Main Icon

باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1071

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ فَكَاَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ وَ مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ في جَمَاعَةٍ فَكَاَنَّمَا صَلَّى اللَّيْلَ كُلَّهُ. وَ فِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِي عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ: مَنْ شَهِدَ الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ لَهُ قِيَامُ نِصْفِ لَيلَةٍ وَ مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ وَالفَجْرَ فِی جَمَاعَةٍ كَانَ لَهُ كَقِيَامِ لَيْلَةٍ.

عن عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ قال: سمعت رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم يقول: من صلى العشاء في جماعة فكانما قام نصف الليل و من صلى الصبح في جماعة فكانما صلى الليل كله. و في رواية الترمذي عن عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول الله صلی اﷲ علیہ و سلم: من شهد العشاء في جماعة كان له قيام نصف ليلة و من صلى العشاء والفجر فی جماعة كان له كقيام ليلة.

حدیث ترجمہ

امیرالمومنین حضرت سیدناعثمانِ غنیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ میں نے حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا:”جس نے عشا کی نماز جماعت سے ادا کی تو گویا آدھی رات عبادت میں گز اری اورجس نے فجر کی نماز باجماعت ادا کی تو گویا پوری رات عبادت میں گزار ی۔ ترمذی کی ایک روایت میں یوں ہے:”جس نےعشا کی نماز باجماعت ادا کی اس کے لئےآدھی رات عبادت کرنے کا ثواب ہے اور جس نے فجرو عشا کی نماز باجماعت ادا کی اس کےلئے پوری رات قیام کرنےکی طرح ثواب ہے۔‘‘

شرح حدیث

حدیثِ مذکور میں فجر وعشا کی نماز باجماعت ادا کرنے کی فضیلت بیان کی گئی کہ جو عشا کی نماز جماعت سے ادا کرے تواسےاتنا ثواب ملتا ہے جیسے آدھی رات عبادت میں بسر کی ہواور جو فجر کی نماز جماعت سے پڑھ لے تو گویا اس نے ساری رات عبادتِ الٰہی میں گزاری۔کسی عاقل کو ایسی فضیلتوں سے کبھی محروم نہیں رہنا چاہیے،جوشخص ایسےشان والےعمل کو چھوڑے تو وہ اپنی غفلت پر خون کے آنسو روئے۔دلیل الفالحین میں ہے :”اس فضیلت میں قلیل وکثیر جماعت ،امام و مقتدی، زیادہ اور کم مرتبے والے سب شامل ہیں۔ یعنی جس نے بھی عشا کی نمازجماعت سےادا کی گویاآدھی رات قیام کیااورجس نے فجرکی نمازباجماعت ادا کی گویا پوری رات قیام کیا۔حدیث پاک کے ظاہر سے یہ سمجھ آتا ہےکہ جس نے یہ دونوں نمازیں باجماعت ادا کیں اسے پوری رات عبادت کرنے کاثواب ملے گا،آدھاعشا کی وجہ سے اور آدھا فجر کی وجہ سے۔ یہ مراد نہیں کہ جوفجرجماعت سےپڑھ لےاگرچہ عشاباجماعت ادا نہ کی ہو پھربھی اسے پوری رات عبادت کا ثواب ملے۔“
مرآۃ المناجیح میں ہے:”اس کے دومطلب ہو سکتے ہیں:ایک یہ کہ عشاکی باجماعت نماز کا ثواب آدھی رات کی عبادت کے برابر ہے اورفجرکی باجماعت نمازکا ثواب باقی آدھی رات کی عبادت کے برابر،تو جو یہ دونوں نمازیں جماعت سے پڑھ لے اسے ساری رات عبادت کاثواب۔دوسرے یہ کہ عشاکی جماعت کا ثواب آدھی رات کے برابرہے اورفجرکی جماعت کا ثواب ساری رات عبادت کے برابر کیونکہ یہ جماعت عشا کی جماعت سے زیادہ بھاری ہے،پہلے معنیٰ زیادہ قوی ہیں۔‘‘
فجر و عشا کی فضیلت پرفرامینِ مصطفےٰصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:(1)”جس نے عشا کی نَماز باجماعت ادا کی اس نے شبِ قدر میں سے اپنا حصہ پالیا۔“(2)” جو فجر کی نَماز باجماعت ادا کرتا ہے وہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی امان میں ہوتا ہے۔“(3)”جو صبح کے وقت فجر کی نَماز کے لئے چلا وہ ایمان کا جھنڈا لے کرچلااورجو( نماز اداکئےبغیر ) بازار کی طرف چلا وہ شیطان کا جھنڈا لے کر چلا۔“رات بھرعبادت سے بہتر:امیر المومنین حضرتِ سیدناعمر بن خطابرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے ایک دن فجرکی نَماز میں حضرت سیدنا سلیمان بن ابو حثمہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکونہ پایا،سبب دریافت کرنے پر پتا چلا کہ وہ ساری رات عبادت کرتے رہےاورصبح کو آنکھ لگ گئی۔اس پرآپرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:” فجر کی نَماز باجماعت ادا کرنا میرے نزدیک ساری رات عبادت کرنے سے بہتر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1071