Main Icon

باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 851

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:جَاءَرَجُلٌ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَرَدَّ عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:”عَشْرٌ“ ثُمَّ جَاءَ اٰخَرُ فَقَالَ:اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ فَجَلَسَ فَقَالَ:”عِشْرُونَ“ثُمَّ جَاءَ اٰخَرُ فَقَالَ:اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ الله وَبَركَاتُهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ فَجَلَسَ فَقَالَ:”ثَلَا ثُوْنَ“.

عن عمران بن الحصين رضي الله عنهما قال:جاءرجل الى النبي صلی اللہ علیہ وسلم فقال: السلام عليكم فرد عليه ثم جلس فقال النبي صلی اللہ علیہ وسلم:”عشر“ ثم جاء اخر فقال:السلام عليكم ورحمة الله فرد عليه فجلس فقال:”عشرون“ثم جاء اخر فقال:السلام عليكم ورحمة الله وبركاته فرد عليه فجلس فقال:”ثلا ثون“.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عمران بن حُصَینرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں: ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضرہو کرعرض کی :اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے سلام کاجواب دیا، پھروہ بیٹھ گیاتوآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:”دس نیکیاں۔“پھر ایک اورشخص آیا اورعرض کی: ”اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ۔“آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جواب دیاتو وہ بھی بیٹھ گیا۔ارشاد ہوا: ”بیس نیکیاں۔“پھرایک اور شخص آیا اور عرض کی:”اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ الله وَبَركَاتُهُ۔“آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جواب دیا تووہ بھی بیٹھ گیا۔فرمایا:”تیس نیکیاں۔“

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ اگرمخاطب ایک ہوجب بھی بہتر یہ ہے کہ جمع کی ضمیرلائی جائے اور”ا َلسَّلَا مُ عَلَيْكُمْ“ کہا جائے کیونکہ اِس میں تعظیم زیادہ ہے اور اس طرح فرشتوں کو بھی سلام کی نیت کی جاسکتی ہے ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ سلام کے الفاظ جتنے زیادہ ہونگے اتنا ہی ثواب بھی زیادہ ہوگا۔ صرف’’ا َلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ‘‘ کہا تو دس نیکیاں ملیں گی کیونکہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا ملتاہے ۔اگر اس پراضافہ کیا اور”اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ“ کہا توبیس نیکیاں ملیں گی،مزید اضافہ کیا اور’’اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ الله وَبَركَاتُهُ‘‘ کہا توتیس نیکیاں ملیں گی۔جواب دینے والے کوبھی چاہیے کہ کچھ الفاظ بڑھا کر جواب دے یعنی ”اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ“کے جواب میں”وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ“کہے اور’’اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ الله‘‘ کا جواب”وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ وَبَرَکَاتُہُ“ کہہ کر دےاور”اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ الله وَبَركَاتُهُ“کے جواب میں’’وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ وَبَرَکَاتُہُ‘‘ہی کہے اوران الفاظ سے زیادہ کچھ بھی نہ بڑھائے۔سلام کے مفہوم میں عمومیت:علامہ سید محموداحمدرضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حضورِاَقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دوستی اور پُرخُلوص تعلقات کے فروغ کے لیےجن کثیر آداب و مَراسِم کی ترغیب دی ہے ان میں ایک ’’سلام‘‘ بھی ہے۔اگرچہ دیگر اقوام میں بھی یہ طریقہ رائج ہے کہ جب دو اَشخاص ملتے ہیں یا ایک دوسرے کے گھر جاتے ہیں تو کسی اور گفتگوسےقبل کوئی لفظ یا فقرہ ایسا کہتے ہیں جودوستی اورتعارُف کوپیدا کرتا ہےلیکن لفظ ”سلام“کے مفہوم میں ہر طرح کی خیر و برکت، مسرت و راحت داخل ہے۔ اس میں نہ وقت کی قید ہے نہ زمانے کی۔”اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ“ کہہ کر گویا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے حق میں بطورِدعا بہترین جذبات و خواہشات کا اظہار کرتا ہے۔اور اس کے ذیل میں دِین و دُنیا کی تمام راحتیں اور برکتیں آجاتی ہیں۔ الغرض اسلام کے ”سلام“میں جو وُسعت و عُمومیت ہے وہ دنیا کے کسی ضابطۂ تہذیب و نظامِ تمدن کے مقرر کردہ الفاظ میں نہیں ہے۔“مدنی گلدستہ’’سلام ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) سلام کے الفاظ جتنے زیادہ ہوں گے نیکیاں بھی اتنی ہی بڑھ جائیں گی ۔
(2) دوستی اورپُرخُلوص تعلقات کے فَروغ کاایک اہم ذریعہ ایک دوسرے کو سلام کرنا بھی ہے ۔
(3) سلام کے مفہوم میں ہر طرح کی خیر و برکت داخل ہےاور اس میں وقت اور زمانے کی قید بھی نہیں۔
(4) جب کوئی مسلمان اپنے بھائی کو”
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ“کہتا ہے تو گویا اس کے حق میں بطورِدعا بہترین جذبات و خواہشات کا اظہار کرتا ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں زیادہ الفاظ کے ساتھ سلام کرنے اور اس کا جواب دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 851