Main Icon

باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 669

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُنَيْدَةَ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:سَاَلَ سَلَمَةُ بْنُ يَزِ يْدَ الْجُعْفِيُّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:يَا نَبِيَّ اللهِ اَرَءَيْتَ اِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا اُمَرَاءُ يَسْاَلُوْنَا حَقَّهُمْ وَيمْنَعُوْنَا حَقَّنَا فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَاَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَاَ لَهُ فَقَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اِسْمَعُوْا وَاَطِيْعُوا فَاِنَّمَاعَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَ عَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ.

عن ابي هنيدة وائل بن حجر رضی اللہ عنہ قال:سال سلمة بن يز يد الجعفي رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فقال:يا نبي الله ارءيت ان قامت علينا امراء يسالونا حقهم ويمنعونا حقنا فما تأمرنا؟ فاعرض عنه ثم سا له فقال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:اسمعوا واطيعوا فانماعليهم ما حملوا و عليكم ما حملتم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا اَبُوہُنَیْدَہ وائل بن حجررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضرت سلَمہ بن یزید جُعفیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی:یارسولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اگر ہم پر ایسے حکمران مقرر ہوجائیں جو ہم سے اپنے حق کاسوال کریں اور ہمارے حق سے ہمیں منع کریں تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں کیا حکم ارشاد فرماتے ہیں؟یہ سن کر حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن سے اِعراض فرمایا ۔ انہوں نےپھر سوال کیا تو فرمایا:”سنو اور اطاعت کرو،بےشک اُن پر وہ لازم ہے جس کے وہ پابند کئے گئے ہیں اور تم پر وہ لازم ہے جس کے تم پابند کئے گئے ہو۔ “

شرح حدیث

ذمہ داری میں کوتاہی کرنےپر وبال ہوگا:میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!اس حدیثِ پاک میں حُکَّام کی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم دیا گیا ہے اور ان کی مخالفت و بغاوت سے روکا گیا ہے۔ہرایک پر اپنی ذمہ داری پوری کرنا لازم ہے جو کوتاہی کرے گا اس کاوبال اسی پر ہوگا۔ اگرحکمران رعایا کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کریں تووہ جوابدِہ ہیں اور رعایاکوصبر کرنے پر ثواب ملے گااوراگر رعایا حُکَّام کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرے گی تو اس کاوبال ان پر ہوگا۔لہٰذاحُکَّام کوچاہیے کہ شریعت وسنت کے مطابق اپنی ذمہ داری نبھائیں ،اسی طرح رعایا پربھی ہرجائز حکم میں بقدرِ استطاعت حکام کی اطاعت و فرمانبرداری لازم ہے ۔مرقاۃ المفاتیح میں ہے:”حضرت سیدناابوہُنیدہ وائل بن حجررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں عرض کی کہ اگر ہم پر ایسے حکمران مسلط ہوجائیں جو ہم سےتو اطاعت وخدمت طلب کریں مگر ہمارا حق روک لیں یعنی عدل وانصاف نہ کریں اور غنیمت وغیرہ سے حصہ نہ دیں تو ایسے حکمرانوں کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ تونبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:تم ظاہراً ان کی بات سنواورباطناً ان کی اطاعت کرو، یاقولاً ان کی بات سنواور فعلاً ان کی اطاعت کرو۔بے شک ان پر عدل وانصاف اوررعایا کےحقو ق کی ادائیگی لازم ہےاور تم پر ان کی اطاعت اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف پر صبرکرنا ہے۔یہ حدیث قرآنِ کریم کی اِس آیت کی مصداق ہے:قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَۚ-فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْؕ-وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْاؕ-وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ(۵۴)(پ۱۸،النور:۵۴)ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ حکم مانواللّٰہکا اور حکم مانو رسول کا پھر اگر تم منہ پھیرو تو رسول کے ذمّہ وہی ہے جو اس پر لازم کیا گیااور تم پر وہ ہے جس کا بوجھ تم پر رکھا گیا اور اگر رسول کی فرمانبرداری کرو گے راہ پاؤ گے اور رسول کے ذمّہ نہیں مگر صاف پہنچا دینا۔
الحاصل سب پر ان حقو ق کی ادائیگی واجب ہے جن کا انہیں
مُکَلَّفبنایا گیا لہٰذاکوئی اپنی حد سے تجاوُز نہ کرے۔حکمرانوں پر جو ذمہ داریاں عائد ہیں اگر وہ ان میں کوتاہی کریں گے تو انہیں پر وبال اور گناہ ہوگا اور تم پرتمہاری ذمہ داری سننا، اِطاعت کرنا اور حقوق کی ادائیگی لازم ہے۔جب تم اپنی ذمہ داری پوری کرو گےتواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّتم پراپنا فضل وکرم فرمائے گا اور تمہیں اجر عطا فرمائے گا ۔“مرآۃ المناجیح میں ہے:”خلاصہ یہ ہے کہ اپنے حقوق کے لیے ملک کو ویران نہ کرو،بغاوت سے ملک کی ویرانی ہوتی ہے،قوم پر اَشخاص قربان ہونے چاہیے اور دِین پرتَن مَن دَھن فدا ہونے لازم ہیں۔ ان بادشاہوں اور حُکَّام پر شرعًا عدل و انصاف رعایا پروری ادائے حُقوق واجب ہے اور رعایا پر ان کی اطاعت و فرمانبرداری لازم۔ ان سے ان کی ذمہ داریوں کا سوال ہوگا اورتم سے تمہاری ذمہ داریوں کا حساب ہوگا،اگر وہ اپنے فرائض کی ادا میں کوتاہی کرتے ہیں تو تم اپنے فرائض میں کوتاہی کیوں کرو تم کو اپنی قبر میں سونا ہے ان کو اپنی قبر میں سونا۔“مدنی گلدستہ’’رمضان‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) اگر حکمران رعایا کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کریں تو رعایا پرپھر بھی جائز اُمور میں ان کی اطاعت وفرمانبرداری لازم ہے ۔
(2) حکمران اگر رعایاپر ظلم وستم کریں تو رعایا کو چاہیے کہ وہ صبر کرے جس پر انہیں اجر دیا جائے گا اور ظلم وستم کاوبال حکمرانوں کے سر ہوگا۔
(3) جب رعایا اپنی ذمہ داری پوری کرے تو
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّان پر اپنا فضل وکرم فرماتاہے ۔
(4) رعایا پر ظاہراً حُکَّام کی بات سننا اور باطناً ان کی اطاعت کرنا لازم ہے ۔
(5) رسولِ کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیروی کرنے والے کوہدایت اوردنیا وآخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمارے حکمرانوں کو نیک بنائے اور انہیں رعایا کے حقوق پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 669