Main Icon

باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 681

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْاَنْصَارِ وَهُوَ يَعِظُ اَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:دَعْهُ فَاِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْاِيْمَانِ.

عن ابن عمر رضي الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على رجل من الانصار وهو يعظ اخاه في الحياء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:دعه فان الحياء من الايمان.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک انصاری کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں نصیحت کررہا تھا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:” اسےچھوڑ دوبے شک حیا ایمان سے ہے ۔“

شرح حدیث

حیا کا فرض،مستحب اور مباح ہونا:نزہۃ القاری میں ہے:”حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایک انصاری کے بھائی بہت شرمیلے تھے اُن کے بھائی اُن کو سمجھارہے تھے کہ حیا مت کرو، اتفاق سے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکا وہاں سے گزر ہواتو فرمایا: ’’اسے اپنے حال پر چھوڑ دو ،حیا ایمان سے ہے۔‘‘یعنی ایمان کے آثار میں سے ہے۔حیا کبھی واجب وفرض ہوتی ہے جیسے کسی ناجائز وحرام کے ارتکاب سے حیا،کبھی مندوب جیسے مکروہ سے بچنے میں حیا،کبھی مباح کسی مباح شرعی کے کرنے سےحیا۔“ایمان کی نشانی:علامہ سید محموداحمدرضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حیا ایمان کی نشانی ہے جیسے ایمان معاصی سے روکتا ہے اسی طرح حیا بھی روکتی ہے۔حیا دراصل اس کیفیت کا نام ہے جو انسان میں اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ اسے اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ کوئی اسے عیب لگائے گا یا اس کی مذمت کرے گا اورترک فعل حیا کے لوازم سے ہے ۔غالباً اس لئے بعض علما نے ترک فعل کا نام حیا رکھا ہے ۔سلیم طبیعتیں اُس کام کے کرنے میں حیا کرتی ہیں جو قبیح(بُرے) ہوتے ہیں۔لیکن جاہل لوگ نیک کاموں کے کرنے میں بھی حیا کرتے ہیں اور اب تو زمانے کا یہ عالَم ہے کہ لوگ نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے میں حیا کرنے لگ گئے ہیں ۔بہرحال جس حیا کو علامت اِیمان قرار دیا گیا ہے وہ وہی حیا ہے جو آدمی کو بُرائیوں کے اختیار کرنے سے روکے ۔مومن حق کہنے اور حق پر چلنے میں حیا نہیں کرتا ۔“تقویٰ کی اصل:مرآۃ المناجیح میں ہے:” جو حیا گناہوں سے روک دے وہ تقویٰ کی اصل ہے اور جو غیرت و حَیااللّٰہکے مقبول بندوں کی ہیبت دل میں پیدا کردے وہ ایمان کا رُکن اعلیٰ ہے اور جو حَیا نیک اَعمال سے روک دے وہ بُری ہے،یہاں پہلے یا دوسرے درجہ کی حَیا مراد ہے۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حیاایک طبعی شے ہےپھربھی اسے ایمان کا جز اس لئے کہا گیا کہ دیگر نیک اعمال کی طرح کبھی اس کے حصول کے لئے کوشش کی جاتی ہے اور بتکلف اسے اپنایا جاتا ہے اورکبھی یہ فطری ہوتی ہے لیکن پھر بھی اسے شریعت کے مطابق استعمال کرنے کے لئے نیت ،علم اور کسب کی حاجت ہوتی ہے اس لئے اسے ایمان کا جزقرار دیا گیا اور اس لئےبھی کہ حیا بندےکونیک اَعمال پر اُبھارتی ہے اورگناہوں سے روکتی ہے۔“حیا کےمتعلق بزرگانِ دِین کے اَقوال:*حضرت سَیِّدُنَا مخلدرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : کسی دانا کاقول ہےکہ تم ان لوگوں کی مجلس میں بیٹھ کر حَیاکو زندہ رکھو جن سےحَیا کی جاتی ہے۔*حضرت سَیِّدُنَا ابنِ عطاءرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : علم اکبرہیبت وحیا ہے اورجب ہیبت وحیا نہ رہے تو اس علم میں خیر باقی نہیں رہتی۔*حضرت سَیِّدُنَا سَری سَقطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:حیا اور اُنس دل کے دروازے پردستک دیتےہیں،اگر اس میں زُہد وتقویٰ پاتےہیں تو وہاں ٹھہر جاتےہیں ورنہ واپس چلے جاتے ہیں۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے حیا کرنے کی برکات :*حضرت سَیِّدُنَا ابو سلیمان دارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّفرماتاہے :اے بندے! جب تومجھ سے حیا کرے گاتو میں تیرے عیب لوگوں کےدلوں سے بھلا دوں گا، زمین کے جن حصوں پر تو گناہ کا مرتکب ہواوہاں سےتیرے گناہ مٹا دوں گا،لوح محفوظ سے تیری لغزشیں مٹادوں گااوربروزِ قیامت تجھ پر حساب میں سختی نہ کروں گا۔*حضرت سیدنافضیل بن عیاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَہَّابفرماتے ہیں: بدبختی کی پانچ علامات ہیں:(۱)دل کی سختی(۲)آنکھوں سے آنسو نہ بہنا(۳) حیا کی کمی(۴)دنیا میں رغبت اور (۵)لمبی امید۔حیا کی اقسام:امام ابو القاسم قشیریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:حیا کی کئی قسمیں ہیں:(1)حیاجنایت:جس طرح حضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامکہ جب ان سے ربّ تعالیٰ نے فرمایا:ہم سے بھاگ رہے ہو ؟تو کہا:نہیں بلکہ تجھ سے حیا کررہا ہوں۔(2)حیاتقصیر:جس طرح فرشتے کہتے ہیں :تُو پاک ہے ہم نے اس طرح عبادت نہیں کی جس طرح تیری عبادت کا حق ہے۔(3)حیا اجلال(بزرگی کا حیا):جس طرح حضرت اسرافیلعَلَیْہِ السَّلَامکااللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے حیا کرتے ہوئے اپنے پَروں کو خود پر اوڑھ لینا۔(4)حیا کرم: رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے گھر میں کچھ لوگ کھانے کے بعد بیٹھے باتوں میں مصروف تھے حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ان کے بیٹھے رہنے سے تکلیف ہوئی لیکن حیا کی وجہ سے یہ نہ فرمایا کہ چلےجاؤجیساکہ قرآنِ مجید میں ہے:فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍؕ-(پ۲۲،الاحزاب:۵۳) ترجمۂ کنزالایمان:اور جب کھا چکو تو متفرق ہو جاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ۔
(5)حیا حشمت(احترام کا حیا):جس طرح حضرت علی
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت مقداد بن اسودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مذی نکلنے کا حکم پوچھیں(آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے خود نہ پوچھا)کیونکہ آپ کے نکاح میں رسول اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صاحبزادی حضرت فاطمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاتھیں۔(6)حیا استحقار:جس طرح حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا:اے ربّ! مجھے دنیا کی جب کوئی حاجت پیش آتی ہے تو (دنیا کی حقارت کےسبب)تجھ سے مانگتے ہوئے شرم آتی ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے فرمایا:مجھ سے مانگو چاہے آٹے کا نمک یا تمہاری بکری کا چارہ ہی کیوں نہ ہو۔(7)حیا انعام:یہ حیائے الٰہی ہے،جب بندہ پل صِراط عبور کرلے گا تو وہ اسے مہر لگا ہوا خط دے گا جس میں لکھا ہوگا:تونے کیا جو کیا لیکن مجھے حیا آتی ہے کہ میں تجھ پر ظاہر کروں ۔جامیں نے تجھے بخش دیا۔مدنی گلدستہ’’شرم وحیا‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) ناجائز وحرام کام کے ارتکاب سے حیا کرنا فرض وواجب ہے۔
(2) حیا ایمان کی نشانی ہے جس طرح ایمان گناہوں سے روکتا ہے اسی طرح حیا بھی روکتی ہے ۔
(3) اچھی اور سلیم طبیعتیں بُرے اور قبیح کاموں سے حیا کرتی ہیں ۔
(4) جوحیا آدمی کو بُرائیوں کے اختیار کرنے سے روکے اسےایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
(5) جو حیاانسان کو گناہوں سے روک دے وہ تقویٰ اور پرہیزگاری کی اصل ہے۔
(6) حیا کی کمی بدبختی کی علامت ہے ۔
(7)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبندے سے حیافرماتاہے مگر بندہ گناہ کرتے ہوئے اپنے کریم رب سے حیا نہیں کرتا۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں شرم وحیا عطاکرے اور گناہوں سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 681