Main Icon

باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 855

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَسْمَاءَ بِنتِ يَزِ يْدَرَضِيَ اللهُ عَنْهَا:اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمًا وَ عُصْبَةٌ مِنَ النِّسَاءِقُعُوْدٌفَاَ لْوٰى بِيَدِهِ بِالتَّسْلِيْمِ.

عن اسماء بنت يز يدرضي الله عنها:ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم مر في المسجد يوما و عصبة من النساءقعودفا لوى بيده بالتسليم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدَتُنا اَسماءبنتِ یزیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجد سے گزرے تو وہاں کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں تو آپ نے اپنے دَستِ اَقدس سے انہیں سلام کااشارہ فرمایا۔اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:اس کامطلب یہ ہے کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سلام کے الفاظ بھی کہے اور دَستِ اَقدس سے اشارہ بھی فرمایا۔ اس کی تائید ابوداود شریف کی اُس راویت سے ہوتی ہے جس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ :”پھر ہمیں سلام کیا ۔“

شرح حدیث

ہاتھ سے سلام کرنے کی ممانعت کا مطلب:سوال:احادیثِ مبارکہ میں تو انگلیوں سے سلام کو یہودیوں کا اور ہتھیلی سے سلام کو نصاریٰ کا طریقہ کہا گیا ہےجبکہ مذکورہ حدیث میں واضح موجود ہے کہ خود شارععَلَیْہِ السَّلَامنے ہاتھ کے اشارے سے سلام فرمایا ؟
جواب :جن احادیث میں ہتھیلیوں اور انگلیوں سے سلام کو یہودو نصاریٰ کا طریقہ بتایا گیا ہے، وہاں مراد فقط ہاتھ کے اشارےسے سلام کرنا ہے اس طرح کہ زبان سے سلا م کے الفاظ ادا نہیں کئے جائیں جبکہ یہاں ایسا معاملہ نہ تھا بلکہ نبی مکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے زبانِ اَقدس سے بھی سلام کے الفاظ کہے اور ہاتھ سے اشارہ بھی فرمایا۔چنانچہ دلیل الفالحین میں ہے:”آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مناسب آواز سے سلام کے الفاظ کہےلیکن فاصلہ زیادہ تھا ، آواز ان عورتوں تک نہ پہنچ سکتی تھی اس لئےسلام کا اظہار کرنے کے لئے دستِ اقدس سے بھی اشارہ فرمایا۔“اجنبی عورتوں کوسلام کر نا:اجنبی عورتوں کوسلام کر نا نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ خاص ہے کیونکہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ اَقدس ہر قسم کے فتنےسے بالاتر ہے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے علاوہ کسی مرد کاغیر محرم عورت یا کسی عورت کا غیر محرم مرد کو سلام کرنا مکروہ ہے ۔ہاں جو عورت ایسی عمر کو پہنچ گئی کہ فتنے کاڈر نہیں تو اسے سلام کیاجاسکتا ہے۔مِرآۃ المناجیح میں ہے:”اجنبی عورتوں کو سلام کرنا حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے لیے خاص ہے کہ وہاں فتنے کا خطرہ نہیں۔دوسرے مسلمان اجنبی عورتوں خصوصاً جوان عورتوں کو ہرگز سلام نہ کریں نہ ان کے سلام کا جواب دیں کہ یہ سلام عشق بلکہ بدکاری کی ابتدا بن سکتا ہے۔“مدنی گلدستہ’’سلام‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) دوروالے شخص کوہاتھ کے اشارے سے سلام کرنا جائز ہے جبکہ سلام کے الفاظ بھی ادا کئے جائیں ۔
(2) اجنبی مرد غیرمحرم عورت کو سلام نہیں کرسکتا اسی طرح عورت غیر محرم شخص کو نہ سلام کرے نہ بلند آواز سے اس کے سلام کا جواب دے ۔
(3) غیر محرم بوڑھی عورت جس سے فتنے کا خوف نہ ہو اسے سلام کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔
(4) غیر محر م مَردوعورت کا آپس میں بِلاضرورت گفتگوکرنا برائیوں کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں غیر محرم عورتوں سے گفتگو کرنے اور انہیں سلام کرنے سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 855