- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 6
حضرت سَیِّدُناجَبَلَہبنسُحَیْم رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ حضرت ابن زبیررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے زمانے میں ہم قحط سالی کا شکار ہو گئے،تو ہمیں ایک ایک کھجور کھانے کوملتی، ہم کھجوریں کھا رہے تھے کہ حضرت سَیِّدُنَاعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاہمارے پاس سے گزرے اورفرمایا:’’دو دو کھجوریں ملا کر مت کھاؤ!بے شک! نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاس سے منع فرمایاہے،ہاں!کوئی اپنے دوسرے بھائی سے اجازت لے کرکھاسکتاہے۔“
عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ قَالَ:اَصَابَنَا عَامُ سَنَةٍ مَعَ ابْنِِ الزُّبَيْرِ،فَرُزِقْنَا تَمْرًا،وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بنُ عُمَرَ رَضي اللَّهُ عَنْهُمَا يَمُرُّ بِنَا وَنَحْنُ نَاْكُلُ،فَيَقُوْلُ:لَا تُقَارِنُوا، فَاِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نَهَى عَنِِ الْاِقرَانِ،ثُمَّ يَقُوْلُ اِلَّااَنْ يَسْتَاْذِنَ الرَّجُلُ اَخَاهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 742 ، باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان