- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 6
حضرت سَیِّدُنا عمران بن حُصَینرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں: ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضرہو کرعرض کی :اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے سلام کاجواب دیا، پھروہ بیٹھ گیاتوآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:”دس نیکیاں۔“پھر ایک اورشخص آیا اورعرض کی: ”اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ۔“آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جواب دیاتو وہ بھی بیٹھ گیا۔ارشاد ہوا: ”بیس نیکیاں۔“پھرایک اور شخص آیا اور عرض کی:”اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ الله وَبَركَاتُهُ۔“آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جواب دیا تووہ بھی بیٹھ گیا۔فرمایا:”تیس نیکیاں۔“
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:جَاءَرَجُلٌ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَرَدَّ عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:”عَشْرٌ“ ثُمَّ جَاءَ اٰخَرُ فَقَالَ:اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ فَجَلَسَ فَقَالَ:”عِشْرُونَ“ثُمَّ جَاءَ اٰخَرُ فَقَالَ:اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ الله وَبَركَاتُهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ فَجَلَسَ فَقَالَ:”ثَلَا ثُوْنَ“.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 851 ، باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
حضرت سَیِّدتُنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے فرمایا:”یہ جبریل (عَلَیْہِ السَّلَام) ہیں جو تجھے سلام کہہ رہے ہیں ۔“ فرماتی ہیں : میں نے عرض کی :وَعَلَيْهِ السَّلَا مُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُیعنی ان پر بھی سلام،اللّٰہکی رحمت اور برکتیں ہوں۔
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:قَالَ لِیْ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: هٰذَا جِبْرِيْلُ يَقْرَاُ عَلَيْكِ السَّلاَمَ قَالَتْ:قُلْتُ:وَعَلَيْهِ السَّلَا مُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 852 ، باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا اَنسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب کلام کرتے تو اسے تین مرتبہ دہراتے یہاں تک کہ وہ کلام سمجھ لیا جاتااورجب کسی قوم کے پاس تشریف لے جاتےتو انہیں تین مرتبہ سلام کرتے ۔
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبيَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ كَانَ اِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ اَعَادَهَا ثَلَاثًا حَتّٰى تُفْهَمَ عَنْهُ وَ اِذَااَتَى عَلٰی قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلَا ثاً.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 853 ، باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا مِقدادرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ایک طویل حدیث میں یہ بھی ہےکہ ہم نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے آپ کے حصے کا دودھ اٹھا کر رکھ دیاکرتے تھے ۔ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یہ عادت مبارکہ تھی کہ جب رات کو(گھر میں) تشریف لاتے تو اس طرح سلام کرتےکہ سونے والابیدار نہ ہوتا اورجاگنے والا سُن لیتا۔پس نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(اسی طرح ایک مرتبہ)تشریف لائے اورمعمول کے مطابق سلام کیا ۔
عَنِ المِقْدَادِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ في حدِيثهِ الطَّوِيْلِ قَالَ:كُنَّا نَرْفَعُ لِلنَّبيِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَصِيْبَهُ مِنَ اللَّبَنِ فَيَجِيْءُمِنَ اللَّيْلِ فَيُسَلِّمُ تَسْلِيمًا لَا يُوْقِظُ نَائِمًاوَيُسْمِعُ الْيَقْظَانَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ كَمَا كَانَ يُسَلِّمُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 854 ، باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
حضرت سَیِّدَتُنا اَسماءبنتِ یزیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجد سے گزرے تو وہاں کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں تو آپ نے اپنے دَستِ اَقدس سے انہیں سلام کااشارہ فرمایا۔اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:اس کامطلب یہ ہے کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سلام کے الفاظ بھی کہے اور دَستِ اَقدس سے اشارہ بھی فرمایا۔ اس کی تائید ابوداود شریف کی اُس راویت سے ہوتی ہے جس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ :”پھر ہمیں سلام کیا ۔“
عَنْ اَسْمَاءَ بِنتِ يَزِ يْدَرَضِيَ اللهُ عَنْهَا:اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمًا وَ عُصْبَةٌ مِنَ النِّسَاءِقُعُوْدٌفَاَ لْوٰى بِيَدِهِ بِالتَّسْلِيْمِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 855 ، باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابوجُرَیْہُجَیْمیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضرہوااور اس طرح سلام کیا:عَلَیْکَ السَّلَامُ یَارَسُوْلَ اللّٰہ(یارسولَ اللّٰہآپ پر سلام ہو)!آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:عَلَیْکَ السَّلَامنہ کہو، کیونکہ یہ مُردوں کا سلام ہے۔
عَنْ اَبِي جُرَيٍّ الْهُجَيْمِيّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:اَتَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ:عَلَيْكَ السَّلَامُ يَارَسُوْلَ الله.قَالَ:لَا تَقُلْ عَلَيْكَ السَّلامُ! فَاِنَّ عَلَيْكَ السَّلاَ مُ تَحِيَّةُ المَوتٰی.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 856 ، باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان