عَمر وبن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے بیٹے نے مجھے کوڑے مارے ہیں اور کہا ہے کہ تم میرا مقابلہ کرتے ہو؟ حالانکہ میں دوکریموں کا بیٹا ہوں۔ خداعَزَّوَجَلَّکی قسم! ابھی اس مصری نے اپنی بات مکمل بھی نہ کی تھی کہ امیرالمؤمنین نے فوراً حضرتِ سیِّدُناعَمر وبن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکویہ خط لکھا :اے عَمر و بن عاص جیسے ہی میرا یہ خط تمہارے پاس پہنچے فوراً اپنے بیٹے کو لے کر میرے پاس پہنچو، اس کام میں تاخیر ہر گز نہیں ہونی چاہے۔ جب حضرت سیِّدُنا عَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو امیر المؤمنینرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکا خط ملا تو انہوں نے اپنے بیٹے کو بلا کر پوچھا :کیا تم کسی غیر قانونی کام یاکسی جرم کے مرتکب ہوئے ہو ؟ بیٹے نے کہا:ایسی کوئی بات نہیں۔ فرمایا : پھر امیر المؤمنینرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے تجھے کیوں بلایا ہے؟بہر حال یہ دونوں بارگاہِ خلافت میں پہنچے۔ جب امیر المؤمنینرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرتِ سیِّدُناعَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے بیٹے کودیکھا تو فرمایا: وہ مصری شخص کہاں ہے؟اسے ہمارے پاس بلاؤ۔حکم پاتے ہی وہ شخص آگیا۔آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے اسے کوڑا پکڑاتے ہوئے فرمایا: دو کریموں کے بیٹے کو مارو!دوکریموں کے بیٹے کو مارو۔ مصری نے اسے اتنے کوڑے مارے کہ وہ شدید زخمی ہوگیا۔ پھر حضرتِ سیِّدُنا عَمر و بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو بلاکرفرمایا:تم نے کب سے انسانوں کو غلام بنانا شروع کردیا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے تو انہیں آزادجَنا ہے۔ پھر مصری شخص کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا : جب بھی تمہیں کوئی تنگ کرے تم مجھے خط لکھ دینا۔(اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین)مدنی گلدستہ’’عدل‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) عدل کرنے والے حاکم کو
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّمحشر کی گرمی میں عرش کا سایہ عطا کرے گا۔
(2) بروزِ قیامت
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ قریب عادِل بادشاہ ہوگا۔
(3) معاشرےکو پُر امن بنانے کےلیےضروری ہے کہ لوگوں کے مابین عدل و اِنصاف قائم کیا جائے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں روزِ محشر کی گرمی سے محفوظ فرمائے اور دنیا میں عدل و انصاف پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 659