Main Icon

باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 853

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبيَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ كَانَ اِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ اَعَادَهَا ثَلَاثًا حَتّٰى تُفْهَمَ عَنْهُ وَ اِذَااَتَى عَلٰی قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلَا ثاً.

عن انس رضي الله عنه ان النبي صلی اللہ علیہ وسلم كان اذا تكلم بكلمة اعادها ثلاثا حتى تفهم عنه و اذااتى علی قوم فسلم عليهم سلم عليهم ثلا ثا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا اَنسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب کلام کرتے تو اسے تین مرتبہ دہراتے یہاں تک کہ وہ کلام سمجھ لیا جاتااورجب کسی قوم کے پاس تشریف لے جاتےتو انہیں تین مرتبہ سلام کرتے ۔

شرح حدیث

فرمانِ عالی کے اِعادہ کی وجہ:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاتین مرتبہ سلام اور کلا م کرنا اس لئے ہوتا تاکہ سنانے اورسمجھانے میں مبالغہ ہو۔قرآنِ کریم میں بھی اس کی مثال موجود ہےکہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے قصص و اَخبار، اوامرونہی کو مکرر بیان فرمایا تاکہ بندے سمجھ جائیں۔ اگر سننے والے نے پہلی مرتبہ نہ سمجھا ہو تو دوسری اورتیسری بار میں سمجھ لے۔ ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی کہ تکرار سے کلا م دلوں میں راسخ ہوجا تا ہے کیونکہ جو چیز باربار دُہرائی جائے وہ یاد ہوجاتی ہے ۔فیض القدیرمیں ہے:”آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرمانِ عالی اس لئے دُہراتے تاکہ وہ اَفرادبھی سمجھ کر ذہن نشین کر لیں جنہیں بات دیر سے سمجھ آتی ہے یا پھر کلام سےاِشکال و شبہ دور کرنے کے لئے اپنی بات دہراتے اور یہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شفقت،حُسنِ تعلیم اوراُمَّت سے شدید خیر خواہی ہے۔ علامہ ابنِ تینعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْمُبِیْننے فرمایا:کسی بات کو تین مرتبہ دُہرانایہ اِقرار اور بیان کی انتہاہے ۔تین مرتبہ سلام کرنے کی وضاحت:نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب کسی قوم کے پاس تشریف لے جاتےتوانہیں تین مرتبہ سلام کرتے۔امام کرمانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں: اس کامطلب یہ ہے کہ جب آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی قوم کے پاس جاتے تو سلام کرتے۔ پہلاسلاماِسْتِئْذَانیعنی اجازت کے لئے ہوتااور جب ان میں بیٹھ جاتے توسلام کرتے۔یہ دوسرا سلام تحیت یعنی ملاقات کا سلام ہوتا پھرجب واپسی کا ارادہ فرماتے توسلام کرتے۔یہ تیسرا سلام وَداع یعنی رخصت کا ہوتا۔یہ سب سلام مسنون ہیں اورآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس پر مُواظَبت (ہمیشگی)اختیارفرماتے۔علامہ ابنِ حجرعسقلانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:سلام کاتکرار اس وقت ہوتا جب عدمِ سماع کااحتمال ہوتا۔مدنی گلدستہ’’ اجمیر ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) اہم بات کودوتین مرتبہ دُہرا دینا چاہیے تاکہ لوگوں کو اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے ۔
(2) سامنے والے کی ذہنی صلاحیت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے آسان اور معاون اندا ز میں بات سمجھانی چاہیے۔
(3) غلط فہمی سے بچانے کیلئے شبہ یا اِشکال والی بات کو دُہرا کر خوب واضح کردینا چاہیے۔
(4) نیکی کی دعوت دیتے وقت شفقت ومحبت ، نرمی اور خیر خواہی بھرا انداز اخلاص کی علامت ہے۔
(5) اجازت لینے کے لئے سلام کرنا، پھرملاقات کرتے وقت سلام کرنااور واپسی پربھی سلام کرنا تینوں سلام مسنون ہیں ۔پہلے کو سلامِ
اِسْتِئْذَان،دوسرے کو سلامِ تحِیّت اور تیسرےکوسلامِ وَداع کہا جاتا ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ ہمیں اجازت لیتے ،ملاقات کرتےاور رخصت ہوتے وقت سلام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 853