Main Icon

باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 663

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَرَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِـمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيْمَا اَحَبَّ وَكَرِهَ اِلَّا اَنْ يُّؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ فَاِذَااُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَاطَاعَةَ.

عن ابن عمررضي الله عنهما عن النبي صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قال:على المرء المسلـم السمع والطاعة فيما احب وكره الا ان يؤمر بمعصية فاذاامر بمعصية فلا سمع ولاطاعة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حُضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”ہرمسلمان پر(حاکم کا حکم)سننا اوراس کی اطاعت کرنا لازم ہے چاہے اسے وہ حکم پسند ہو یا نہ پسند، سوائے گناہ کے حکم کے کہ جب گناہ کا حکم دیا جائے تو اسے نہ سننا لازم ہے اور نہ ہی اس کی اطاعت کرنا لازم۔‘‘

شرح حدیث

حکمرانوں کی اطاعت کا حکم:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ مذکور میں حکمرانوں کی اطاعت کاحکم دیا گیا ہے ۔ ان کاحکم اگر کسی وجہ سے ناپسند ہو مگر ناجائز نہ ہو تو اسےماننے ہی میں دنیا وآخرت کی بھلائی ہے کیونکہ نہ ماننے کی صورت میں شریعت کی نافرمانی کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو سزا یاذلت ورُسوائی کے لئے بھی پیش کرنا ہے۔ لہٰذا عقلمند کو چاہیے کہ حکام کا ہروہ حکم جو شریعت کے خلاف نہ ہو بقدرِاستطاعت اسے ضرور بجا لائے ۔ ہاں خلافِ شرع حکم ہرگز نہ مانا جائے، مگر اس صورت میں بھی ان سے بغاوت کی اجازت نہیں کہ بغاوت بہت بڑے فتنے کا پیش خیمہ ہے ۔حاکم اِسلام سے بغاوت کی اجازت نہیں:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”حاکمِ اسلام کا کلام سننا اوراس کی اطاعت کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے ، چاہے وہ حکم طبیعت کے موافق ہو یا نہ ہو لیکن یہ اس وقت ہے جب وہ کسی گناہ کاحکم نہ دے،اگر گناہ کاحکم دے تو اس کی اطاعت ہر گزجائز نہیں، مگر اس صورت میں بھی اس سے جنگ کرنا جائز نہیں۔“عمدۃ القاری میں ہے:”قاضی عیاضرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا کہ علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جائز کام میں حاکم کی اطاعت وفرمانبرداری واجب ہے اور ناجائز کام میں حرام ہے۔اس حدیث سے خارجیوں نے استدلال کیا کہ ظالم حاکم کی اطاعت لازم نہیں اس کے خلاف بغاوت کرنا ضروری ہے لیکن اکثر علما یہ کہتے ہیں جب ظالم حاکم کی حکومت قائم ہوجائے اور لوگوں کا معاملہ اس کے سپرد ہوجائے تو اس کے خلاف عَلَمِ بغاوت بلند کرنا جائز نہیں اور نہ ہی اس کی بیعت کو مسترد کرنا جائز ہے البتہ اگر ظالم حاکم سے کفر سرزد ہو یا وہ نماز قائم نہ کرے تو اس کے خلاف بغاوت کرنا اور اس کی اطاعت سے ہاتھ کھینچنا جائز ہےاور اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو پھر کسی اور گناہ یا ظلم کے سبب اس کے خلاف بغاوت نہ کی جائےکیونکہ بغاوت نہ کرنے کی صورت میں عورتوں کی عِصمت، مال واَسباب اور لوگوں کی جان کی حفاظت ہے بغاوت کرنے سے اسلامی شان وشوکت میں کمی ہوگی لہٰذا ظالم حاکم کےخلاف جنگ جائز نہیں۔عَلَّامَہ اَبُوْ عَبْد اللّٰہ مُحَمَّد بِنْ اَحْمَد قُرْطُبِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حاکم اگر کسی جائز کام کا حکم دے تو اس کی اطاعت واجب ہے اور ناجائز کام کا حکم دے توہر گز اس کی اطاعت نہ کی جائے۔ پھر اگروہ ناجائز کام کفرہو تو مسلمانوں پراس حاکم کومعزول کر دیناواجب ہے۔اسی طرح اگروہ دِین کے کسی رکن کا اہتمام نہ کرائے،مثلا ً نماز،رمضان کے روزے اورحدودِ شرعیہ کا نفاذ ترک کردے یا ان سے منع کرے یا شراب وزنا کو جائز قرار دے یا ان سے منع نہ کرے تب بھی اسے معزول کیا جائے گا۔اور اگر وہ دِین میں کوئی بُرا کام رائج کرے اور لوگوں کو اس کی طرف بلائے تو جمہور(شوافع)علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامکے نزدیک اسے معزول کیاجائے گا۔او ر بصری(احناف )فقہائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامکے نزدیک اس صور ت میں اسے معزول نہیں کیا جائے گا۔اَحناف کی دلیل یہ حدیث پاک ہے :”سنو اور اطاعت کرو جب تک ایسا کھلا کفر نہ دیکھ لو جس کے بارے میں تمہارے پاساللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے کوئی دلیل موجود ہو۔“اس حدیث میں حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب کاثبوت ہے اگرچہ وہ بدعتی ہی کیوں نہ ہوں۔بہر حال جب وہ کسی معصیت مثلا ً کسی کا مال نا حق چھیننے، کسی کو ناحق قتل کرنے یا مارنے کاحکم دیں توایسے معاملات میں ہرگز ان کی اطاعت نہ کی جائے۔“
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شریعتِ مُطَہَّرَہ نے حکمرانوں کی اطاعت کو
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت اور ان کی نافرمانی کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی قرار دیا ہے ۔ جو حکمران شریعت و سنت کے مطابق اَحکام جاری کریں اور خود بھی پابند شریعت ہوں انہیں ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی رضا کا مژدہ سنا یا ہے اور جو حکمران شریعت وسنت کی نافرمانی کریں ان کے لئے بہت سخت وعیدیں ہیں۔ چنانچہ،¥ حکام کی اِطاعت ، ربّ تعالیٰ کی اِطاعت:حضورنبی کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو ان کی مخالفت نہ کرو۔ان کی اطاعت میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت اوران کی نافرمانی میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے اس لئے مبعوث فرمایاہےتاکہ میں لوگوں کو حکمت وبصیرت اوراچھی نصیحت کے ساتھ اس کے راستے کی طرف بلاؤں۔لہٰذا جومیرے اس کام میں میرا جانشین ہوا وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اورجس نے اس معاملے میں میری مخالفت کی وہ ہلاک ہونے والوں میں ہےاوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذمہ سے بری ہےاورجوتمہاری حکومت کی کوئی ذمہ داری سنبھالے پھر اس میں میری سنت کے خلاف عمل کرے تواس پراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس کے ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔مدنی گلدستہ’’اِطاعت کرو‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) حکمرانوں کی بات سننا اور بقدرِ استطاعت اطاعت کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔
(2) ناجائز اور گناہ والے کاموں میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ۔
(3) حکمرانوں کا جو حکم شریعت کے خلاف نہ ہومگر کسی وجہ سے نفس پر گِراں ہو تب بھی اسے مان لینے ہی میں دنیا وآخرت کی بھلائی ہے۔
(4) عقلمند شخص ہر اس کام سے بچتا ہے جس میں اپنے آپ کو ذلت و رُسوائی پر پیش کرنا پڑے۔
(5) پابندِ شریعت حکمرانوں کی اطاعت میں
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت اور ان کی نافرمانی میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی ہے۔
(6) شریعت و سنت کے مطابق عمل کرنے والا حاکم حضورنبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا جانشین ہے اورجوحاکم سنت کی مخالفت کرے اس کے لئے ہلاکت کی وعید ہے ۔(7) ∞شریعت کی مخالفت کرنے والا حاکماللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاوراس کے رسولصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذمہ سے نکل جاتا ہے اورایساحاکماللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ،اس کے فرشتوں اور تما م لوگوں کی لعنت کا مستحق ہے ۔
(8) حکمرانوں کی مخالفت اور ان سے بغاوت بہت بڑے فتنے کا سبب ہے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں نیک اور اچھے پرہیزگار حکمران نصیب کرے اور جائز امور میں ان کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 663