- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- حدیث نمبر 669
باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 669
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ هُنَيْدَةَ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:سَاَلَ سَلَمَةُ بْنُ يَزِ يْدَ الْجُعْفِيُّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:يَا نَبِيَّ اللهِ اَرَءَيْتَ اِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا اُمَرَاءُ يَسْاَلُوْنَا حَقَّهُمْ وَيمْنَعُوْنَا حَقَّنَا فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَاَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَاَ لَهُ فَقَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اِسْمَعُوْا وَاَطِيْعُوا فَاِنَّمَاعَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَ عَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ.
عن ابي هنيدة وائل بن حجر رضی اللہ عنہ قال:سال سلمة بن يز يد الجعفي رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فقال:يا نبي الله ارءيت ان قامت علينا امراء يسالونا حقهم ويمنعونا حقنا فما تأمرنا؟ فاعرض عنه ثم سا له فقال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:اسمعوا واطيعوا فانماعليهم ما حملوا و عليكم ما حملتم.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا اَبُوہُنَیْدَہ وائل بن حجررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضرت سلَمہ بن یزید جُعفیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی:یارسولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اگر ہم پر ایسے حکمران مقرر ہوجائیں جو ہم سے اپنے حق کاسوال کریں اور ہمارے حق سے ہمیں منع کریں تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں کیا حکم ارشاد فرماتے ہیں؟یہ سن کر حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن سے اِعراض فرمایا ۔ انہوں نےپھر سوال کیا تو فرمایا:”سنو اور اطاعت کرو،بےشک اُن پر وہ لازم ہے جس کے وہ پابند کئے گئے ہیں اور تم پر وہ لازم ہے جس کے تم پابند کئے گئے ہو۔ “
شرح حدیث
ذمہ داری میں کوتاہی کرنےپر وبال ہوگا:میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!اس حدیثِ پاک میں حُکَّام کی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم دیا گیا ہے اور ان کی مخالفت و بغاوت سے روکا گیا ہے۔ہرایک پر اپنی ذمہ داری پوری کرنا لازم ہے جو کوتاہی کرے گا اس کاوبال اسی پر ہوگا۔ اگرحکمران رعایا کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کریں تووہ جوابدِہ ہیں اور رعایاکوصبر کرنے پر ثواب ملے گااوراگر رعایا حُکَّام کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرے گی تو اس کاوبال ان پر ہوگا۔لہٰذاحُکَّام کوچاہیے کہ شریعت وسنت کے مطابق اپنی ذمہ داری نبھائیں ،اسی طرح رعایا پربھی ہرجائز حکم میں بقدرِ استطاعت حکام کی اطاعت و فرمانبرداری لازم ہے ۔مرقاۃ المفاتیح میں ہے:”حضرت سیدناابوہُنیدہ وائل بن حجررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں عرض کی کہ اگر ہم پر ایسے حکمران مسلط ہوجائیں جو ہم سےتو اطاعت وخدمت طلب کریں مگر ہمارا حق روک لیں یعنی عدل وانصاف نہ کریں اور غنیمت وغیرہ سے حصہ نہ دیں تو ایسے حکمرانوں کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ تونبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:تم ظاہراً ان کی بات سنواورباطناً ان کی اطاعت کرو، یاقولاً ان کی بات سنواور فعلاً ان کی اطاعت کرو۔بے شک ان پر عدل وانصاف اوررعایا کےحقو ق کی ادائیگی لازم ہےاور تم پر ان کی اطاعت اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف پر صبرکرنا ہے۔یہ حدیث قرآنِ کریم کی اِس آیت کی مصداق ہے:قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَۚ-فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْؕ-وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْاؕ-وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ(۵۴)(پ۱۸،النور:۵۴)ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ حکم مانواللّٰہکا اور حکم مانو رسول کا پھر اگر تم منہ پھیرو تو رسول کے ذمّہ وہی ہے جو اس پر لازم کیا گیااور تم پر وہ ہے جس کا بوجھ تم پر رکھا گیا اور اگر رسول کی فرمانبرداری کرو گے راہ پاؤ گے اور رسول کے ذمّہ نہیں مگر صاف پہنچا دینا۔
الحاصل سب پر ان حقو ق کی ادائیگی واجب ہے جن کا انہیںمُکَلَّفبنایا گیا لہٰذاکوئی اپنی حد سے تجاوُز نہ کرے۔حکمرانوں پر جو ذمہ داریاں عائد ہیں اگر وہ ان میں کوتاہی کریں گے تو انہیں پر وبال اور گناہ ہوگا اور تم پرتمہاری ذمہ داری سننا، اِطاعت کرنا اور حقوق کی ادائیگی لازم ہے۔جب تم اپنی ذمہ داری پوری کرو گےتواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّتم پراپنا فضل وکرم فرمائے گا اور تمہیں اجر عطا فرمائے گا ۔“مرآۃ المناجیح میں ہے:”خلاصہ یہ ہے کہ اپنے حقوق کے لیے ملک کو ویران نہ کرو،بغاوت سے ملک کی ویرانی ہوتی ہے،قوم پر اَشخاص قربان ہونے چاہیے اور دِین پرتَن مَن دَھن فدا ہونے لازم ہیں۔ ان بادشاہوں اور حُکَّام پر شرعًا عدل و انصاف رعایا پروری ادائے حُقوق واجب ہے اور رعایا پر ان کی اطاعت و فرمانبرداری لازم۔ ان سے ان کی ذمہ داریوں کا سوال ہوگا اورتم سے تمہاری ذمہ داریوں کا حساب ہوگا،اگر وہ اپنے فرائض کی ادا میں کوتاہی کرتے ہیں تو تم اپنے فرائض میں کوتاہی کیوں کرو تم کو اپنی قبر میں سونا ہے ان کو اپنی قبر میں سونا۔“مدنی گلدستہ’’رمضان‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) اگر حکمران رعایا کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کریں تو رعایا پرپھر بھی جائز اُمور میں ان کی اطاعت وفرمانبرداری لازم ہے ۔
(2) حکمران اگر رعایاپر ظلم وستم کریں تو رعایا کو چاہیے کہ وہ صبر کرے جس پر انہیں اجر دیا جائے گا اور ظلم وستم کاوبال حکمرانوں کے سر ہوگا۔
(3) جب رعایا اپنی ذمہ داری پوری کرے تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّان پر اپنا فضل وکرم فرماتاہے ۔
(4) رعایا پر ظاہراً حُکَّام کی بات سننا اور باطناً ان کی اطاعت کرنا لازم ہے ۔
(5) رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیروی کرنے والے کوہدایت اوردنیا وآخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمارے حکمرانوں کو نیک بنائے اور انہیں رعایا کے حقوق پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 669