Main Icon

باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 682

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عِمْرانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:الْحَيَاءُ لَا يَاْ تِي اِلَّا بِخَيْرٍ.وَفِی رِوَايَةٍ لِمُسْلِمِ:الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ اَوْ قَالَ:الْحَيَاءُ كُلُّهُ خَيْرٌ.

عن عمران بن حصين رضي الله عنهما قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:الحياء لا يا تي الا بخير.وفی رواية لمسلم:الحياء خير كله او قال:الحياء كله خير.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عمران بن حصینرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مَروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”حَیا بھلائی ہی لاتی ہے۔“مسلم کی ایک روایت میں ہے: ”حَیا خیرہے ساری کی ساری۔‘‘یا فرمایا:”حَیاسب کی سب خیر ہی ہے۔“

شرح حدیث

بھلائی لانے کا مطلب:عمدۃ القاری میں ہے:”حَیا بھلائی ہی لاتی ہے۔“اِس حدیث کا معنیٰ یہ ہے کہ جو اس بات سے حَیا کرتا ہے کہ لوگ اسے گناہ اور کسی حرام کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھیں گے تو کیا کہیں گے تو یہ وصف اسےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے بہت زیاد ہ شرم وحَیا کرنے پر اُبھارے گا اور جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے حَیا کرے گا تو حیا اس کو فرائض ضائع کرنے اور گناہ کرنے سے روکے گی۔یونہی حیا کا بھلائی لانا اس طرح بھی ہے کہ حیا بے حیائی سے منع کرتی ہے، نیکی اورخیر پر ابھارتی ہےجیسے مؤمن کو اس کا ایمان فسق وفجور سے منع کرتا ہے ،گناہوں سے دور رکھتا ہے اور نیک کاموں کی ترغیب دلاتا ہے۔گویا حَیا ایمان کی طرح ہے کیونکہ دونوں نیکی کے حاصل کرنے اور بُرائی کے ترک کرنے میں مساوی ہیں۔اگرچہ حَیا ایک طبعی اور جبلی وصف ہے اور ایمان مومن کا فعل ہے اسی لئے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”حَیا ایمان سے ہے۔“یعنی حَیا ایمان کا سبب اور ایمان والوں کی خصلت ہے۔شرعی حَیا کی حقیقت:مرآۃ المناجیح میں اِس حدیثِ پاک کے تحت ہے:”حضرت جنید بغدادی (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْہَادِی) فرماتے ہیں کہ شرعی حیا کی حقیقت یہ ہے کہ بندہاللّٰہکی نعمتوں اور اپنی کوتاہیوں میں غور کرکے شرمندہ و نادم ہو اس شرمندگی کی بنا پر آیندہ گناہوں سے بچے، نیکیاں کرنے کی کوشش کرے، جو غیرت نیکیوں سے روک دے وہ عجز ہے حیا نہیں۔اس معنیٰ سے یہ حدیث پاک بالکل واضح ہوگئی واقعی یہ حیا تو گویا ایمان ہی ہے خیر ہی ہے۔“چہرے کی ترو تازگی حیا سے ہے:عَلَّامَہ مُحَمَّدعَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں:”حیا سب کی سب خیرہی ہے کیونکہ باحیا شخص کادلاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے والا اورمتواضع ہوتا ہے،اس طرح وہ غرور وتکبر اور دیگر برائیوں سے محفوظ ہوتا ہے۔کہا جاتاہے کہ انسان کاچہرہ اس وقت تک عزت والا رہتاہے جب تک اس کی حیا باقی رہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے چہرے کی ترو تازگی حیا سے ہے جیسا کہ پودے کی زندگی پانی سے ہے۔“بیٹے کوحیا کی نصیحت:ایک بزرگ نے اپنے بیٹے کونصیحت کرتے ہوئےفرمایا: ”جب تیرا نفس تجھے کسی کبیرہ گناہ پر ابھارے توآسمان کی طرف نظر کر کے آسمان والوں سے حیا کرنا ،اگر یہ نہ کرسکے تو زمین کودیکھ کر وہاں موجود اَفراد سےحیا کرنا،اگرتجھے زمین وآسمان کےکسی فرد سے حیا نہ آئے تواپنے آپ کو جانوروں میں شمارکرنا۔‘‘حیا کی علامات:حضرت سَیِّدُنَا ذوالنون مصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں :”حیا کی تین علامات ہیں:(1)بولنے سے پہلے تولنا(2)جس چیز میں معذرت کرنی پڑے اس سے دور رہنا(3)بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے وقوف کی بات کا جواب نہ دینا۔‘‘حیااگرانسانی شکل میں ہوتی۔۔۔اُمّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسےمروی ہےکہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”حیا ایمان سے ہے اورایمان جنت میں لے جائے گا ،اگر حیاانسانی شکل میں ہوتی نیک و صالح مرد کی شکل میں ہوتی۔ “بے حیائی کی مذمت پر3 فرامین مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:(1)جباللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکسی کو ناپسند فرماتاہے تواس سے حیا چھین لیتاہے،جب کسی سے حیا چھن جاتی ہے تو تُواس سے ناپسندیدگی سے ہی ملے گا۔(2)بے شکاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکوشریف،حوصلہ منداورسوال سےبچنے والا انسان پسندہےجبکہ بے حیا،بےہودہ بکواس کرنے والا اور چیخ چیخ کرمانگنے والاپسند نہیں ہے۔ (3)جس چیز میں حیا ہو اسے زینت دیتی ہے اورجس چیز میں بے حیائی ہو اسے عیب دار کردیتی ہے ۔مدنی گلدستہ’’حیاخیرہے‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) حیا میں بھلائی ہی بھلائی ہے کہ یہ انسان کو فرائض ضائع کرنے سے روکتی اور گناہوں سے بچاتی ہے۔
(2) ایسی غیرت جو نیکیوں سے روک دے وہ عجز ہے حیا نہیں۔
(3) جو کسی سے حیا نہ کرے بزرگ اسے انسانوں میں شمار نہیں کرتے۔
(4) باحیا شخص کادل
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے والا اورمتواضع ہوتا ہے۔
(5) انسان کاچہرہ اس وقت تک عزت والا رہتاہے جب تک اس کی شرم وحیا باقی رہے۔
(6)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّجسے ناپسند فرماتاہے اس سے حیا کی نعمت چھین لیتاہے۔
(7) حیا ایمان سے ہے اورایمان جنت میں لے جائے گا۔
(8) حیا باعث زینت اور بے حیائی باعث عیب ہے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں با حیا بنائے اور بے حیائی کے کاموں سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 682