Main Icon

باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 522

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ:لَيْسَ الْغِنٰى عَنْ كَثرَةِ الْعَرَضِ وَ لَكِنَّ الْغِنٰى غِنَى النَّفْسِ.

عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال:ليس الغنى عن كثرة العرض و لكن الغنى غنى النفس.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم،رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’مال داری مال کی کثرت سے نہیں بلکہ مال داری دل کاغنی ہوناہے۔‘‘

شرح حدیث

شریعت نےکس مال داری کو پسند فرمایا؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’شریعت میں پسندیدہ مال داری وہ ہے جو شرعاً ممدوح،اللہ عَزَّ وَجَلَّکو راضی کرنےوالی،آخرت کا ثواب یا نفع بڑھانے اورعظمتیں حاصل کرنے کے لیے ہو۔امام قرطبیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:قابل تعریف مال داری،نفس یعنی دل کا غنی ہونا ہے کیونکہ نفس کا غنی ہونا یہ انسان کو لالچ کے مقام سے روک کر عزت و عظمت والا بنا دیتا ہے اور اس کے ذریعے انسان کواس شخص سے زیادہ خوش نصیبی، شرف اور مدح حاصل ہوتی ہے جو مال دار ہونے کے باوجود حرص کی وجہ سےفَقِیْرُ النَّفْسہی رہتا ہے کیونکہ حرص یہ انسان کو بُرے معاملات اور گھٹیااَفعال میں مبتلا کر دیتا ہے جو کہ اُس کی ہمت کی کوتاہی اور بخل و حرص کی وجہ سے ہوتا ہےاور لوگوں کی اکثریت اس کی مذمت کرتی ہے اور اس کا مرتبہ لوگوں کی نگاہ میں گر جاتا ہے،پھر وہ حقیر سے حقیر اور ذلیل سے ذلیل تر میں شمار ہوتا ہے۔ ‘‘ حاصل کلام یہ کہ جس کو نفس کے غَنا یعنی دل کے مال دارہونے سے نوازاگیا وہ اسی پر قناعت اختیار کرتا ہے جواللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کی قسمت میں لکھا۔ بلا ضرورت اس میں اضافے کا طالب نہیں ہوتا بلکہ جواللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کی قسمت میں لکھا اسی پر راضی رہتا ہے۔گویاوہ ہمیشہ سب کچھ پانے والاہےجبکہ حریص شخص اس کے بالکل برعکس ہے۔غناءِ نفس کا راستہ یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا پر راضی رہے اوراس کے حکم کو مانے یہ جانتے ہوئے کہ جو کچھاللہ عَزَّ وَجَلَّکے پاس ہے وہ بہت بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ وہ اس طرح حرص و طلب سے اِعراض کرتا ہے ۔‘‘مال داری کی حقیقت:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذِی الْجَلَالفرماتے ہیں:’’حدیث کا معنیٰ یہ ہے کہ حقیقت میں مال دار ہونا یہ نہیں کہ کسی کے پاس مال کی کثرت ہو کیونکہ بہت سے مال داروں کا حال یہ ہے کہ وہفَقِیْرُ النَّفْسہی رہتے ہیں اس طرح کہ جو مال ان کو دیا گیا وہ اس پر قناعت اختیار نہیں کرتے اور ہر وقت اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ کسی طرح مال بڑھ جائے اور انہیں اس بات کی بھی پروا نہیں ہوتی کہ مال کہاں سے آرہا ہے؟گویا شدتِ حرص کی وجہ سے (مال ہونے کے باوجود )وہ فقیر ہی ہیں غنی نہیں۔مال داری کی حقیقت تو یہ ہے کہ نفس یعنی دل غنی ہو اور وہ یہ ہے کہ انسان کو جوتھوڑا کچھ مل گیا وہ اسی پر قناعت اختیار کر لیتا ہے اور مال میں اضافے کی حرص اور طلب نہیں کرتا۔‘‘مال کی طلب فقر کو بڑھاتی ہے :اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’ نفس کے غنی ہونے سے مراد قناعت ہے اور ممکن ہے اس سے مراد وہ ہو کہ جو انسان کی حاجت کو پورا کر ے جیسا کہ شاعر کا قو ل ہے :غِنَی النَّفْس مَا یُغْنِیْکَ عَنْ سَدِّ حَاجَۃٍ………فَاِنْ زَادَ شَیْئًا عَادَ ذَاکَ الْغِنٰی فَقْرًاترجمہ: ’’نفس کا غَنا وہ ہے جو ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تجھے کافی ہوجائے، اگروہ ضرورت سے زیادہ ہو تووہی مال داری فقر میں بدل جائے گی۔‘‘ممکن ہے نفس کے غناسے مراد کمالاتِ علمیہ و عملیہ کا حصول ہو جیسا کہ ابو طیب نے اس کا معنیٰ شعر میں یوں بیان کیا ہے :وَمَنْ یُنْفِقُ السَّاعَاتِ فِیْ جَمْعِ مَالِہٖ………مَخَافَۃَ فَقْرٍ فَالَّذِیْ فُعِلَ الْفَقْرُترجمہ:’’جوشخص فقرکے ڈرسے ساراوقت مال جمع کرنے میں خرچ کرتاہے پس وہی فقر میں مبتلا ہے۔‘‘یعنی انسان کو چاہیےکہ اپنے اوقات کو غَنا حقیقی میں صَرف کرے اور وہ کمالات کو طلب کرنا ہے تا کہ غنا میں اضافہ ہوتا رہے نہ کہ مال کو طلب کرنا کیونکہ مال کی طلب فقرکو بڑھاتی ہے۔‘‘صبروقناعت کی دولت:حضرت سَیِّدُنَااحمد بن حسینرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ مَافرماتے ہیں: میں نے حضرت سَیِّدُنَا ابو عبداللہمحاملیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَ لِیکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ عید الفطر کے دن نمازِ عید کے بعد میں نے سوچا کہ آج عید کا دن ہے، کیا ہی اچھا ہوکہ میں حضرت سَیِّدُنَا داؤد بن علیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیکی بارگاہ میں حاضر ہوکر انہیں عید کی مبارک باد دوں ،آج تو خوشی کا دن ہے، ان سے ضرورملاقات کرنی چاہیے۔ چنانچہ اسی خیال کے پیشِ نظر میں حضرت سَیِّدُنَا داؤد بن علیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَ لِیکے گھر کی جانب چل دیا۔وہ سادگی پسند بزرگ تھے اور ایک سادہ سے مکان میں رہتے تھے ۔ میں نے وہاں پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایااوراندر آنے کی اجازت چاہی تو انہوں نے مجھے اندر بلا لیا۔ جب میں کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ آپرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہکے سامنے ایک برتن میں پھلوں اورسبزیوں کے چھلکے اور ایک برتن میں آٹے کی بُور(یعنی بھوسی) رکھی ہوئی تھی اور آپرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہاسے کھا رہے تھے۔ یہ دیکھ کر مجھے بڑی حیرت ہوئی، میں نے انہیں عید کی مبارک باد دی اور سوچنے لگا کہ آج عید کا دن ہے، ہر شخص اَنواع و اقسام کے کھانوں کا اہتمام کر رہا ہو گا لیکن آپرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہآج کے دن بھی اس حالت میں ہیں کہ چھلکے اور آٹے کی بھوسی کھا کر گزارہ کر رہے ہیں۔میں نہایت غم کے عالَم میں وہاں سے رُخصت ہوا اور اپنے ایک صاحب ثروَت دوست کے پاس پہنچا ، جس کانام جُرْجَانِی مشہور تھا۔جب اس نے مجھے دیکھا توکہنے لگا:’’حضور! کس چیز نے آپ کو پریشان کر دیا ہے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کی مدد فرمائے، آپ کو ہمیشہ خوش وخرم رکھے، میرے لیے کیا حکم ہے ؟‘‘میں نے کہا: ’’اے جرجانی !تمہارے پڑوس میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکا ایک ولی رہتا ہے، آج عید کا دن ہے لیکن اس کی یہ حالت ہے کہ کوئی چیز خرید کر نہیں کھا سکتا۔میں نے دیکھا کہ وہ پھلوں کے چھلکے کھا رہے تھے، تم تو نیکیوں کے معاملے میں بہت زیادہ حریص ہو، تم اپنے اس پڑوسی کی خدمت سے غافل کیوں ہو ؟‘‘یہ سن کر اس نے کہا:’’حضور! آپ جس شخص کی بات کر رہے ہیں وہ دنیا دار لوگوں سے دُور رہنا پسند کرتا ہے۔ میں نے آج صبح ہی اسے ایک ہزار درہم بھجوائے اور اپنا ایک غلام بھی ان کی خدمت کے لیے بھیجا لیکن انہوں نے میرے دراہم اور غلام کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ جاؤ اور اپنے مالک سے کہہ دینا کہ تم نے مجھے کیا سمجھ کر یہ درہم بھجوائے ہیں؟ کیا میں نے تجھ سے اپنی حالت کے بارے میں کوئی شکایت کی ہے؟ مجھے تمہارے اِن درہموں کی کوئی حاجت نہیں، میں ہر حال میں اپنے پروردگارعَزَّ وَجَلَّسے خوش ہوں، وہی میرا مقصود ِاصلی ہے، وہی میرا کفیل ہے اور وہ مجھے کافی ہے۔‘‘اپنے دوست سے یہ بات سن کر میں بہت متعجب ہوا اوراس سے کہا: ’’تم وہ درہم مجھے دو، میں ان کی بارگاہ میں یہ پیش کروں گا۔ مجھے امید ہے کہ وہ قبول فرما لیں گے۔‘‘اُس نے فوراًغلام کو حکم دیا: ’’ہزار ہزار درہموں سے بھرے ہوئے دو تھیلے لاؤ۔ ‘‘پھر اس نے مجھ سے کہا :’’ایک ہزار درہم میرے پڑوسی کے لیے اور ایک ہزار آپ کے لیے تحفہ ہیں۔ آپ یہ حقیر سا نذرانہ قبول فرما لیں۔‘‘
میں وہ دو ہزار درہم لے کر حضرت سَیِّدُنا داؤد بن علی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیکے مکان پر پہنچااور دروازے پردستک دی ،آپرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہدروازے پر آئے اور اندر ہی سے پوچھا: ’’اے ابو عبداللہمحاملی! تم دوبارہ کس لیے یہاں آئے ہو ؟‘‘ میں نے عرض کی:’’حضور! ایک معاملہ درپیش ہے، اسی کے متعلق کچھ گفتگو کرنی ہے۔‘‘پس انہوں نے مجھے اندر آنے کی اجازت عطا فرمادی میں ان کے پاس بیٹھ گیا اورپھر درہم نکال کر ان کے سامنے رکھ دیئے۔یہ دیکھ کر آپرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:’’میں نے تجھے اپنے پاس آنے کی اجازت دی اور تم میری حالت سے واقف ہو گئے۔میں تو یہ سمجھا تھا کہ تم میری اس حالت کے امین ہو ۔میں نے تم پر اعتماد کیا تھا، کیا اس اعتماد کاصلہ تم اس دنیوی دولت کے ذریعے دے رہے ہو ؟جاؤ !اپنی یہ دنیوی دولت اپنے پاس ہی رکھو، مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں ۔‘‘
حضرت سَیِّدُنَا عبد
اللہمحاملیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ ان کی یہ شانِ استغناء دیکھ کر میں واپس چلا آیا اور اب میری نظروں میں دنیا حقیر ہو گئی تھی۔ میں اپنے دوست جرجانی کے پاس گیا اسے سارا ماجرا سنایااور ساری رقم واپس کر دینا چاہی تو ا س نے یہ کہتے ہوئے وہ درہم واپس کر دیئے کہ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم ! میں جو رقماللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں دے چکا اسے کبھی واپس نہ لوں گا لہٰذا یہ مال تم اپنے پاس رکھو اور جہاں چاہو خرچ کرو۔‘‘پھر میں وہاں سے چلا آیا اور میرے دل میں مال کی بالکل بھی محبت نہ تھی، میں نے سوچ لیا کہ ’’میں یہ ساری رقم ایسے لوگوں میں تقسیم کر دوں گا جو شدید حاجت مند ہونے کے باوجود دوسروں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے بلکہ صبر و شکر سے کام لیتے ہیں اور اپنی حالت حتی الامکان کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیتے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمینمدنی گلدستہ’’فقراء‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) امیر وہ نہیں جس کے پاس مال زیادہ ہو بلکہ امیر وہ ہے جس کا دل غنی ہوا ور وہ قناعت پسند ہو ۔
(2) پسندیدہ مال داری وہ ہے جو
اللہ عَزَّ وَجَلَّکو راضی کرنےاور آخرت کا ثواب یا نفع بڑھانے کے لیے ہو۔
(3) فقیر النفس شخص مال دار ہونے کے باوجود بھی فقیر ہی رہتا ہے۔
(4) نفس کےغنی ہونے کا راستہ یہ ہےکہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا پر راضی رہے اوراس کے حکم کو مانےیہ جانتے ہوئے کہ جو کچھاللہ عَزَّ وَجَلَّکے پاس ہے وہ بہت بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔
(5) نفس کا غنی ہونا انسان کو لالچ کے مقام سے روک کر عزت و عظمت والا بنا دیتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دل کا غنا اور قناعت پسندی کی دولت نصیب فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 522