Main Icon

باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1073

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لَيْسَ صَلَاةٌ اَثْقَلَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَ الْعِشَاءِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيْهِمَا لَاَ تَوْ هُمَا وَ لَوْ حَبْواً.

عن ابي هريرة رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم:ليس صلاة اثقل على المنافقين من صلاة الفجر و العشاء ولو يعلمون ما فيهما لا تو هما و لو حبوا.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”منافقوں پر فجر و عشا سےزیادہ بھاری کوئی نماز نہیں ،اگر وہ جانتے کہ ان میں کتنا ثواب ہےتوگھسٹتے ہوئے بھی نماز کے لئے آتے۔“

شرح حدیث

منافقین پر فجر وعشاکیوں بھاری ہیں؟دلیل الفالحین میں ہے:”منا فقین پرفجروعشا سے زیادہ کوئی نماز گِراں نہیں ،چاہے جماعت کے ساتھ ہویااکیلے،اس کی وجہ یہ ہےکہ فجرکے وقت موسم خوشگوار اور نیند پُرسکون ہوتی ہے،اور عشا کے وقت نیند کا غلبہ ہوتاہے، دن بھر کام کاج سے تھکا ہارا جسم اس وقت آرام چاہتاہے،منافقین چونکہاﷲ عَزَّ وَجَلَّپرایمان ہی نہیں رکھتے اس لئےان کی نمازیں صرف دِکھاوے کے لئے ہوتی ہیں، مگر یہ دونوں نمازیں اندھیرے میں پڑھی جاتی ہیں اس لئے ان کاباقی تین نمازوں کی طرح جماعت کے ساتھ دکھاوے والامقصد پورا نہیں ہوتا اور ساتھ ساتھ نیند میں بھی خلل پڑتاہے، اس لئے یہ دو نمازیں ان پر بہت گِراں ہوتی ہیں ، جبکہ مومنین کامعاملہ اس کے برعکس ہے اگرچہ یہ دونوں نمازیں اپنے اوقات کےلحاظ سے گِراں ضرورہیں مگر اِن پر ملنے والا اجر وثواب مومن سے مشقت و اَلَم دور کردیتا ہے، اس لئےان پر یہ نماز گِراں نہیں ہوتیں۔“عَلَّامَہ اِبْنِ دَقِیْقُ العِیْد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْمَجِیْدفرماتے ہیں :”یہ دونمازیں منافقین پر سب نمازوں سے زیادہ گِراں ہیں کیونکہ ان اوقات میں ترکِ جماعت پراُبھارنے والے اَسباب قوی ہوتے ہیں،عشا کےوقت کافی اندھیراچھاجاتاہے،یہ وقت گھروں میں قیام کرنے،اہل وعیال کےساتھ مل بیٹھنے اور دن بھرکی محنت و مشقت کے بعد آرام کرنے کاوقت ہوتا ہے اور فجرکا وقت پُرسکون نیند کا وقت ہوتاہے،یہ ایسے اُمورہیں جومنافقین کوجماعت میں حاضری سے روکتےہیں، جبکہ مومنِ کامل جانتا ہے کہ نیک عمل کی ادائیگی میں جتنی زیادہ مشقت ہوگی اجربھی اتنا ہی زیادہ ہوگا، اس لئے یہ اُمُور اسے جماعت سے روکنے کے بجائےاس کی طرف راغب کرتے ہیں،اسی لئے نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ اگر لوگ ان نمازوں پرملنے والے اجر و ثواب کو جان لیتےتوضرورگھٹنوں کے بل چل کر آتے۔“ اور مومن اس اجر وثواب کو جانتے ہیں اس لئے ہر حال میں نمازوں کی ادائیگی کی کوشش کرتے ہیں ۔“عشق واِخلاص مشکلات کو آسان کردیتےہیں:مرآۃ المناجیح میں ہے:”منافق صر ف دکھلاوے کے لئے نمازپڑھتے ہیں اور وقتوں میں تو خیر جیسے تیسے پڑھ لیتے ہیں مگر عشا کے وقت نیند کا غلبہ،فجرکے وقت نیند کی لذت انہیں مست کردیتی ہے۔اِخلاص وعشق تمام مشکلوں کو حل کرتے ہیں وہ ان میں ہے نہیں،لہٰذایہ دونمازیں انہیں بہت گراں ہیں۔اِس سے معلوم ہوا کہ جومسلمان اِن دونمازوں میں سُستی کرے وہ منافقوں کے سے کام کرتا ہے۔“مدنی گلدستہ’’ پنجتن پاک ‘‘کی نسبت سے احادیثِ مذکور ہ اور اُن کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جس نے فجر وعشا کی نماز باجماعت اد ا کی اسے ساری رات عبادت کرنے کاثواب ملے گا۔
(2) منافقین رضائے اِلٰہی کے لئے نہیں بلکہ دِکھاوے کے لئے نیک اعمال کرتے ہیں اسی لئے ان پر ہر وہ نیک عمل گراں ہوتا ہے جس میں دکھاوے کا موقع نہ ملے۔
(3) مومنِ کامل کامقصودِاصلی رضائےاِلٰہی کا حصول ہوتاہے اس لئے اس پرمشکل ترین عبادات بھی آسان ہوجاتی ہیں ۔
(4) عبادت کے لئےراحت و آرام قربان کرناایمان کی پختگی کی علامت ہے ۔
(5) کسی بھی نماز میں سُستی نہیں کرنی چاہیے بالخصوص فجر وعشاءمیں تو بہت زیادہ احتیاط کرنی چاہیے کہ ان دونمازں میں سُستی کومنافقین کاطریقہ کہا گیاہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں پانچوں نمازیں بالخصوص فجروعشا باجماعت ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1073