- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- حدیث نمبر 525
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ:خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فِيْ غَزَاةٍ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيْرٌ نَعْتَقِبُهُ فَنَقِبَتْ اَقْدَامُنَا وَنَقِبَتْ قَدَمِيْ وسَقَطَتْ اَظْفَارِيْ فَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى اَرْجُلِنَا الْخِرَقَ فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ لِمَا كُنَّا نَعْصِبُ عَلَى اَرْجُلِنَا مِنَ الْخِرَقَ قَالَ اَبُو بُرْدَةَ: فَحَدَّثَ اَبُوْ مُوسَى بِهٰذَا الْحَدِيثِ ثُمَّ كَرِهَ ذٰلِكَ وَقَالَ:مَا كُنْتُ اَصْنَعُ بِاَنْ اَذْكُرَهُ!قَالَ:كاَنَّهُ كَرِهَ اَنْ يَكُوْنَ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ اَفْشَاهُ.
عن ابی بردۃ عن ابي موسى الاشعري رضی اللہ عنہ قال:خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزاة ونحن ستة نفر بيننا بعير نعتقبه فنقبت اقدامنا ونقبت قدمي وسقطت اظفاري فكنا نلف على ارجلنا الخرق فسميت غزوة ذات الرقاع لما كنا نعصب على ارجلنا من الخرق قال ابو بردة: فحدث ابو موسى بهذا الحديث ثم كره ذلك وقال:ما كنت اصنع بان اذكره!قال:كانه كره ان يكون شيئا من عمله افشاه.
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا ابوبردہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضرت سَیِّدُنَاابوموسٰی اَشعریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:ہم ایک غزوہ میں حضورنبی پاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ نکلےاوراس میں ہم میں سے چھ افراد کے لیے ایک ہی اونٹ تھا جس پر ہم باری باری سوار ہوتے، اس لیے(پیدل چل چل کے) ہمارے پاؤں زخمی ہو گئے،میرا پاؤں بھی زخمی ہو گیا اور ناخن بھی جھڑ گئے، ہم نے اپنے پاؤں پر پٹیاں باندھ رکھی تھیں،اس غزوہ کوذَاتُ الرِّقَاعْ(یعنی پٹیوں والی جنگ)اسی وجہ سے کہا جاتا ہےکہ ہم نے اپنے پاؤں پر پٹیاں باندھی تھیں۔حضرت سَیِّدُنَاابو بُرْدَہْرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:حضرت سَیِّدُنَاابو موسیٰ اشعریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ حدیث بیان فرمائی، پھر اس کا بیان کرنا نا پسند کیا اور فرمایا:’’اس حدیث کو میں کس مقصد کے لیے بیان کروں گا؟‘‘راوی کہتے ہیں:’’گویا آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے عمل کو ظاہر کرناناپسند جانا۔ ‘‘
شرح حدیث
غزوہ ذات الرقاع کا سبب:دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب”سیرتِ مصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم“ میں غزوہ ذاتُ الرقاع کا سبب یہ بیان ہواکہ ’’قبائل ”انمار و ثعلبہ“ نے مدینہ پر چڑھائی کرنے کا اِرادہ کیا جب حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکو اِس کی اطلاع ملی توآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمنے چارسوصحابہ کرامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْکالشکر اپنے ساتھ لیا اور۱۰محرم سن ۵ہجری کو مدینہ سے روانہ ہو کر مقامِ”ذاتُ الرقاع“ تک تشریف لے گئے لیکن آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی آمد کا حال سن کر یہ کفار پہاڑوں میں بھاگ کر چھپ گئے اس لئے کوئی جنگ نہیں ہوئی۔مشرکین کی چند عورتیں ملیں جن کو صحابہ کرامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْنے گرفتارکرلیا۔اس وقت مسلمان بہت ہی مفلس اور تنگ دستی کی حالت میں تھے۔“حدیث پاک کی باب سے مناسبت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک کی باب کے ساتھ مناسبت اس طرح ہے کہ دشوار گزار سفر میں چھ آدمیوں کی سواری کے لیے ایک ہی اونٹ تھا،اسی پر قناعت اختیار کرتے ہوئے صحابہ باری باری سوار ہوتےچونکہ سوار زیادہ تھے اور سواری ایک اس لیے کافی سفر پیدل طے کرنے کے بعد اونٹ پر سوار ہونے کا موقعہ ملتااور یہ بات صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے ایثار، تکلیف پر صبر اور قناعت کو واضح کرتی ہے۔ذاتُ الرقاع کہنے کی وجوہات:*’’ذَاتُ الرِّقَاع کہنے کی ایک وجہ حدیثِ پاک میں گزری کہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اپنے زخموں پر پٹیاں باندھی تھیں یہی وجہ صحیح ہے۔*وہاں ایک پہاڑ تھا جس میں سیاہی،سفیدی اور سرخی تھی اس وجہ سے اس کو ذاتُ الرِّقَاع کہتے ہیں۔*وہاں ذاتُ الرِّقَاع نام کا ایک درخت تھا۔*ان کے جھنڈوں میں پیوند لگے ہوئے تھے اس وجہ سے اس کو غزوہ ذاتُ الرِّقَاع کہتے ہیں۔*اور یہ بھی احتمال ہے کہ ان تمام چیزوں کے مجموعہ کی وجہ سے اس غزوہ کا نام ذاتُ الرِّقَاع رکھا ہو۔‘‘نیک اَعمال کو چھپانا:حضرت سَیِّدُنَاابوموسٰیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ حدیث بیان فرمائی پھر اس حدیث کو بیان کرنا ناپسند جانا۔ اس سے معلوم ہوا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت وفرمانبرداری میں پیش آنے والی مشکلات اور نیک عمل کو چھپانا مستحب ہے اور بغیر کسی مصلحت کے اپنے کسی نیک عمل کو ظاہر نہ کیا جائےالبتہ اگر اس نیک عمل کا حکم بیان کرنا ہو یا اس کی اقتدا پر کسی کو اُبھارنا ہو تو پھر اُس عمل کا اِظہار اِستحباب کے خلاف نہیں۔تکالیف پر صبر کی فضیلت:غزوۂ ذات الرقاع کے سفر میں صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑا حتّٰی کہ ان کے پاؤں زخمی ہوگئے لیکن زبان پر ذرہ برابر شکوہ نہ لائے بلکہ راہِ خدا میں پہنچنے والی اس تکلیف پر صبر وشکر سے کام لیا۔اس حدیث میں ان تمام مسلمانوں کے لیے درسِ عبرت ہے جو چھوٹی چھوٹی تکالیف پر صبر کرنے کی بجائے واویلا شروع کردیتے ہیں، بے صبری کا مظاہرہ کرکے صبر کے عظیم اجر سے محروم ہوجاتے ہیں،راہِ خدا میں پہنچنے والی تکالیف پر صبر کرنا انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام،حضور رحمتِ عالَمیان، سرورِذیشانصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سنت ہے۔تکالیف پر صبر کرنے کی بھی احادیث میں بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں تین فرامین مصطفےٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ کیجئے: (1)’’جو صبر کرنا چا ہے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاسے صبر کی توفیق عطا فرمادے گا اور صبرسے بہتر اور وسعت والی عطا کسی پر نہیں کی گئی۔‘‘(2)’’جباللہ عَزَّ وَجَلَّکسی سے محبت فرماتا ہے تو اسے آزمائش میں مبتلا فرماتا ہے، لہٰذاجوصبرکرے اس کے لئے صبر ہے اور جو چیخے چلاّئے(یعنی بے صبری کرے) اس کے لئے چیخنا ہی ہے۔‘‘( ) (3)’’مؤمن کے معاملے پرتعجب ہے کہ اس کا سارامعا ملہ بھلائی پرمشتمل ہے اور یہ صرف اُسی مؤمن کے لئے ہے جسے خو شحالی حاصل ہوتی ہے تو شکر کرتاہے کیونکہ اس کے حق میں یہی بہتر ہے اور اگر تنگدستی پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے۔‘‘دوسروں کے سامنے عمل ظاہر کرنے کا نقصان:حضرت سَیِّدُنا ابومُوسٰی اَشعریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے نیک اَعمال کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا پسند نہ فرمایا، یہ آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے اخلاص پردلالت کرتا ہے۔ اعمال میں اخلاص اور للہیت یعنی فقطاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے کوئی کام کرنا ایک بہت بڑی نعمت ہے جو خوش نصیبوں کو عطا ہوتی ہے، حضرت سَیِّدُنَا ابوموسیٰ اشعریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے اِس مبارک عمل میں ہمارے لیے عبرت کے کثیر مدنی پھول ہیں کیونکہ اَوّلاً تو ہم کوئی نیک عمل کرتے ہی نہیں اور اگر کرتے بھی ہیں تو نفس وشیطان کے دھوکے میں آکر لوگوں کے سامنے اُس کا اظہار کردیتے ہیں جس سے اُس عمل کا اخلاص ختم ہوجاتا ہے اور اس عمل کے اجروثواب میں بھی کمی ہوجاتی ہے، بلکہ لوگوں کے سامنے باربار اظہار کرنے کے سبب اسے ریاکاری میں بھی لکھ دیا جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنَاابودرداءرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولِ اکرم،شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمايا :’’بے شک عمل کر کے اسے ریا کاری سے بچاناعمل کرنے سے زیادہ مشکل ہے اور آدمی عمل کرتا ہے تواس کے لئے ایسا نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے جو تنہائی میں کيا گيا ہوتا ہے اور اس کے لئے ستر گنا ثواب بڑھا ديا جاتا ہے۔ پھر شيطان اس کے ساتھ لگا رہتا ہے (اور اُ کسا تا رہتا ہے ) يہاں تک کہ وہ آدمی اس عمل کا ذکر لوگوں کےسامنے کر دیتا ہے،اسے ظاہر کرتا ہے تواب اس کے لئے یہ عمل(مخفی کے بجائے)عَلَا نیہ لکھ دياجاتا ہے اور اَجر میں ستر گنا اضافہ مٹا دیا جا تا ہے۔ شیطان پھر اس کے ساتھ لگا رہتا ہےیہاں تک کہ وہ دوسری مرتبہ لوگوں کے سامنے اس عمل کا ذکر کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ لوگ بھی اس کا تذکرہ کر یں اوراس عمل پر اس کی تعريف کی جائے تو اسے علانيہ سے بھی مٹا کر رياکاری لکھ دياجاتاہے۔ پس بندہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرے ، اپنے دين کی حفاظت کرے اوربے شک رياکاری شرک(اصغر) ہے۔‘‘علامہ عبدالغنی نابلسیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیہمیں سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں:’’جب ریاواخلاص میں سے ہرایک میں شیطانی چالیں اور دھوکہ بازیاں ہيں تو تجھے بیداررہنالازم ہے پس اگرتجھے پتانہ چلے کہ تو مخلص ہے یاریا کارتو پھرتجھے اپنے نیک اعمال چھپاناہی بہتر ہے کہ اس میں تیرے لئے کسی قسم کا نقصان نہیں۔‘‘
میرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو
کر اِخلاص ایسا عطا یاالٰہیمدنی گلدستہ’’عبادت ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) قناعت، ایثار، تکالیف پر صبر کرنا صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سنت ہے۔
(2) اَعمال میں اخلاص بہت ضروری ہے، بلا وجہ اپنے نیک اعمال کسی دوسرے پر ظاہر نہیں کرنے چاہئیں کہ بسا اوقات اس سے اس نیک عمل کے اجر میں کمی اورکبھی ریاکاری میں بھی شمار کرلیا جاتا ہے۔
(3) اپنے نیک اعمال کو لوگوں سے چھپانا مستحب ہے ۔
(4) راہِ خدا میں پیش آنے والی مشکلات کو لوگوں کے سامنے ترغیباً بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(5) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سیرتِ طیبہ سے یہ درس ملتا ہے کہ مشکل وقت میں اپنی راحت کے حصول کے لیےدوسروں کو تکلیف دینے کی بجائے صبر و قناعت سے کام لینا چاہیے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں صحابہ کرام کی سیرت پر عمل کرنے اور صبر و قناعت کی دولت نصیب فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 525