Main Icon

باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 665

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يقول:مَنْ خَلَعَ يَدًامِنْ طَاعَةٍ لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا حُجَّةَ لَهُ وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ في عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيْتَةً جَاهِلِيَّةً. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ:وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ مُفَارِقٌ لِلجَمَاعَةِ،فَاِنَّهُ يَمُوتُ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً.

عن ابن عمر قال:سمعت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم يقول:من خلع يدامن طاعة لقي الله يوم القيامة ولا حجة له ومن مات وليس في عنقه بيعة مات ميتة جاهلية. وفي رواية له:ومن مات وهو مفارق للجماعة،فانه يموت ميتة جاهلية.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ میں نےحضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا:”جس نےاطاعت سے ہاتھ کھینچا وہ بروزِقیامتاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی اور جو اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں بیعت نہ تھی تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ “ایک روایت میں ہے :” جو اِس حال میں مرا کہ جماعت سے دور رہنے والا تھا تو بے شک وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔“

شرح حدیث

حاکم کی اطاعت سےہاتھ کھینچناگمراہی ہے:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”جواپنے حاکم وامیر کی اطاعت چھوڑ کراس سے بغاوت کرے اورجائز کاموں میں اس کی اطاعت نہ کرےاور اس حالت میں مر ے کہ کسی سے بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرایعنی گمراہ ہوکرمرا جس طرح زمانہ جاہلیت میں لوگ جہالت پر مرتے تھے کہ کسی امیر کی اطاعت میں داخل نہ ہوتے اور امیر کی اطاعت کو عیب شمار کرتے بلکہ اُن میں جو طاقتور ہوتا وہ کمزور پر لوٹ مار کرتا۔مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ جو جماعت سے الگ ہو کر مرا وہ جاہلیت کی موت مرایعنی جو کسی کی بیعت میں داخل ہی نہ ہو یا کسی امیر کی بیعت کر نے کے بعد اس کی بیعت توڑ دے۔ یہاں جماعت سے حاکم یالشکرِ اسلام مراد ہے اور یہ بھی ہوسکتاہے کہ باجماعت نماز چھوڑ کرالگ نماز پڑھنا مراد ہو۔تو جو اِن مذکورہ صفات کا حامل ہووہ زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی طرح مرے گا کیونکہ اُن کابھی کوئی حاکم نہ ہوتا تھا جو ان کامحافظ ہو تا اور نہ کوئی ایسی جماعت تھی جوانہیں مجتمع کرتی۔ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”بیعت سے اگر خلیفہ و سلطانِ اسلام کی بیعت مراد ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ جب خلیفۂ رسول یا سلطانِ اسلام موجود ہو پھر یہ اس کی بیعت ِخلافت نہ کرے تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا اور اگر بیعت سے عام بیعت مراد ہے خواہ بیعت خلافت ہویا بیعتِ ارادت تو حدیث مطلق ہے کہ جو بغیرمرشد پکڑے مرجائے اس کی موت کُفّار کی سی ہے۔صوفیاء( کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَام) فرماتے ہیں: جس کا کوئی پیر نہیں اس کا پیر شیطان ہے۔یہ حدیث ان کی دلیل ہے۔خیال رہےکہ بیعت بہت قسم کی ہے:بیعتِ اسلام،بیعت خلافت،بیعتِ اطاعت اور بیعت ارادت۔دلیل نہ ہونے سے کیامرادہے ؟حدیث پاک میں فرمایا گیا:”امیر کی اطاعت نہ کرنے والے کے پاس بروزِقیامت کوئی دلیل نہ ہوگی۔“اس سے مراد یہ ہے کہ وہ کوئی ایسی دلیل نہ پائےگا جس کے ذریعے بوقتِ حساب حجت قائم کرسکے لہٰذا وہ عذاب اور سزا کامستحق ہوگا کیونکہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے حکمرانوں کی اطاعت وفرمانبرادری کا کتاب وسنت میں جو حکم ارشاد فرمایا وہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بہت واضح کر کے لوگوں تک پہنچا دیا ۔ اس کے بعدبھی جو ان کی اطاعت سے ہاتھ کھینچےوہ سزاکا مستحق ہے ۔نیک حکمران عطیہ خداوندی:حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جباللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکسی قوم کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہےتوحلیم وبُردبار لوگوں کوان کا حاکم،علما کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے والا اور سخیوں کو مالدار بنا دیتا ہے اور جب کسی قو م کے ساتھ بُرائی کا ارادہ فرماتا ہے تو ان کے بے وقوفوں کوان کا حاکم،جاہلوں کوان کا قاضی اور ان کے بخیلوں کو مالدار بنا دیتاہے۔“مدنی گلدستہ’’ دیانت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جس نے امیر کی اطاعت سے ہاتھ کھینچا تو بروزِ قیامت اس کے پاس کوئی دلیل وحجت نہ ہو گی ۔
(2) جو مسلمانوں کی جماعت سے دور رہے اور اسی حالت میں مر جائے تو وہ جہالت کی موت مرتا ہے ۔
(3)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے حکمرانوں کی اطاعت وفرمانبرداری کا جو حکم ارشاد فرمایا اسے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بہت واضح کر کے لوگوں تک پہنچا دیا ۔
(4) صوفیائے کرام
رَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامفرماتے ہیں کہ جس کا کوئی پیر نہیں اس کا پیر شیطان ہوتا ہے ۔
(5)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّجس قوم کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہےتوحلیم وبردبار لوگوں کوان کا حکمران،علماء کو ان کافیصلہ کرنے والا اورسخیوں کو مالدار بنا دیتا ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں نیک حکمران عطا کرے اورہمیں ان کی اطاعت وفرمانبرداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 665