- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- حدیث نمبر 663
باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 663
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عُمَرَرَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِـمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيْمَا اَحَبَّ وَكَرِهَ اِلَّا اَنْ يُّؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ فَاِذَااُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَاطَاعَةَ.
عن ابن عمررضي الله عنهما عن النبي صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قال:على المرء المسلـم السمع والطاعة فيما احب وكره الا ان يؤمر بمعصية فاذاامر بمعصية فلا سمع ولاطاعة.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حُضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”ہرمسلمان پر(حاکم کا حکم)سننا اوراس کی اطاعت کرنا لازم ہے چاہے اسے وہ حکم پسند ہو یا نہ پسند، سوائے گناہ کے حکم کے کہ جب گناہ کا حکم دیا جائے تو اسے نہ سننا لازم ہے اور نہ ہی اس کی اطاعت کرنا لازم۔‘‘
شرح حدیث
حکمرانوں کی اطاعت کا حکم:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ مذکور میں حکمرانوں کی اطاعت کاحکم دیا گیا ہے ۔ ان کاحکم اگر کسی وجہ سے ناپسند ہو مگر ناجائز نہ ہو تو اسےماننے ہی میں دنیا وآخرت کی بھلائی ہے کیونکہ نہ ماننے کی صورت میں شریعت کی نافرمانی کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو سزا یاذلت ورُسوائی کے لئے بھی پیش کرنا ہے۔ لہٰذا عقلمند کو چاہیے کہ حکام کا ہروہ حکم جو شریعت کے خلاف نہ ہو بقدرِاستطاعت اسے ضرور بجا لائے ۔ ہاں خلافِ شرع حکم ہرگز نہ مانا جائے، مگر اس صورت میں بھی ان سے بغاوت کی اجازت نہیں کہ بغاوت بہت بڑے فتنے کا پیش خیمہ ہے ۔حاکم اِسلام سے بغاوت کی اجازت نہیں:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”حاکمِ اسلام کا کلام سننا اوراس کی اطاعت کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے ، چاہے وہ حکم طبیعت کے موافق ہو یا نہ ہو لیکن یہ اس وقت ہے جب وہ کسی گناہ کاحکم نہ دے،اگر گناہ کاحکم دے تو اس کی اطاعت ہر گزجائز نہیں، مگر اس صورت میں بھی اس سے جنگ کرنا جائز نہیں۔“عمدۃ القاری میں ہے:”قاضی عیاضرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا کہ علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جائز کام میں حاکم کی اطاعت وفرمانبرداری واجب ہے اور ناجائز کام میں حرام ہے۔اس حدیث سے خارجیوں نے استدلال کیا کہ ظالم حاکم کی اطاعت لازم نہیں اس کے خلاف بغاوت کرنا ضروری ہے لیکن اکثر علما یہ کہتے ہیں جب ظالم حاکم کی حکومت قائم ہوجائے اور لوگوں کا معاملہ اس کے سپرد ہوجائے تو اس کے خلاف عَلَمِ بغاوت بلند کرنا جائز نہیں اور نہ ہی اس کی بیعت کو مسترد کرنا جائز ہے البتہ اگر ظالم حاکم سے کفر سرزد ہو یا وہ نماز قائم نہ کرے تو اس کے خلاف بغاوت کرنا اور اس کی اطاعت سے ہاتھ کھینچنا جائز ہےاور اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو پھر کسی اور گناہ یا ظلم کے سبب اس کے خلاف بغاوت نہ کی جائےکیونکہ بغاوت نہ کرنے کی صورت میں عورتوں کی عِصمت، مال واَسباب اور لوگوں کی جان کی حفاظت ہے بغاوت کرنے سے اسلامی شان وشوکت میں کمی ہوگی لہٰذا ظالم حاکم کےخلاف جنگ جائز نہیں۔عَلَّامَہ اَبُوْ عَبْد اللّٰہ مُحَمَّد بِنْ اَحْمَد قُرْطُبِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حاکم اگر کسی جائز کام کا حکم دے تو اس کی اطاعت واجب ہے اور ناجائز کام کا حکم دے توہر گز اس کی اطاعت نہ کی جائے۔ پھر اگروہ ناجائز کام کفرہو تو مسلمانوں پراس حاکم کومعزول کر دیناواجب ہے۔اسی طرح اگروہ دِین کے کسی رکن کا اہتمام نہ کرائے،مثلا ً نماز،رمضان کے روزے اورحدودِ شرعیہ کا نفاذ ترک کردے یا ان سے منع کرے یا شراب وزنا کو جائز قرار دے یا ان سے منع نہ کرے تب بھی اسے معزول کیا جائے گا۔اور اگر وہ دِین میں کوئی بُرا کام رائج کرے اور لوگوں کو اس کی طرف بلائے تو جمہور(شوافع)علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامکے نزدیک اسے معزول کیاجائے گا۔او ر بصری(احناف )فقہائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامکے نزدیک اس صور ت میں اسے معزول نہیں کیا جائے گا۔اَحناف کی دلیل یہ حدیث پاک ہے :”سنو اور اطاعت کرو جب تک ایسا کھلا کفر نہ دیکھ لو جس کے بارے میں تمہارے پاساللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے کوئی دلیل موجود ہو۔“اس حدیث میں حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب کاثبوت ہے اگرچہ وہ بدعتی ہی کیوں نہ ہوں۔بہر حال جب وہ کسی معصیت مثلا ً کسی کا مال نا حق چھیننے، کسی کو ناحق قتل کرنے یا مارنے کاحکم دیں توایسے معاملات میں ہرگز ان کی اطاعت نہ کی جائے۔“
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شریعتِ مُطَہَّرَہ نے حکمرانوں کی اطاعت کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت اور ان کی نافرمانی کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی قرار دیا ہے ۔ جو حکمران شریعت و سنت کے مطابق اَحکام جاری کریں اور خود بھی پابند شریعت ہوں انہیں ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی رضا کا مژدہ سنا یا ہے اور جو حکمران شریعت وسنت کی نافرمانی کریں ان کے لئے بہت سخت وعیدیں ہیں۔ چنانچہ،¥ حکام کی اِطاعت ، ربّ تعالیٰ کی اِطاعت:حضورنبی کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو ان کی مخالفت نہ کرو۔ان کی اطاعت میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت اوران کی نافرمانی میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے اس لئے مبعوث فرمایاہےتاکہ میں لوگوں کو حکمت وبصیرت اوراچھی نصیحت کے ساتھ اس کے راستے کی طرف بلاؤں۔لہٰذا جومیرے اس کام میں میرا جانشین ہوا وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اورجس نے اس معاملے میں میری مخالفت کی وہ ہلاک ہونے والوں میں ہےاوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذمہ سے بری ہےاورجوتمہاری حکومت کی کوئی ذمہ داری سنبھالے پھر اس میں میری سنت کے خلاف عمل کرے تواس پراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس کے ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔مدنی گلدستہ’’اِطاعت کرو‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) حکمرانوں کی بات سننا اور بقدرِ استطاعت اطاعت کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔
(2) ناجائز اور گناہ والے کاموں میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ۔
(3) حکمرانوں کا جو حکم شریعت کے خلاف نہ ہومگر کسی وجہ سے نفس پر گِراں ہو تب بھی اسے مان لینے ہی میں دنیا وآخرت کی بھلائی ہے۔
(4) عقلمند شخص ہر اس کام سے بچتا ہے جس میں اپنے آپ کو ذلت و رُسوائی پر پیش کرنا پڑے۔
(5) پابندِ شریعت حکمرانوں کی اطاعت میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت اور ان کی نافرمانی میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی ہے۔
(6) شریعت و سنت کے مطابق عمل کرنے والا حاکم حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا جانشین ہے اورجوحاکم سنت کی مخالفت کرے اس کے لئے ہلاکت کی وعید ہے ۔(7) ∞شریعت کی مخالفت کرنے والا حاکماللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاوراس کے رسولصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذمہ سے نکل جاتا ہے اورایساحاکماللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ،اس کے فرشتوں اور تما م لوگوں کی لعنت کا مستحق ہے ۔
(8) حکمرانوں کی مخالفت اور ان سے بغاوت بہت بڑے فتنے کا سبب ہے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں نیک اور اچھے پرہیزگار حکمران نصیب کرے اور جائز امور میں ان کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 663