Main Icon

باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 661

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَوفِ بْنِِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:خِيَارُ اَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ وَتُصَلُّوْنَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّوْنَ عَلَيْكُمْ وشِرَارُ اَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُوْنَهُمْ وَيُبْغِضُوْنَكُمْ وَتَلعَنُوْنَهُمْ وَيَلْعَنُوْنَكُمْ قَالَ: قُلْنَا:يَارَسُولَ اللهِ اَفَلَا نُنَابِذُهُمْ؟قَالَ:لَا مَا اَقَامُوْا فِيْكُمُ الصَّلَاةَ لَامَا اَقَامُوْا فِيْكُمُ الصَّلَاةَ.

عن عوف بن مالك رضي الله عنه قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:خيار ائمتكم الذين تحبونهم ويحبونكم وتصلون عليهم ويصلون عليكم وشرار ائمتكم الذين تبغضونهم ويبغضونكم وتلعنونهم ويلعنونكم قال: قلنا:يارسول الله افلا ننابذهم؟قال:لا ما اقاموا فيكم الصلاة لاما اقاموا فيكم الصلاة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عَوف بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سنا :”تمہارے اچھےحکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہواور وہ تم سے محبت کرتے ہیں ، تم اُن کے لیےدعا کرتے ہواوروہ تمہارے لیے دعا کرتے ہیں اور تمہارے بُرے حکمران وہ ہیں جن سے تم بغض رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہیں۔تم ان پر لعنت بھیجتے ہواور وہ تم پر لعنت بھیجتے ہیں۔‘‘حضرت سَیِّدُنَا عوف بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں:ہم نے عرض کی:’’یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !کیا ہم ان سے علیحدہ نہ ہوجائیں؟‘‘ αآپ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’نہیں!جب تک وہ تم میں نماز قائم کریں ،نہیں!جب تک وہ تم میں نماز قائم کریں۔‘‘

شرح حدیث

اچھے اور بُرےحکمران:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:”تمہارے اچھے حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہواور وہ تم سے محبت کرتے ہیں۔“ یعنی ان کی عمدہ سیرت اور ان کا تمہارے ساتھ نرمی کرنے کی وجہ سے تم ان کو پسند کرتے ہو اوروہ تمہیں پسند کرتے ہیں کیونکہ محبت جانبین میں رابطہ قائم کرتی ہے۔ ’’وہ تمہارے لیے دعا کرتے اور تم ان کے لیےدعا کرتے ہو ۔‘‘یعنی تم ان کے لیے خیر و بھلائی کی دعا کرتے ہو اور وہ تمہارے لیے یہ دعا کرتے ہیں کہ تماللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے احکام پر عمل کرو اورممنوعاتِ شرعیہ سے بچواور مرنے کے بعد وہ تمہارے لیے دعا کریں گے اور تم ان کے لیے۔ ’’اور تمہارے بُرے حکمران وہ ہیں جن سے تم بغض رکھتے ہو اور وہ تم سے بُغض رکھتے ہیں۔‘‘یعنی تم پر سختی کرنے اور نرمی نہ کرنے کی وجہ سےتم اُنہیں ناپسند کرتے ہو اور وہ تمہارے ناپسند کرنے کی وجہ سے تمہیں ناپسند کرتے ہیں۔’’تم ان پر لعنت بھیجتے ہو۔‘‘یعنی حکمرانوں کی بد عملیوں کی وجہ سے تم ان کے لیےرحمت سے دوری کی بددعا کرتے ہو۔ اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ کسی معین شخص پر لعنت کرنا جائز ہے کیونکہ یہاں لوگوں کی اس عادت کا بیان ہے جو وہ بُرےحکمرانو ں کے ساتھ کرتے ہیں نہ کہ لعنت کے جواز کا ثبوت۔’’ اور وہ تم پر لعنت بھیجتے ہیں۔‘‘جیسا تم ان کے ساتھ کرتے ہو ویسا ہی وہ بھی تمہارے ساتھ کرتے ہیں ۔’’حضرت عوف بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں ہم نے عرض کیا:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا ہم ان سے علیحدہ نہ ہوجائیں؟‘‘ یعنی ان کی مخالفت کر کے ان کی اطاعت چھوڑ نہ دیں؟’’آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’نہیں۔‘‘یعنی اُس وقت تک ان سے جُدا مت ہونا جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں۔یہ حدیث پاک نماز کی عظمت کی دلیل ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز کا ترک واضح کفر کی طرح ہے۔نماز کو ذِکر کرنے کی وجہ:شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:’’ تمہارے بہترین سربراہ وہ ہیں جو عدل و انصاف اختیار کرتے ہیں اور اُمُورِ سلطنت و معیشت میں اصلاح کرتے ہیں ، اس لیے تمہارے اور اُن کے درمیان امان کا تعلق پیدا ہو گیا ہے نیز محبت، رضا مندی اور خیر خواہی کا رشتہ مضبوط ہو گیا ہے جس کی وجہ سے تم اُن سے محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں۔تم ان کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہو اور وہ تمہاری حفاظت کی دعا کرتے ہیں ۔حاکم کی اطاعت سے ہاتھ کھینچنے میں دیگر گناہوں کے برخلاف نماز کا ذکر اس لئے کیا گیا کیونکہ نماز دِین کا ستو ن اور ایمان و کفر میں فرق کرنے والی ہے ۔ایسے حُکّام خدا کا عذاب ہیں:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفر ما تے ہیں: ’’مطلب یہ ہے کہ حُکّام عادِل ہوں تم سے مِل جُل کر رہیں،تمہاری ان کی آپس میں محبت ہو،تمہارے ساتھ نمازوں میں شریک ہوں ایسے حُکّاماللّٰہکی رحمت ہیں جیسے عہد صحابہ میں ہوتا تھا اور بعد میں بھی عادل سلاطین میں رہا۔ (تمہارے برے حکمران وہ ہیں جن سے تم بغض رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہیں۔) یعنی ظالم ہوں متکبر ہوں،اپنے عیش و طرب میں رہیں،ملک و رِعایا سے لاپرواہ رہیں فساق وفجار ہوں ایسے حُکّام خدا کا عذاب ہیں۔(ہم نے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا ہم ان سے علیحدہ نہ ہوجائیں؟) یعنی کیا ہم ان کو حکومت سے نکال باہر نہ کردیں اور ان سے کی ہوئی بیعت توڑ کر ان سے جنگ نہ کریں۔(آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:نہیں جب تک وہ تم میں نماز قائم رکھیں)یعنی جب تک سلاطین و حکام مسلمانوں میں جمعہ وعیدین قائم کریں،مسجدوں کا انتظام کریں،نمازوں کا اہتمام کریں تب تک تم ان کو علیحدہ نہ کرو ان کی بیعت نہ توڑو کیونکہ نمازیں قائم کرنا مؤمن ہونے کی علامت ہے،جو نمازیں قائم کرتا ہے وہ دِین کا ضرور خیال رکھے گا،اِس میں نماز کی اہمیت کا اظہار ہے۔شخص مُعَیَّن پر لعنت کا حکم:علامہ عبد الغنی نابلسیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”لعنت سے مرادکسی کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے دور کرنا یا کہنا ہے۔ یقین کے ساتھ کسی شخص معین پر لعنت کرنا جائز نہیں چاہے وہ کافر ہویامؤمن، گنہگار ہویا فرمانبردار کیونکہ کسی کے خاتمے کا حال کوئی نہیں جانتاالبتہ جس کا کفر پرمرنا یقینی طور پر ثابت ہواس پر لعنت کرنا جائز ہے جیساکہ ابو جہل کے کفر پر مرنے پر اجماع ہے۔“ فتاویٰ رضویہ میں ہے کہ’’لعنت بہت سخت چیز ہے ،ہر مسلمان کو اس سے بچایا جائے بلکہ لعین کافر پر بھی لعنت جائز نہیں جب تک اس کا کفر پر مرنا قرآن وحدیث سے ثابت نہ ہو۔‘‘مدنی گلدستہ’’عبادت ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) بہترین حکمران وہ ہیں جن سے رعایا محبت کرتی ہو اور وہ بھی رعایا سے محبت کرتے ہوں اور بد ترین حکمران وہ ہیں جن سے لوگ بُغض رکھیں،ان پر لعن طعن کریں اور وہ حکمران بھی ویسا ہی کریں۔
(2) ظالِم، عیش پرست،ملک و رعایا سے لاپر وا اورفساق و فجار حکمران خدا کا عذاب ہیں ۔
(3) عادل ومنصف،ملنسار، دُکھ دَرد اور نماز میں شریک ہونے والے حُکّام
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت ہیں ۔
(4) عادل ومنصف و امورِ سلطنت و معیشت میں اِصلاح کرنے والے حکمرانوں اور رعایا کے درمیان امان کا تعلق پیدا ہو جاتا ہے جس سے محبت ،رضا مندی اور خیر خواہی کا رشتہ مضبوط ہوتاہے۔
(5) کسی معین شخص پر لعنت کرنا جائز نہیں چاہے وہ کافر ہویامؤمن،گنہگار ہویا فرمانبردار کیونکہ کسی کے خاتمے کا حال کوئی نہیں جانتاالبتہ جن کا کفرپر مرنا قرآن وحدیث سے ثابت ہو ان پر لعنت جائز ہے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں عدل و انصاف کرنے والے حکمران عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 661