Main Icon

باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 671

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَنْ اَطَاعَنِي فَقَدْ اَطَاعَ اللهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللهَ وَمَنْ يُطِعِ الْاَمِيْرَ فَقَدْ اَطَاعَنِي وَمَنْ يَّعْصِ الْاَمِيْرَ فَقَدْ عَصَانِيْ.

عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ قال:قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:من اطاعني فقد اطاع الله ومن عصاني فقد عصى الله ومن يطع الامير فقد اطاعني ومن يعص الامير فقد عصاني.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریم ، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”جس نے میری اطاعت کی اس نےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت کی ،جس نے میری نافرمانی کی اس نےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی کی اورجس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اورجس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ “

شرح حدیث

حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَہَّابفرماتے ہیں:”اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اطاعت کاحکم دیا تو جس نے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نافرمانی کی اس نےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے حکم کی نافرمانی کی۔ اسی طرح رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی امیر کی اطاعت کا حکم دیا تو جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نافرمانی کی۔ یہ مُتفقہ مسئلہ ہے کہ امیر کی اطاعت انہیں کاموں میں واجب ہے جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی اورمعصیت پرمشتمل نہ ہوں۔“اتباع اور اطاعت میں فرق:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یہ حدیث اس آیتِ کریمہ کی طرف اِشارہ کررہی ہے: (مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-)(پ۵،النساء:۸۰) (ترجمۂ کنز الایمان:جس نے رسول کاحکم مانابے شک اس نےاللّٰہکا حکم مانا۔)خیال رہے کہ اطاعت تواللّٰہتعالیٰ کی بھی لازم ہے،رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بھی اورسُلطانِ اِسلام،ماں باپ، استاذ کی بھی کہ ہر بزرگ کا فرمان لائقِ عمل ہےمگرعبادت صرفاللّٰہتعالیٰ کی ہے اور کسی کی نہیں اور اتباع صرف حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہوسکتی ہے،نہ خدا تعالیٰ کی نہ کسی اور بزرگ کی۔اِتّباع کے معنیٰ ہیں کسی کے نقشِ قدم پر چلنا جو اسے کرتے ہوئے دیکھنا وہ کرنا۔قرآنِ کریم کی اتباع مجازی ہے اسی لیے قرآن مجید میں اطاعت کے ساتھ تین ذاتوں کا ذکر ہے: (اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ-)(پ۵،النساء:۵۹)(ترجمہ ٔکنزالایمان: ’’حکم مانواللّٰہکا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں۔)اورعبادت کے ساتھاللّٰہتعالیٰ کا ذکر ہےاُعْبُدُوااللّٰہ(اللّٰہکی عبادت کرو)اور اتباع کے ساتھ صرف حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ذکر ہےنہ خدا تعالیٰ کا، نہ کسی بندے کا۔یہ بھی خیال رہے کہ حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اطاعت خدا تعالیٰ کی اطاعت کی طرح مُطْلَقًا واجب ہے کہ جوبھی حکم دیں،بِلاوجہ پوچھے، بِلاوجہ سوچےسمجھے اطاعت کی جائے۔ دوسرے بندوں کی اطاعت واجب ہے جبکہ جائز کام کا حکم دیں خلافِ شرع حکم نہ دیں۔حضور کا حکم خود شریعت ہے اگر حضور نماز چھوڑنے یا نکاح نہ کرنے کا حکم دیں تو اس کے لیے وہ ہی حکمِ شرع ہے۔زمانۂ جاہلیت میں لوگ نہ امارت(حکومت)سے واقف تھے نہ قضاء (عدالت)سے،ان کے قبیلوں کے رئیس ہوتے تھے،جب اسلام نے یہ محکمے قائم فرمائے تو لوگوں کو تامّل اورتعجب ہوا تب یہ ارشادفرمایا گیا (جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی ۔۔۔الخ)تاکہ لوگ امارت و قضاء کی اہمیت جانیں۔مدنی گلدستہ’’اِطاعت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جس نے رسولُ
اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِطاعت کی اس نےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت کی۔
(2) امیر کی اطاعت میں رسولُ
اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اطاعت ہے۔
(3) اتباع کے معنیٰ ہیں کسی کے نقشِ قدم پر چلنا ، جیسا وہ کرے ویسا ہی کرنا ۔
(4) زمانہ ٔجاہلیت میں لوگ امارت وقضاءسے ناواقف تھے۔
(5) اگر بادشاہ خلافِ شرع چیزوں کا حکم دے تو اس پر گناہ اور وبال زیادہ ہوتاہےکیونکہ تمام ملک کا بوجھ اس کی گردن پر ہوتا ہے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمارے حکمرانوں کو شریعت کے مطابق چلنے کی اور ہمیں جائز اُمور میں ان کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 671