Main Icon

باب: مِل کر کھانےکابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 755

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:طَعَامُ الْاِثْنَيْنِ كَافِي الثَّلَاثَةِ، وَطَعَامُ الثَّلَاثَةِ كَافِي الْاَرْبَعَةِ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:طعام الاثنين كافي الثلاثة، وطعام الثلاثة كافي الاربعة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ”دو افراد کا کھانا تین کو کافی ہے اور تین افراد کا چار کو کافی ہے۔“

شرح حدیث

مل کر کھانے میں برکت ہے:حضرت سیدنااماممُہَلَّب رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”حدیثِ مذکور اور اسی طرح کی دیگر کئی اَحادیث میں باہم ہمدردی اوربقدرِ کفایت رزق پر قناعت کرنے پر اُبھارا گیا ہے۔ اِس حدیثِ پاک میں بیان کردہ مقدار میں حصر نہیں کہ دو کا کھانا تین ہی کو کافی ہوگا بلکہ اس بات پر تنبیہ ہے کہ جب دو آدمی کھارہے ہوں تو تیسرے کو بھی شامل کرلیں ، چوتھا آئے تو اسے بھی شامل کرلیں۔ حدیث پاک میں ہے کہ ”مل کر کھاؤ علیحدہ علیحدہ نہ کھاؤ کہ ایک آدمی کا کھانا دو کو کفایت کرتا ہے۔“ معلوم ہوا کہ مل کر کھانے کی برکت سے دو کا کھانا تین کو کفایت کرتا ہے اور جب زیادہ لوگ جمع ہوکر کھائیں گے تو برکت بھی زیادہ ہوگی۔“عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”مطلب یہ ہے کہ جتنے کھانے سے دو آدمی سیر ہو جاتے ہیں وہی کھانا تین آدمیوں کو بطورِ قناعت کفایت کرتا ہے اور اِس سے انہیں عبادت پر قوت حاصل ہوتی ہے اور کمزوری دور ہو جاتی ہے۔حدیث پاک کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ بقدرِ کفایت کھائے ، سیر ہو کر نہ کھائے اور جو ضرورت سے زیادہ ہو وہ کسی محتاج کو دے دے۔“کھانے میں محتاجوں کا حصہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حدیث پاک سے یہ مدنی سوچ ملی کہ ہمیشہ مل کر کھانا چاہیے کہ اس میں برکت ہے اور اس برکت کی وجہ سے تھوڑا سا کھانا بھی زیادہ لوگوں کو کافی ہو جاتا ہے اور بہت زیادہ سیر ہو کر کھانے سے بھی گریز کرنا چاہیے کہ اسے ناپسند کیا گیا ہے ہمیشہ بھوک سے کچھ کم کھائیں اور اپنے کھانے میں کچھ نہ کچھ حصہ غریبوں اور محتاجوں کے لیے بھی رکھیں اس سے ہماری ضرورت بھی پوری ہو گی اور وہ لوگ بھی بقدرِ کفایت پیٹ بھر سکیں گے جنہیں کھانا میسر نہیں ہوتا۔ منقول ہے کہ قحط سالی کے دوران حضرت سَیِّدُنا عمرفاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:”میں ارادہ کرتا ہوں کہ ہر گھر میں اتنے افراد (کھانے کے لیے) بھیج دوں جتنے اس گھر میں موجود ہوں کیونکہ کوئی شخص اپنی آدھی خوراک پر کفایت کرنےسے ہلاک نہیں ہوگا۔‘‘(اور دوسروں کا بھی گزارہ ہوجائے گا۔)

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 755