Main Icon

باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 670

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّهَا سَتَكُونُ بَعْدِيْ اَثَرَ ةٌ وَاُمُورٌ تُنْكِرُوْنَهَا قَالُوْا: يَارَسُوْلَ اللّٰہ كَيْفَ تَاْمُرُ مَنْ اَدْرَكَ مِنَّاذٰلِكَ؟ قَالَ: تُؤَدُّوْنَ الْحَقَّ الَّذِيْ عَلَيْكُمْ وَتَسْاَلُوْنَ اللهَ الَّذِيْ لَكُمْ.

عن عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ قال:قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم: انها ستكون بعدي اثر ة وامور تنكرونها قالوا: يارسول اللہ كيف تامر من ادرك مناذلك؟ قال: تؤدون الحق الذي عليكم وتسالون الله الذي لكم.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عبداللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولِ اکرم، نورِمُجسَّمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:”عنقریب میرے بعدکچھ ترجیحی سلوک اور ایسے کام ہوں گے جنہیں تم ناپسند کرو گے۔“صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےعرض کی:یارسولَاللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !ہم میں سےجووہ زمانہ پائےآپ اسے کیا حکم دیتے ہیں؟فرمایا:” αتم اپنی ذمہ داری نبھانااور اپنے حقوقاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے مانگتے رہنا۔“

شرح حدیث

غیب کی خبر:اَحکامُ الاَحکام میں ہے:”یہ حدیثِ پاک ہمارے پیارےآقا،مدینے والےمصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاایک عظیم معجزہ ہےکہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےمستقبل میں پیش آنے والے واقعات کی خبر دی اور بالکل ایسا ہی ہوا جیسافرمایا۔“اِمَام نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”مستقبل میں ترجیحی سلوک اور ناپسندیدہ کاموں کے ہونے کی پیش گوئی یہ بات حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےمعجزات میں سےہے کہ اس خبر کا وقوع بار بار ہوا ہے۔حدیثِ مذکورمیں حاکم کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے پر اُبھارا گیا ہے۔ حاکم اگرچہ ظالم ہولیکن پھر بھی اس کا حق ادا کیا جائے گااوراس کے خلاف بغاوت نہ کی جائے گی۔ رعایا کو چاہئے کہ ظالم حاکم اوراس کے شر سے بچنے، اس سے حق تَلفی دور کرنے اور اس کی اصلاح کے لئےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں دعا کرے۔ ترجیحی سلوک سے مراد بیت المال میں جوحق داروں کا حق ہے اُس پر حکمرانوں کا دوسروں کو ترجیح دیناہے۔“اپنی ذمہ داری نبھانے سے مراد:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:”حدیثِ پاک میں رعایا کو تاکید کی گئی کہ ”تم اپنی ذمہ داری نبھاتے رہنا“مراد یہ ہے کہ زکوٰۃ ادا کرنا،جب جہاد کے لئے بلایا جائے تو اپنے آپ کو پیش کردینا۔تمہارے جوحقوق تمہیں نہیں دئیے جارہے ان کے لئےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں دعا کرنا ۔ حضرتِ سَیِّدُنا زیدرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:جب اپنے حقوق کے بارے میں دعا کرو تو اپنی آواز پَست رکھو، کیونکہ بلند آواز سے دعا کرنے میں ظالم حکمرانوں کےعیوب لوگوں پر ظاہر ہوں گے جوان کے لئے بے عزتی کا سبب بنیں گے اور حکمران اسے اپنے لیے گالی سمجھیں گے اوریہ مُوجِبِ فتنہ وفساد ہے۔“
میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ حکمران اپنی ذمہ داری نبھائیں یا نہ نبھائیں رعایا کو اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے جائزاُمور میں ان کی اِطاعت کرنی چاہیے، ہاں اگروہ
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی کا حکم دیں تو اُن کی اطاعت جائز نہیں کیونکہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی والے کام میں کسی کی اطاعت جائز نہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ ظالم حاکم کے ظلم پرصبرکرتے ہوئے ،اس سے خلاصی، اس کے شر سے بچنے اور اس کی اصلاح کے لئےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسےدعا کی جائے اوراپنی اصلاح کی طرف بھی بھرپور توجہ دی جائے کیونکہ رعایا کے بُرے اعمال کے سبب ہی بُرے حکمران مُسَلَّط کئے جاتے ہیں۔ لوگ حکمرانوں کو تو بُرا بھلا کہتے رہتے ہیں لیکن اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے،اگر رعایا سدھر جائےتوحکمران بھی سدھر جائیں ۔چنانچہ،بادشاہوں کا بادشاہ:حدیثِ قُدسی میں ہےکہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّارشادفرماتاہے:”میںاللّٰہہوں،میرےسواکوئی معبود نہیں، میں بادشاہوں کا مالک بادشاہ ہوں،بادشاہوں کے دل میرے دستِ قدرت میں ہیں،جب لوگ میری اطاعت کریں تو میں بادشاہوں کے دلوں کو رحمت و نرمی کی طرف پھیر تا ہوں اور جب لوگ میری نافرمانی کریں تو میں بادشاہوں کے دلوں کو ناراضی اور سزا کی طرف پھیر تا ہوں پھر وہ لوگوں کو سخت ایذائیں دیتے ہیں۔تو تم اپنے بادشاہوں کو بددعا دینے کے بجائے ذِکر اور عاجزی میں مصروف رہوتاکہ تمہارے بادشاہوں کی طرف سےمیں کافی ہو جاؤں۔“مرآۃ المناجیح میں ہے:”معلوم ہوا کہ بادشاہوں کی سختی ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے اور ظالم بادشاہوں کی معزولی یا موت کی دعائیں نہ کرو ممکن ہے اس ظالم کے بعد کوئی اور بڑا ظالم تر تم پر مُسَلَّط ہوجائے۔ وجہِ ظلم کو دور کرو یعنی گناہوں سے توبہ کرو، تم میری اطاعت کرنے لگو حُکَّام تم پر نرم ہوجائیں گے۔مدنی گلدستہ’’صالحین‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) حکمران رعایا کے حقوق ادا نہ کریں تو رعایا کو ان سے بغاوت کے بجائے
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا کرنی چاہیے۔
(2) رعایا کے بُرے اعمال کے سبب ہی بُرے حکمران مُسَلَّط کئے جاتے ہیں۔
(3) حکمران اپنی ذمہ داری نبھائیں یا نہ نبھائیں رعایا کو اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے جائزاُمور میں ان کی اطاعت لازم ہے ۔
(4) بادشاہوں کی سختی رعا یا کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے ۔
(5) اگر رعایا کی اکثریت
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے اَحکام کی پابندی کرے تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبادشاہوں کے دلوں میں رعایا کے لئے رحمت و اُلفت پیدا فرمادیتا ہے ۔
(6) ظالم بادشاہوں کو بددعا دینے کے بجائے ذِکر واِستغفار میں مشغول ہونا چاہیے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمارے حکمرانوں کو رعایا کے حقوق ادا کرنے اور رعایاکو ان کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 670