Main Icon

باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 666

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اِسْمَعُوْا وَاَطِيْعُوْا وَ اِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ كَاَنَّ رَاْسَهُ زَبِيْبَةٌ.

عن انس رضی اللہ عنہ قال:قال رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ وسلم:اسمعوا واطيعوا و ان استعمل عليكم عبد حبشي كان راسه زبيبة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا اَنَسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمنے ارشاد فرمایا:”سنواوراطاعت کرو،اگرچہ تم پرحبشی غلام کو حاکم بنا دیا جائے جس کاسر کشمش کی طرح ہو۔ “

شرح حدیث

میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو! حدیث مذکور میں حاکم کی اطاعت پر ابھارا گیاہے اگرچہ حاکم کتنی کم حیثیت والا ہو اورکتنا ہی بد صورت ہو پھر بھی اس کی اطاعت وفرمانبرداری لازم ہے کیونکہ حکام کی اطاعت لازم ہے اور ان کی مخالفت وبغاوت میں ملک و قوم کا نقصان ہے۔ اطاعت وفرمانبرداری کے لئے خوبصورتی اور جاہ و منزلت شرط نہیں بلکہ اس عہدے پر متمکن ہونا شرط ہے اب چاہے وہ کوئی خوبصورت شہزادہ ہو یا کوئی بد صورت غلام بہر صورت اس کی اطاعت لازم ہے۔ جب تک وہ قرآن وسنت کے مطابق حکم دے اس کی اطاعت ہی میں دِین ودنیا کی بھلائی ہے۔ظالم حکمران کے خلاف بھی بغاوت نہ کرے:عمدۃُالقاری میں ہے:حضرت سَیِّدُنا علامہ عبد الرحمٰن ابنِ جوزیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ یہ حدیث اُمَراء وعمّال کے بارے میں ہے،ائمہ وخلفاء کےبارے میں نہیں کیونکہ خلافت کے حقدار صرف قریش ہی ہیں کسی اور کو اس میں دخل نہیں۔اِس حدیث سےیہ بھی معلوم ہواکہ حکمران اگرچہ ظالم ہوں مگر پھربھی اُن کےخلاف بغاوت کی ممانعت ہے کیونکہ بغاوت ایسا فتنہ ہےجوجان ومال اورعزت کو ہلاک و برباد کر دیتا ہے۔حاکم کےخلاف بغاوت کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نےمحل بنایا اور شہر کو تباہ کردیا۔حبشی کہنے سے معلوم ہوا کہ غیر قریشی کی بھی اطاعت لازم ہے۔ فقہائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامفرماتےہیں:”غیر قریشی حاکم کی بھی اس وقت اطاعت کی جائے گی جب تک وہ نماز قائم کرے، جمعہ وعیدین منعقد کرائے اور جہاد کا حکم دے۔“سننے کا حکم کیوں دیا گیا؟(سنو اور اطاعت کرو)یعنی جن حکمرانوں کی اطاعت لازم وواجب ہے ان کی بات توجہ سے سنو اوران کا جوحکم شریعت کے خلاف نہ ہو اس کی تعمیل کرو کہ یہ واجب ہےکیونکہ وہ شریعت کے نائب ہیں۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ صرف اطاعت کاحکم کافی تھا سننے کاحکم کیوں دیا گیا ؟ تواس کا جواب یہ ہے کہ ان کے کلام کاسننا اس لئے واجب ہے تاکہ لوگ ان کی طرف پوری توجہ دیں اور ان کے حکم کو احسن طریقے سے پورا کر سکیں ۔ اسی لئے تو کلام پاک کی تلاوت اور خطبہ ٔجمعہ کے وقت سکوت اور صاحبِ شرع کی آواز کے سامنے اپنی آواز بلند نہ کرنے کاحکم دیا گیا ہے تاکہ سننے والے کلام کو اچھی طرح سمجھ سکیں اور ان کے احکام میں غور وفکر کر سکیں اور اس کے جملہ احکام پر عمل کر سکیں ۔(اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام امیر مقرر کر دیا جائے )یعنی تم اپنے امیر کی بات سنو اگرچہ وہ کوئی حبشی غلا م ہی کیوں نہ ہو اگرچہ فاسق وبدعتی ہو۔( اگرچہ اس کاسر کشمش کی طرح ہو)یہاں کالے پن ،حقارت اور اس کی قبیح صورت یا اس کے پستہ قد (چھوٹے قد)ہونےمیں تشبیہ دی گئی ہے یعنی اگرچہ تمہارا حاکم پستہ قد ہو ا س کا سر کشمش کی طرح ہو ، بال گھنگھریالے ہوں تب بھی اس کی اطاعت کرو۔اس پر سب کا اتفاق ہے کہ غلام کوحاکم نہ بنا یا جائے لیکن اگر کوئی غلام غلبہ پا کر کسی شہر کاحاکم بن جائے توفتنہ کے خوف کی وجہ سے اس کی اطاعت لازم ہے۔اس حدیث میں حکمران کی اطاعت پر اُبھارا گیاہے اگرچہ وہ ظالم ہی کیوں نہ ہو کیونکہ حکمران کی اطاعت میں مسلمانوں کی اِجتماعیت ،اسلام کی عزت ، دشمنوں کی بیخ کَنی ہے اورحدود کی پاسداری اور اسی طرح دیگر کئی عظیم فوائد ہیں۔مدنی گلدستہ’’جنت عدن‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) حاکم کی اِطاعت لازم ہے اگرچہ وہ بد صورت حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ۔
(2) خلافت کے حقدار صرف قریش ہی ہیں کوئی اور خلیفہ نہیں ہو سکتا۔
(3) حاکم کے خلاف بغاوت کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے محل بنوایا اور شہر کو تباہ کردیا۔
(4) حاکم کی اطاعت لازم ہے جب تک وہ نماز قائم کرائے جمعہ وعِیدَین منعقد کرائے اور جہاد کا حکم دے۔
(5) غلام کو حاکم نہیں بنایا جائے گا البتہ اگرکوئی غلام غلبہ پا کر کسی شہر کاحاکم و والی بن جائے تو پھراس کی جائز کاموں میں اطاعت کی جائے۔
(6) جو حکم شریعت کے خلاف نہ ہو اس میں حاکمِ اسلام کی اِطاعت لازم ہے اگرچہ وہ ظالم و فاسق ہی کیوں نہ ہوکیونکہ اس کے خلاف بغاوت سے ملک و قوم کی تباہی ہے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں تمام جائز اُمُور میں حاکم کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 666