Main Icon

باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 742

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ قَالَ:اَصَابَنَا عَامُ سَنَةٍ مَعَ ابْنِِ الزُّبَيْرِ،فَرُزِقْنَا تَمْرًا،وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بنُ عُمَرَ رَضي اللَّهُ عَنْهُمَا يَمُرُّ بِنَا وَنَحْنُ نَاْكُلُ،فَيَقُوْلُ:لَا تُقَارِنُوا، فَاِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نَهَى عَنِِ الْاِقرَانِ،ثُمَّ يَقُوْلُ اِلَّااَنْ يَسْتَاْذِنَ الرَّجُلُ اَخَاهُ.

عن جبلة بن سحيم قال:اصابنا عام سنة مع ابن الزبير،فرزقنا تمرا،وكان عبد الله بن عمر رضي الله عنهما يمر بنا ونحن ناكل،فيقول:لا تقارنوا، فان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن الاقران،ثم يقول الاان يستاذن الرجل اخاه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناجَبَلَہبنسُحَیْم رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ حضرت ابن زبیررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے زمانے میں ہم قحط سالی کا شکار ہو گئے،تو ہمیں ایک ایک کھجور کھانے کوملتی، ہم کھجوریں کھا رہے تھے کہ حضرت سَیِّدُنَاعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاہمارے پاس سے گزرے اورفرمایا:’’دو دو کھجوریں ملا کر مت کھاؤ!بے شک! نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاس سے منع فرمایاہے،ہاں!کوئی اپنے دوسرے بھائی سے اجازت لے کرکھاسکتاہے۔“

شرح حدیث

مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: یہ حکم قحط سالی کے زمانہ میں ہے یا جب ہے جبکہ چھوارے تھوڑے ہوں کھانے والے زیادہ ہوں اگر یہ دو دو چھوارے کھائے تو دوسرے ساتھی بھوکے رہ جائیں گے،اگر اکیلا کھارہا ہے یا کھانے میں وُسعت ہے تو چاہے چار چار کھائےیہ بھی خیال رہے کہ یہ ممانعت جب ہے جب کہ کھانا مشترکہ ہو یا کسی کے گھر سب کی دعوت ہو اوراگر کھانا اس کا اپنا ہے جیسے چاہے کھائے۔اس حدیث سے ساتھ کھانے سے بہت سے حکم نکل سکتے ہیں، اگر چند شخصوں نے مل کر ہانڈی پکائی ہے اور ساتھ ہی کھارہے ہیں تو ہرشخص دوسروں کا خیال رکھ کر بوٹیاں کھائے۔مدنی گلدستہ’’حسنین‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذ کو ر اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھو ل
(5) کھانے کا ایک ادب یہ ہےکہ دورانِ طعام اس عمل سے بچا جائے جو دوسروں کے لئے باعِثِ تکلیف ہو۔
(6) کسی کے ہاں دعوت پر جائیں توحرص و طمع سے بچتے ہوئے ایثار و خیر خواہی والا انداز اختیار کیاجائے۔
(7) جب مشترکہ کھانے میں کوئی ایسی چیز ہو جو ایک ایک کر کے کھائی جاتی ہے جیسے کھجوریں وغیرہ تو شرکا سے اجازت لئے بغیر ایک ساتھ دو دو ملا کرنہ کھائے۔
(8) اپنی کھجوریں دو دو تین تین ملا کر جس طرح چاہیں کھا سکتے ہیں مگر دوسرے بھی ساتھ ہوں تو ادب کاتقاضا یہی ہےکہ ایک ایک ہی کھائی جائے۔
(9) اسلام کے اَحکامات پر عمل کرنے والا دنیا وآخرت میں کامیاب ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں حرص سے بچنے اور ایثار و خیرخواہی اپنانے کی توفیق عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 742