باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 681
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْاَنْصَارِ وَهُوَ يَعِظُ اَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:دَعْهُ فَاِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْاِيْمَانِ.
عن ابن عمر رضي الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على رجل من الانصار وهو يعظ اخاه في الحياء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:دعه فان الحياء من الايمان.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَا ابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک انصاری کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں نصیحت کررہا تھا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:” اسےچھوڑ دوبے شک حیا ایمان سے ہے ۔“
شرح حدیث
حیا کا فرض،مستحب اور مباح ہونا:نزہۃ القاری میں ہے:”حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایک انصاری کے بھائی بہت شرمیلے تھے اُن کے بھائی اُن کو سمجھارہے تھے کہ حیا مت کرو، اتفاق سے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکا وہاں سے گزر ہواتو فرمایا: ’’اسے اپنے حال پر چھوڑ دو ،حیا ایمان سے ہے۔‘‘یعنی ایمان کے آثار میں سے ہے۔حیا کبھی واجب وفرض ہوتی ہے جیسے کسی ناجائز وحرام کے ارتکاب سے حیا،کبھی مندوب جیسے مکروہ سے بچنے میں حیا،کبھی مباح کسی مباح شرعی کے کرنے سےحیا۔“ایمان کی نشانی:علامہ سید محموداحمدرضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حیا ایمان کی نشانی ہے جیسے ایمان معاصی سے روکتا ہے اسی طرح حیا بھی روکتی ہے۔حیا دراصل اس کیفیت کا نام ہے جو انسان میں اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ اسے اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ کوئی اسے عیب لگائے گا یا اس کی مذمت کرے گا اورترک فعل حیا کے لوازم سے ہے ۔غالباً اس لئے بعض علما نے ترک فعل کا نام حیا رکھا ہے ۔سلیم طبیعتیں اُس کام کے کرنے میں حیا کرتی ہیں جو قبیح(بُرے) ہوتے ہیں۔لیکن جاہل لوگ نیک کاموں کے کرنے میں بھی حیا کرتے ہیں اور اب تو زمانے کا یہ عالَم ہے کہ لوگ نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے میں حیا کرنے لگ گئے ہیں ۔بہرحال جس حیا کو علامت اِیمان قرار دیا گیا ہے وہ وہی حیا ہے جو آدمی کو بُرائیوں کے اختیار کرنے سے روکے ۔مومن حق کہنے اور حق پر چلنے میں حیا نہیں کرتا ۔“تقویٰ کی اصل:مرآۃ المناجیح میں ہے:” جو حیا گناہوں سے روک دے وہ تقویٰ کی اصل ہے اور جو غیرت و حَیااللّٰہکے مقبول بندوں کی ہیبت دل میں پیدا کردے وہ ایمان کا رُکن اعلیٰ ہے اور جو حَیا نیک اَعمال سے روک دے وہ بُری ہے،یہاں پہلے یا دوسرے درجہ کی حَیا مراد ہے۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حیاایک طبعی شے ہےپھربھی اسے ایمان کا جز اس لئے کہا گیا کہ دیگر نیک اعمال کی طرح کبھی اس کے حصول کے لئے کوشش کی جاتی ہے اور بتکلف اسے اپنایا جاتا ہے اورکبھی یہ فطری ہوتی ہے لیکن پھر بھی اسے شریعت کے مطابق استعمال کرنے کے لئے نیت ،علم اور کسب کی حاجت ہوتی ہے اس لئے اسے ایمان کا جزقرار دیا گیا اور اس لئےبھی کہ حیا بندےکونیک اَعمال پر اُبھارتی ہے اورگناہوں سے روکتی ہے۔“حیا کےمتعلق بزرگانِ دِین کے اَقوال:*حضرت سَیِّدُنَا مخلدرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : کسی دانا کاقول ہےکہ تم ان لوگوں کی مجلس میں بیٹھ کر حَیاکو زندہ رکھو جن سےحَیا کی جاتی ہے۔*حضرت سَیِّدُنَا ابنِ عطاءرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : علم اکبرہیبت وحیا ہے اورجب ہیبت وحیا نہ رہے تو اس علم میں خیر باقی نہیں رہتی۔*حضرت سَیِّدُنَا سَری سَقطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:حیا اور اُنس دل کے دروازے پردستک دیتےہیں،اگر اس میں زُہد وتقویٰ پاتےہیں تو وہاں ٹھہر جاتےہیں ورنہ واپس چلے جاتے ہیں۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے حیا کرنے کی برکات :*حضرت سَیِّدُنَا ابو سلیمان دارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّفرماتاہے :اے بندے! جب تومجھ سے حیا کرے گاتو میں تیرے عیب لوگوں کےدلوں سے بھلا دوں گا، زمین کے جن حصوں پر تو گناہ کا مرتکب ہواوہاں سےتیرے گناہ مٹا دوں گا،لوح محفوظ سے تیری لغزشیں مٹادوں گااوربروزِ قیامت تجھ پر حساب میں سختی نہ کروں گا۔*حضرت سیدنافضیل بن عیاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَہَّابفرماتے ہیں: بدبختی کی پانچ علامات ہیں:(۱)دل کی سختی(۲)آنکھوں سے آنسو نہ بہنا(۳) حیا کی کمی(۴)دنیا میں رغبت اور (۵)لمبی امید۔حیا کی اقسام:امام ابو القاسم قشیریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:حیا کی کئی قسمیں ہیں:(1)حیاجنایت:جس طرح حضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامکہ جب ان سے ربّ تعالیٰ نے فرمایا:ہم سے بھاگ رہے ہو ؟تو کہا:نہیں بلکہ تجھ سے حیا کررہا ہوں۔(2)حیاتقصیر:جس طرح فرشتے کہتے ہیں :تُو پاک ہے ہم نے اس طرح عبادت نہیں کی جس طرح تیری عبادت کا حق ہے۔(3)حیا اجلال(بزرگی کا حیا):جس طرح حضرت اسرافیلعَلَیْہِ السَّلَامکااللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے حیا کرتے ہوئے اپنے پَروں کو خود پر اوڑھ لینا۔(4)حیا کرم: رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے گھر میں کچھ لوگ کھانے کے بعد بیٹھے باتوں میں مصروف تھے حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ان کے بیٹھے رہنے سے تکلیف ہوئی لیکن حیا کی وجہ سے یہ نہ فرمایا کہ چلےجاؤجیساکہ قرآنِ مجید میں ہے:فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍؕ-(پ۲۲،الاحزاب:۵۳) ترجمۂ کنزالایمان:اور جب کھا چکو تو متفرق ہو جاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ۔
(5)حیا حشمت(احترام کا حیا):جس طرح حضرت علیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت مقداد بن اسودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مذی نکلنے کا حکم پوچھیں(آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے خود نہ پوچھا)کیونکہ آپ کے نکاح میں رسول اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صاحبزادی حضرت فاطمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاتھیں۔(6)حیا استحقار:جس طرح حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا:اے ربّ! مجھے دنیا کی جب کوئی حاجت پیش آتی ہے تو (دنیا کی حقارت کےسبب)تجھ سے مانگتے ہوئے شرم آتی ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے فرمایا:مجھ سے مانگو چاہے آٹے کا نمک یا تمہاری بکری کا چارہ ہی کیوں نہ ہو۔(7)حیا انعام:یہ حیائے الٰہی ہے،جب بندہ پل صِراط عبور کرلے گا تو وہ اسے مہر لگا ہوا خط دے گا جس میں لکھا ہوگا:تونے کیا جو کیا لیکن مجھے حیا آتی ہے کہ میں تجھ پر ظاہر کروں ۔جامیں نے تجھے بخش دیا۔مدنی گلدستہ’’شرم وحیا‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) ناجائز وحرام کام کے ارتکاب سے حیا کرنا فرض وواجب ہے۔
(2) حیا ایمان کی نشانی ہے جس طرح ایمان گناہوں سے روکتا ہے اسی طرح حیا بھی روکتی ہے ۔
(3) اچھی اور سلیم طبیعتیں بُرے اور قبیح کاموں سے حیا کرتی ہیں ۔
(4) جوحیا آدمی کو بُرائیوں کے اختیار کرنے سے روکے اسےایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
(5) جو حیاانسان کو گناہوں سے روک دے وہ تقویٰ اور پرہیزگاری کی اصل ہے۔
(6) حیا کی کمی بدبختی کی علامت ہے ۔
(7)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبندے سے حیافرماتاہے مگر بندہ گناہ کرتے ہوئے اپنے کریم رب سے حیا نہیں کرتا۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں شرم وحیا عطاکرے اور گناہوں سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 681